سارے جہاں سے اچھا : گنگا جمنی تہذیب کی مثالی کہانیاں

Story by  ایم فریدی | Posted by  Shah Imran Hasan | 1 Years ago
سارے جہاں سے اچھا  : گنگا جمنی تہذیب کی مثالی کہانیاں
سارے جہاں سے اچھا : گنگا جمنی تہذیب کی مثالی کہانیاں

 

 

 شاہ عمران حسن : آواز دی وائس

 سونے کی چڑیا کہلانے والے ہندوستان کی سب سے بڑی طاقت اس کی گنگا جمنی تہذیب ہے۔ جو کسی بھی قوم یا تہذیب کے لیے سب سے بڑی طاقت بھی ہوتی ہے۔ اس ملک میں مذہبی رواداری اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی ہمیشہ ایک مثال رہی ہے ۔ملک کسی گلدستہ کی مانند ہے جس میں طرح طرح کے پھول اپنی اپنی انفرادیت بیان کرتے ہیں ۔ اس ملک میں گنگا جمنی تہذیب کی جڑیں بہت گہری ہیں یہی وجہ ہے کہ ملک آج بھی اپنی مضبوط بنیادوں پر کھڑا ہے۔

 ہندوستا ن کے عوام  دنیا کے لیے اس لیے ایک مثال رہے ہیں کیونکہ ایک دوسرے کے عقیدے اور مذہب  کا احترام کرتے ہیں اور ایک دوسرے کی خوشیوں میں شریک رہتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ بڑا سے بڑا طوفان آجائے ملک کی اپنی پہچان جوں کی توں رہتی ہے۔

۔سال 2022 بھی اس ضمن میں بہت ہی یادگار رہا، کیوں کہ اس سال کئی ایسے واقعات رونما ہوئے جنھوں نے بتایا کہ مذہب سے اوپر اٹھ کرسوچیں اور ایسے کام کریں جو سب کی بھلائی کے لیے ، سماج میں بھائی چارہ اور اتحاد کے لیے ہو۔

آواز دی وائس کی جانب سے نئے سال کے موقع پر ان اہم کارناموں میں سے چند کا ذکر کیا جا رہا ہے۔

   awazthevoice

ہبہ فاطمہ

 ریاست تلنگانہ کے ضلع نظام آباد سے تعلق رکھنے والی  طالبہ ہبہ فاطمہ نے بہت ہی اہم کارنامہ انجام دیا ہے۔ انہوں نےصرف تین ماہ کے قلیل عرصے میں بھگوت گیتا کا اردو میں ترجمہ کرتے ہوئے ایک ریکارڈ قائم کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ  تمام مذاہب انسانیت کی تعلیم دیتے ہیں ۔کوئی بھی شخص بہترین مسلمان، ہندو، سکھ اور عیسائی ہرگز نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ ایک بہترین انسان نہ ہو۔

ہبہ فاطمہ کی جدو جہدکی تفصیلی کہانی پڑھنے کے لیے کلک کریں: ہبہ فاطمہ نے کیا گیتا کا اردو ترجمہ ،  ہبہ فاطمہ کو ملا انعام

awazthevoice

 تنویر محبوب

ایسا کہا جاتا ہے کہ سنسکرت سب سے قدیم زبان ہے۔ اگرچہ دور جدید میں اس زبان کے جاننے والے کم ہوتے جا رہے ہیں، تاہم ایسے بھی طلبا ہیں، جو نہ صرف اس زبان میں دلچسپی لیتے ہیں بلکہ اس میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ بھی کرتے ہیں۔ سنسکرت ایک ایسی زبان ہے جس میں ہندوستانی مسلمان شاید ہی دلچسپی لیتے ہیں، اکثر اسے مندروں اور پاٹھ شالاوں کی زبان قرار دیتے ہیں۔ حالانکہ اس حقیقت کے باوجود کہ مسلم سنسکرت اسکالرز جیسے ڈاکٹر محمد حنیف خان شاستری، پنڈت غلام دستگیر اور دیگر موجود ہیں۔ اب کوئی پسند کرے یا نہ کرے لیکن زبان سے عشق کرنے والوں کی کمی نہیں - ایسے لوگوں کی کمی نہیں جنہوں نے سنسکرت، کو گلے لگایا ہو- ایسا ہی ایک نام تنویر محبوب کا ہے-

ریاست آسام کے شہر گوہاٹی سے تعلق رکھنے والے طالب تنویر محبوب بھی ایک ہیں،جنہیں سنسکرت زبان سے جنون کی حدتک عشق ہے۔ انہوں نے دسویں کے امتحان میں سنسکرت زبان میں صدفی صدنمبرات حاصل کرکے یہ ثابت کردیا ہے کہ سنسکرت آج بھی زندہ ہے۔ وہیں انہوں نے یہ بھی ثابت کردیا ہے کہ سنسکرت زبان کسی خاص کمیونٹی یا مذہب کی زبان نہیں ہے بلکہ یہ صرف اظہار خیال کا ذریعہ ہیں۔

محبوب تنویر کے بارے میں مزید جاننےکے لیے کلک کریں: تنویر محبوب نے 'پرفیکٹ 100'کے ساتھ گاڑا'سنسکرت' میں پرچم

awazthevoice

 توصیف رحمان

توصیف رحمان کولکتہ کےایک نوجوان ،ملک کے لیے فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور اتحاد کی علامت بن گیا۔ ملک کے موجودہ حالات میں نہ صرف مذہبی رواداری کی علامت بن گئے ہیں بلکہ دنیا کے لیے ایک مثال بھی قائم کی ہے۔ آپ کو معلوم ہے کہ درگاہ پوجا کے  تہوار کو ہر سال تزک و احتشام سے منایا جاتا ہے ۔ کولکاتہ کے علیم الدین اسٹریٹ پر رہنے والے نوجوان توصیف رحمان نے علاقہ میں آباد واحد بنگالی سین خاندان  کے جذبات اور خواہشات کا احترام کرتے ہوئے درگا پوجا کا اہتمام کرایاتاکہ بنگالی خاندان آسانی سے تہوار منا سکے۔ اور اپنے علاقے میں درگاہ پوجا کی چمک دمک سے محروم نہ ہو سکے۔ 

توصیف رحمان کے بارے میں مزید جاننے کے لیے کلک کریں:توصیف رحمان کا مثالی قدم

awazthevoice

شیخ مشتاق علی اورعبدالغنی 

 یہ کہانی بھی بنگال کی ہے جہاں ایک خاندانی درگاہ پوجا کو جاری رکھنے کے لیے  گاوں کے مسلمانوں نے بھی ہندوووں کے ساتھ کندئے سے کندھا ملا کر محنت اور کوشش کی۔ آشگرام میں ماضی میں ایک رئیس بنگالی خاندان درگاپوجا کا اہتمام کرتا تھا جوکہ ’’منڈل درگا پوجا‘ کے نام سے مشہور تھی۔ اس زمانے میں یہ پوجا صرف منڈل خاندان کی پوجا کے نام سے مشہور تھی۔ دور دور سے لوگ اسے دیکھنے آتے تھے۔ اس علاقے کے لیے شان تھی۔

مگر ایک وقت ایسا آیا جب اس خاندان کا زوال ہوا ،حالات خراب ہوگئے اور اتنے پیسے نہیں بچے کہ ہر سال منڈل پوجا کا اہتمام ہر سال کی مانند ہوسکے ۔ اس وقت کچھ ایسا ہوا جس کے بارے میں منڈل خاندان نے سوچا نہیں تھا۔ گاوں والے سامنے آئے جس میں صرف ہندو نہیں بلکہ مسلمان بھی تھے۔

شیخ مشتاق علی عبدالغنی کے بارے میں پڑھنے کے لیے کلک کریں: ہندو اور مسلمان ہوگئے متحد

awazthevoice

ثانیہ زہرہ 

ہمارے ملک میں جدھر نظر ڈالئے گنگا جمنی  تہذیب کا عملی نمونہ دکھائی دیتا ہے۔مذہب کے  نام پر یہاں تفریق نہیں ہے، الگ الگ مذہب کا ہونے کے باجود لوگ ایک دوسرے کا احترام کرتے ہیں اور ایک دوسرے کی مقدس ہستیوں کے تئیں عقیدت رکھتے ہیں۔حال میں ہمیں اس کی نمائندہ ریاست مہاراشٹر کے دارالحکومت ممبئی کے علاقہ ڈونگری میں دکھائی دیتی ہے۔ جہاں  ایک مسلم شیو سینک نے ہندووں کے دیوتا گنیش کی تصویر بنائی ہے۔اس تصویر کو سید امتیاز حسین اور ان کی صاحبزادی تانیہ زہرہ نے بنایا  ۔

سید امتیاز حسین نے آواز دی وائس سےگفتگو کے دوران مزید کہا کہ ہمارا مقصد اور کوشش صرف اتنی ہے کہ اردو اور اردو فن خطاطی کے فروغ کے ساتھ ساتھ ہندو مسلم اتحاد و اتفاق کا پیغام بھی لو گوں تک پہنچے ۔

پوری جانکاری کے لیے لنک پر کلک کریں:شر ی گنیش کا پورٹریٹ : مسلم شیو سینک کی خطاطی کا نمونہ بھی تحفہ بھی