ہندوستان کے لیے عالمی بیلٹ جیتنے کا خواب۔ کشمیر ی ایم ایم اے فائٹر اویس یعقوب

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 12-08-2026
ہندوستان کے لیے بیلٹ جیتنے کا خواب۔ کشمیر ی ایم ایم اے فائٹر اویس یعقوب
ہندوستان کے لیے بیلٹ جیتنے کا خواب۔ کشمیر ی ایم ایم اے فائٹر اویس یعقوب

 



سری نگر | آواز دی وائس

’’مجھے بیلٹ چاہیے۔ ہندوستان کے لیے بیلٹ چاہیے۔ ہندوستان میری بیلٹ کا انتظار کر رہا ہے۔‘‘

کشمیر کے پلوامہ ضلع کے ایک چھوٹے سے گاؤں مرن سے نکلنے والے ایم ایم اے فائٹر اویس یعقوب کے یہ الفاظ اب صرف ایک فائٹر کے عزم کی ترجمانی نہیں کرتے بلکہ ہندوستانی ایم ایم اے کے ایک بڑے خواب کی آواز بن چکے ہیں۔اویس یعقوب نے بلغاریہ میں اپنے حالیہ مقابلے میں میزبان ملک کے مضبوط فائٹر ڈیلیان کے خلاف شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پہلے ہی راؤنڈ میں تقریباً 4 منٹ کے اندر مقابلہ ختم کر دیا۔ اس کامیابی کے ساتھ انہوں نے نہ صرف اپنی عالمی درجہ بندی بہتر کی بلکہ ہندوستانی ایم ایم اے کے شائقین کی امیدوں کو بھی نئی بلندی دی۔

آواز دی وائس کے لیے یاسمین خان کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں اویس یعقوب نے اپنی کامیابی۔ کشمیر سے عالمی سطح تک کے سفر۔ مشکلات۔ شکست سے ملنے والے سبق۔ خبیب نورماگومیدوف کی ٹیم سے تربیت۔ ہندوستان کے لیے عالمی اعزاز جیتنے کے خواب اور ایم ایم اے کے مستقبل کے بارے میں تفصیل سے بات کی۔

پلوامہ سے عالمی اسٹیج تک کا سفر

اویس یعقوب کا تعلق پلوامہ کے مرن علاقے سے ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک وقت میں انہوں نے کبھی یہ تصور بھی نہیں کیا تھا کہ وہ پیشہ ور فائٹر بنیں گے۔انہوں نے ابتدا میں تھانگ ٹا۔ کراٹے۔ تائیکوانڈو اور دیگر مارشل آرٹس میں حصہ لیا۔ وہ اسپورٹس کونسل کے تحت کئی قومی سطح کے مقابلوں میں بھی شریک ہوئے۔ تاہم انہیں محسوس ہوا کہ ان کھیلوں میں مقابلے کے دوران کچھ ایسی پابندیاں موجود ہیں جو انہیں اپنی حقیقی فائٹنگ صلاحیت آزمانے سے روکتی ہیں۔

اسی تلاش نے انہیں ایم ایم اے تک پہنچایا۔

سال 2017 میں انہوں نے ایم ایم اے کو سنجیدگی سے اپنانے کا فیصلہ کیا۔ اس وقت کشمیر میں حالات آسان نہیں تھے۔ انٹرنیٹ کی بندش۔ کووڈ وبا اور روزگار کے محدود مواقع نے ان کے سفر کو مزید مشکل بنا دیا۔اویس کے مطابق اس وقت سب سے بڑا سوال یہ تھا کہ کیا ایم ایم اے کو پیشے کے طور پر اختیار کرکے روزی کمائی جا سکتی ہے یا نہیں۔لیکن انہوں نے خطرہ مول لیا۔2022 میں انہوں نے پیشہ ورانہ کیریئر کا آغاز کیا۔ اس سے پہلے ایک ایسے مقابلے میں بھی حصہ لیا جہاں ایک ہی رات میں 5 فائٹس جیتنا ضروری تھا۔ اویس نے پانچوں مقابلے جیتے اور پھر پروفیشنل فائٹر کے طور پر اپنے سفر کا آغاز کیا۔

والدین کو بھی ابتدا میں یقین نہیں تھا

اویس کہتے ہیں کہ ان کے والدین بھی شروع میں ان کے فیصلے سے مطمئن نہیں تھے۔عام طور پر کشمیری خاندان اپنے بچوں کو ڈاکٹر۔ انجینئر یا سرکاری ملازمت کی طرف لے جانا چاہتے ہیں۔ فائٹنگ کو ایک پیشے کے بجائے شوق سمجھا جاتا ہے۔اویس نے بتایا کہ جب انہوں نے شاہ ہمدان اسکول میں بچوں کو مارشل آرٹس سکھانا شروع کیا تو گھر والے بھی سوال کرتے تھے کہ جب انہوں نے خود ابھی کچھ حاصل نہیں کیا تو دوسروں کو کیا سکھا رہے ہیں۔لیکن اویس نے اپنا راستہ نہیں بدلا۔وقت کے ساتھ ان کی کامیابیوں نے ان کے خاندان کی سوچ بھی بدل دی۔ آج ان کے والدین ان کے سب سے بڑے حامیوں میں شامل ہیں۔

شکست نے اویس کی زندگی بدل دی

اویس یعقوب کے کیریئر میں ایک شکست بھی آئی جسے وہ آج اپنی زندگی کی نعمت قرار دیتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ اس وقت انہیں لگتا تھا کہ وہ اپنی بہترین سطح پر پہنچ چکے ہیں۔ انہیں یقین تھا کہ ان سے بہتر کوئی فائٹر نہیں۔اسی اعتماد نے ان کے اندر غرور پیدا کیا۔ایک مقابلے میں وہ پہلے 2 راؤنڈز میں حاوی رہے لیکن تیسرے راؤنڈ میں ان کے حریف نے انہیں چوک ہولڈ میں پھنسا کر شکست دے دی۔اس شکست نے اویس کو یہ احساس دلایا کہ فائٹنگ میں چند سیکنڈ بھی پورے مقابلے کا رخ بدل سکتے ہیں۔اسی شکست کے بعد انہوں نے داغستان جانے اور وہاں سخت تربیت حاصل کرنے کا فیصلہ کیا۔وہ کہتے ہیں کہ اگر وہ مقابلہ نہ ہارتے تو شاید کبھی داغستان نہ جاتے۔داغستان میں انہیں صرف فائٹنگ ہی نہیں بلکہ ایک ایسی ثقافت بھی ملی جو انہیں کشمیر سے بہت قریب محسوس ہوئی۔ پہاڑ۔ کھانا۔ لوگوں کی مہمان نوازی اور کئی روایات انہیں کشمیر کی یاد دلاتی تھیں۔اس تجربے کے بعد اویس نے خود کو نئے سرے سے تیار کیا۔آج وہ مسلسل 6 فائٹس جیت چکے ہیں اور اپنی آخری 4 فائٹس ختم بھی کر چکے ہیں۔

خبیب کی ٹیم نے فائٹنگ سے زیادہ سوچنے کا انداز بدلا

اویس یعقوب اس وقت دنیا کی معروف ایم ایم اے ٹیموں میں سے ایک خبیب نورماگومیدوف کی ٹیم کے ساتھ تربیت کر رہے ہیں۔ان کے مینٹور جیویئر مینڈیز ہیں جو خبیب کے کوچ بھی رہ چکے ہیں۔ اسی ٹیم سے خبیب نورماگومیدوف۔ اسلام ماخاچیف۔ کمارو عثمان اور عمر نورماگومیدوف جیسے بڑے فائٹر وابستہ رہے ہیں۔اویس کے مطابق خبیب کی ٹیم سے انہیں سب سے بڑا سبق تکنیک کے بجائے ذہنی مضبوطی کا ملا۔وہ کہتے ہیں کہ فائٹ سے پہلے انہیں اکثر یہ سوچ پریشان کرتی تھی کہ حریف کے خلاف کس طرح لڑنا ہے۔ ایڈرینالین بڑھ جاتا تھا اور ذہنی دباؤ پیدا ہوتا تھا۔لیکن خبیب اور ان کی ٹیم نے انہیں سکھایا کہ فائٹر صرف اپنی تربیت۔ نظم و ضبط اور تیاری کو کنٹرول کر سکتا ہے۔ نتیجہ اس کے ہاتھ میں نہیں ہوتا۔اویس کے لیے یہ سوچ مذہبی یقین سے بھی جڑی ہوئی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے حالیہ مقابلے میں یہی اصول اپنایا۔ انہوں نے اپنی تمام تیاری مکمل کی اور پھر نتیجہ اللہ کے سپرد کر دیا۔

پورا اسٹیڈیم حریف کے ساتھ تھا

بلغاریہ میں ہونے والی فائٹ اویس کے لیے اب تک کے کیریئر کا سب سے بڑا امتحان تھی۔ان کے حریف ڈیلیان 2 مرتبہ آئی ایم ایم اے ایف ورلڈ چیمپئن رہ چکے تھے اور یورپی چیمپئن بھی تھے۔اویس نے اعتراف کیا کہ فائٹ سے قبل ان پر دباؤ تھا۔ زیادہ تر شائقین ان کے حریف کی حمایت کر رہے تھے اور وہاں ہندوستانی یا کشمیری شائقین کی موجودگی نہ ہونے کے برابر تھی۔لیکن اویس نے اپنے ذہن کو پرسکون رکھا۔انہوں نے حریف کی کمزوریوں کا جائزہ لیا۔ اپنی حکمت عملی تیار کی اور موقع ملتے ہی فائٹ ختم کرنے کے ارادے سے پنجرے میں اترے۔نتیجہ سب کے سامنے تھا۔تقریباً 4 منٹ کے اندر فائٹ ختم ہوگئی۔فتح کے بعد اویس نے سجدہ شکر ادا کیا اور اللہ کا شکر ادا کیا۔

’’ہندوستان میری بیلٹ کا انتظار کر رہا ہے‘‘

فائٹ سے قبل اویس کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوئی جس میں وہ جوش کے ساتھ کہہ رہے تھے۔’’مجھے بیلٹ چاہیے۔ ہندوستان کے لیے بیلٹ چاہیے۔ ہندوستان میری بیلٹ کا انتظار کر رہا ہے۔‘‘اویس کے مطابق یہ صرف ان کا ذاتی جذبہ نہیں تھا بلکہ ہندوستانی ایم ایم اے کمیونٹی کی امیدوں کی آواز تھی۔ان کا کہنا ہے کہ بڑے عالمی ایم ایم اے مقابلوں میں ابھی تک ہندوستان کو وہ عالمی چیمپئن نہیں ملا جس کا شائقین انتظار کر رہے ہیں۔اویس کا مقصد اسی خلا کو پُر کرنا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اگر ایک ہندوستانی فائٹر عالمی تنظیم میں ہندوستانی پرچم کے ساتھ داخل ہو اور پہلے راؤنڈ میں مقابلہ ختم کرے تو دنیا کی توجہ ہندوستانی ایم ایم اے کی طرف جائے گی۔وہ سمجھتے ہیں کہ ہندوستان میں بہت زیادہ صلاحیت موجود ہے اور اب وقت آگیا ہے کہ اس صلاحیت کو عالمی سطح پر پہچان ملے۔

کشمیر کی شناخت بھی ساتھ لے کر چلتے ہیں

اویس کی خاص بات یہ بھی ہے کہ وہ بین الاقوامی مقابلوں میں کشمیر کی روایتی شناخت کو اپنے ساتھ لے کر جاتے ہیں۔ایک یورپی ملک کے پہلے سفر کے دوران جب ان کے ساتھ کوئی کشمیری یا ہندوستانی فائٹر نہیں تھا تو انہوں نے روایتی کراکلی پہننے کا فیصلہ کیا۔ان کے مطابق وہ چاہتے تھے کہ انہیں ایسا محسوس ہو کہ کشمیر بھی ان کے ساتھ ہے۔انہوں نے کشمیر کی مہمان نوازی اور ثقافت کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کی۔اویس کہتے ہیں کہ وہ چاہتے ہیں کہ عالمی سطح پر لوگ کشمیر کو اس کی مہمان نوازی۔ شائستگی۔ ثقافت اور روایات کے حوالے سے جانیں۔ان کے لباس نے بھی لوگوں کی توجہ حاصل کی اور کئی افراد نے ان کے ساتھ تصاویر بنوائیں۔

حکومت سے شکایت بھی ہے

اپنی شاندار کامیابی کے باوجود اویس یعقوب کا کہنا ہے کہ انہیں سرکاری سطح پر وہ پذیرائی نہیں ملی جس کی وہ توقع کر رہے تھے۔ان کے مطابق بعض حکام نے ان کی کامیابی کو سراہا لیکن مجموعی طور پر سرکاری ردعمل ان کی توقعات کے مطابق نہیں تھا۔وہ کہتے ہیں کہ ایک ٹوئٹ یا چند حوصلہ افزا الفاظ بھی کسی کھلاڑی کے لیے بہت معنی رکھتے ہیں۔اویس کے مطابق اصل مسئلہ ان کی اپنی پذیرائی نہیں بلکہ ان نوجوان فائٹرز کا ہے جو ابھی اپنے کیریئر کے آغاز میں ہیں۔اگر ایک نوجوان دیکھتا ہے کہ ہندوستان کے لیے عالمی سطح پر کامیابی حاصل کرنے والے کھلاڑی کو بھی مناسب حوصلہ افزائی نہیں مل رہی تو وہ کھیل کو اپنا مستقبل بنانے سے ہچکچا سکتا ہے۔اویس کا کہنا ہے کہ کشمیر میں ان کی اکیڈمی اگرچہ بہت چھوٹی ہے لیکن ہندوستان کی مختلف ریاستوں کے فائٹرز وہاں تربیت کے لیے آتے ہیں۔ یہاں تک کہ دبئی اور برطانیہ سے بھی فائٹرز پلوامہ آ کر تربیت حاصل کر چکے ہیں۔

ان کے نزدیک یہ خود کشمیر کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔

میں اب صرف اپنے لیے نہیں لڑ رہا‘‘اویس کہتے ہیں کہ بلغاریہ کی کامیابی کے بعد انہیں ملک کے مختلف حصوں سے پیغامات اور فون کالز موصول ہوئیں۔حیدرآباد۔ بنگلورو اور تمل ناڈو سے لوگوں نے انہیں اپنے علاقوں میں آنے اور جشن میں شریک ہونے کی دعوت دی۔ان کے مطابق انہوں نے ایسے ویڈیوز بھی دیکھے جن میں بزرگ افراد سڑک کے کنارے بیٹھ کر ان کی فائٹ دیکھ رہے تھے۔اویس کے مطابق اس ردعمل نے انہیں احساس دلایا کہ اب وہ صرف اپنے لیے نہیں لڑ رہے۔وہ ہندوستان کے نوجوانوں اور ہندوستانی ایم ایم اے کے لیے لڑ رہے ہیں۔ان کے مطابق براؤ نے بھی اس فائٹ کے لیے ہندوستان سے تقریباً 200 ملین ویوز ریکارڈ کیے جو اس تنظیم کے سابقہ ناظرین کے ریکارڈ سے زیادہ تھے۔

اگلا ہدف کیا ہے؟

حالیہ کامیابی کے بعد اویس درجہ بندی میں دوسرے نمبر پر پہنچ گئے ہیں۔ ان سے اوپر موجود فائٹر اس وقت چیمپئن ہے اور اس کے پاس اویس کے مقابلے میں کہیں زیادہ پروفیشنل فائٹس کا تجربہ ہے۔اویس فوری طور پر کسی بڑے نام کے خلاف مقابلے کے بجائے مرحلہ وار آگے بڑھنے کے حامی ہیں۔ان کے کوچ جیویئر مینڈیز کے ساتھ آئندہ تربیتی کیمپ امریکہ اور پاکستان سمیت مختلف مقامات پر منعقد ہونے ہیں۔اویس کا کہنا ہے کہ وہ پہلے حریف کا مکمل تجزیہ کریں گے اور پھر فیصلہ کریں گے کہ ٹائٹل فائٹ سے پہلے ایک یا 2 مزید مقابلے ضروری ہیں یا نہیں۔ان کا حتمی خواب عالمی سطح کا بیلٹ جیتنا ہے۔یو ایف سی بھی ان کے خوابوں میں شامل ہے لیکن وہ اسے قسمت اور مرحلہ وار محنت سے جوڑتے ہیں۔

فائٹر کی زندگی کی اصل قیمت

اویس نے بتایا کہ حالیہ فائٹ سے پہلے کے 3 ماہ ان کے لیے انتہائی مشکل تھے۔کندھے اور ٹخنے کی چوٹ کے باوجود انہوں نے تربیت جاری رکھی۔ وزن کم کرنا بھی ایک بڑا چیلنج تھا کیونکہ پہلی مرتبہ انہیں 68 کلوگرام تک وزن کم کرنا پڑا۔فائٹ سے پہلے آخری ہفتے میں انہیں بخار بھی ہوگیا تھا اور ادویات لینی پڑیں۔اس کے باوجود انہوں نے تربیت اور وزن کم کرنے کا عمل جاری رکھا۔اویس کہتے ہیں کہ عام لوگ صرف فائٹ کا ایک دن دیکھتے ہیں لیکن ایک فائٹر کی اصل زندگی ان مہینوں میں گزرتی ہے جو مقابلے کی تیاری میں صرف ہوتے ہیں۔ان کے مطابق فائٹ کے بعد جشن منانے کے لیے صرف 2 یا 3 دن ملتے ہیں اور پھر دوبارہ تربیت شروع ہو جاتی ہے۔وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے حالیہ فائٹ کے فوراً بعد دوبارہ تربیت شروع کر دی ہے کیونکہ اگلے مقابلے کی تیاری پہلے ہی شروع ہو چکی ہے۔

خوراک بھی تربیت کا حصہ ہے

اویس اپنی خوراک کو بھی اپنے تربیتی نظام کا اہم حصہ سمجھتے ہیں۔وہ عام طور پر کیلوری کو کنٹرول کرتے ہوئے زیادہ پروٹین لیتے ہیں۔ تاہم وہ مکمل پابندی کے بجائے متوازن خوراک پر یقین رکھتے ہیں۔ان کے مطابق ہفتے میں ایک مرتبہ وہ اپنی پسند کی چیز بھی کھا لیتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ وہ آم۔ دہی اور پروٹین استعمال کرکے اپنی پسند کی آئس کریم بھی بناتے ہیں جس سے انہیں پروٹین ملتا ہے اور کیلوریز بھی قابو میں رہتی ہیں۔ان کے مطابق اصل مقصد ایسی خوراک اختیار کرنا ہے جسے طویل عرصے تک زندگی کا حصہ بنایا جا سکے۔

’’اگلی بار پنجرے میں بیلٹ کے بغیر واپس نہیں آؤں گا‘‘

انٹرویو کے آخر میں جب یاسمین خان نے اویس سے کہا کہ وہ یہ جملہ مکمل کریں کہ ’’اگلی بار جب میں پنجرے میں داخل ہوں گا تو میں واپس اس کے بغیر نہیں آؤں گا‘‘ تو اویس نے فوراً جواب دیا۔

بیلٹ کے بغیر۔--- یہ مختصر جواب شاید ان کے موجودہ عزم کی سب سے واضح تصویر ہے۔پلوامہ کے ایک چھوٹے سے علاقے سے عالمی ایم ایم اے کے میدان تک پہنچنے والا یہ نوجوان اب صرف اپنی اگلی فائٹ نہیں دیکھ رہا۔اس کی نظر بیلٹ پر ہے۔اور اس کے الفاظ میں یہ بیلٹ صرف اس کی اپنی کامیابی نہیں ہوگی۔یہ ہندوستانی ایم ایم اے کے لیے ہوگی۔کشمیر کے لیے ہوگی۔اور ان ہزاروں نوجوانوں کے لیے ہوگی جو کھیل کو اپنا مستقبل بنانے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔