ایک فون کال اور مدد کے لیے حاضر! مالدہ کے مصباح العالم جیمز کیوں کہلاتے ہیں ’بلڈ مین‘؟

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 28-10-2026
ایک فون کال اور مدد کے لیے حاضر! مالدہ کے مصباح العالم جیمز کیوں کہلاتے ہیں ’بلڈ مین‘؟
ایک فون کال اور مدد کے لیے حاضر! مالدہ کے مصباح العالم جیمز کیوں کہلاتے ہیں ’بلڈ مین‘؟

 



ترون نندی

کولکاتا: دن ہو یا رات کی تاریکی۔ فون کی گھنٹی بجتے ہی مصباح العالم جیمز مدد کے لیے نکل پڑتے ہیں۔ اس بار فون پر دوسری جانب سے ایک پریشان آواز سنائی دی۔ بتایا گیا کہ تھیلیسیمیا میں مبتلا 11 سالہ بچے کو خون کی ضرورت ہے۔ وہ کافی دنوں سے خون ملنے کی امید میں انتظار کر رہا تھا۔ بچے کی ضرورت کا علم ہوتے ہی مصباح العالم جیمز نے مزید دیر نہیں کی۔ اپنی تمام مصروفیات ایک طرف رکھیں اور سیدھے چانچل سپر اسپیشلٹی اسپتال پہنچ گئے۔ وہاں انہوں نے خود خون عطیہ کرکے زندگی کی جنگ لڑ رہے بچے کا سہارا بننے کی کوشش کی۔مصباح العالم جیمز کے نزدیک شاید یہی انسانیت کی سب سے بڑی پہچان ہے۔ کسی کو مصیبت میں دیکھ کر وہ خاموش نہیں بیٹھ سکتے۔ خون کی ضرورت پوری کرنے کے لیے وہ ایک اسپتال سے دوسرے اسپتال تک دوڑتے رہتے ہیں۔ مالدہ کے لوگ انہیں ایسے نوجوان کے طور پر جانتے ہیں جو مشکل وقت میں ہمیشہ کام آتا ہے۔

ضرورت مندوں کے لیے امید کا دوسرا نام

مصباح العالم جیمز مغربی بنگال کے ضلع مالدہ کے رتوہ-1 بلاک میں واقع بھادو گاؤں کے رہنے والے ہیں۔ وہ سماجی خدمت کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ چانچل کے علاقے میں بہت سے لوگوں کے لیے وہ مشکل وقت کا آخری سہارا بن چکے ہیں۔ کسی کے گھر میں کوئی فرد بیمار ہو اور اسے خون کی ضرورت ہو یا خون کی تلاش میں اہل خانہ در در بھٹک رہے ہوں تو اکثر لوگوں کو سب سے پہلے مصباح العالم جیمز کا خیال آتا ہے۔

وہ پریشان حال لوگوں کی آواز کو کبھی نظرانداز نہیں کرتے۔ اپنی ذاتی مصروفیات کو پیچھے چھوڑ کر انسانی جان بچانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ ان کا اپنا بلڈ گروپ اے پازیٹو ہے۔

2018 میں شروع ہوا خون عطیہ کرنے کا سفر

مصباح العالم جیمز کی سماجی خدمت کا سفر 2018 میں شروع ہوا۔ اس وقت ان کی عمر 18 برس ہوئی تھی۔ سماجی خدمت کا جذبہ لے کر وہ اپنے دوستوں کے ساتھ سمسی یونائٹیڈ ینگس کلب کے زیر اہتمام منعقدہ خون عطیہ کیمپ میں پہنچے۔ اسی کیمپ میں انہوں نے پہلی مرتبہ خون عطیہ کیا۔ یہ ان کی زندگی کا پہلا تجربہ تھا اور اسی موقع پر انہیں اپنے بلڈ گروپ کے بارے میں بھی معلوم ہوا کہ ان کا خون اے پازیٹو ہے۔

پہلی مرتبہ خون عطیہ کرنے کے بعد انہیں دلی خوشی محسوس ہوئی۔ اس تجربے نے ان کی زندگی کو ایک نئی سمت دے دی۔ اس کے بعد انہوں نے خود خون عطیہ کرکے مریضوں کی مدد کرنے کے ساتھ دوسروں کو بھی خون عطیہ کرنے کی ترغیب دینا شروع کردی۔ اپنے جاننے والوں سے رابطہ قائم کرنا اور دوستوں کے حلقے کو متحرک رکھنا ان کی کوششوں کا اہم حصہ بن گیا۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک کے ذریعے بھی وہ خون عطیہ کرنے والوں کی تلاش کرتے رہے۔ رفتہ رفتہ یہ تمام کوششیں ان کی انسانی خدمت کی مہم کا حصہ بن گئیں۔

400 سے زیادہ مریضوں کی مدد

اب تک مصباح العالم جیمز کتنے لوگوں کی مدد کر چکے ہیں؟ ان کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق وہ 400 سے زیادہ مریضوں کو خون عطیہ کرکے یا ان کے لیے خون عطیہ کرنے والوں کا انتظام کرکے مدد فراہم کر چکے ہیں۔ ضرورت پڑنے پر وہ خود بھی کئی مرتبہ اسپتال پہنچ کر خون عطیہ کر چکے ہیں۔ان کے لیے سب سے بڑی خوشی یہ ہے کہ ان کی کوششوں سے پریشان حال مریضوں اور ان کے اہل خانہ کو راحت ملتی ہے۔ جب کسی مریض کو خون کی ضرورت ہوتی ہے تو مصباح العالم جیمز سے صرف ایک فون کال پر رابطہ کرکے اہل خانہ کو یہ امید ہو جاتی ہے کہ ان کی پریشانی کا کوئی نہ کوئی حل ضرور نکل آئے گا۔

خون عطیہ کرنے والوں کا مضبوط رابطہ نظام

مصباح العالم جیمز کی مقبولیت کی وجہ سے آج کل سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر خون کی ضرورت سے متعلق پیغام تیزی سے پھیل جاتا ہے۔ تاہم اصل چیلنج صحیح بلڈ گروپ کے عطیہ دہندہ کو تلاش کرنا اور اس سے رابطہ کرکے ضرورت کے وقت اسپتال پہنچانا ہے۔ مصباح العالم جیمز کئی برسوں سے خاموشی کے ساتھ یہی کام انجام دے رہے ہیں۔وہ ان لوگوں کے نام اور رابطہ نمبر اپنے پاس محفوظ رکھتے ہیں جو پہلے خون عطیہ کر چکے ہیں۔ ان کے بلڈ گروپ کی تفصیلات بھی درج کرتے ہیں۔ اس طرح کسی مریض کو خون کی ضرورت پیش آنے پر وہ فوری طور پر ممکنہ عطیہ دہندہ سے رابطہ کرسکتے ہیں۔

وہ اس بات کو اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ ہنگامی صورت حال میں مریض کے اہل خانہ کس قدر بے چینی کے ساتھ خون کا انتظار کرتے ہیں۔ ایسے وقت میں ہر گزرتا ہوا لمحہ اہم ہوتا ہے۔ اس مشکل گھڑی میں مصباح العالم جیمز جیسے قابل اعتماد شخص کا ساتھ مل جانا اہل خانہ کے لیے بہت بڑا حوصلہ بن جاتا ہے۔

’بلڈ مین‘ کا خطاب کیسے ملا؟

مصباح العالم جیمز کی مسلسل سماجی خدمات کو سمسی کالج کے پروفیسر امین الحق نے بھی سراہا ہے۔ لوگوں کو رضاکارانہ طور پر خون عطیہ کرنے کی ترغیب دینے کے لیے انہوں نے ہی مصباح العالم جیمز کو ’بلڈ مین‘ کا لقب دیا تھا۔ آج یہ نام ان کی پہچان بن چکا ہے۔ چانچل کے مختلف علاقوں میں جب بھی کسی کو خون کی ضرورت پیش آتی ہے تو لوگوں کی زبان پر یہی نام آتا ہے۔

سماجی خدمت کے ساتھ ڈرامے سے بھی وابستگی

مصباح العالم جیمز کی زندگی صرف سماجی خدمت تک محدود نہیں ہے۔ وہ اپنی تعلیم کے ساتھ ڈرامے کی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیتے ہیں۔ گازول کالج کے پرنسپل ڈاکٹر منوج بھوج کی رہنمائی میں انہیں مختلف مواقع پر ڈرامائی گروپ کے ساتھ اداکاری کرنے کا تجربہ بھی حاصل ہوا ہے۔اسٹیج پر مختلف کردار ادا کرکے وہ لوگوں کے دلوں تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں اور حقیقی زندگی میں ضرورت مندوں کے ساتھ کھڑے ہوکر ان کے لیے ایک عملی مثال بن گئے ہیں۔مصباح العالم جیمز نے اپنی ذمہ داری اور مسلسل کوششوں سے خون عطیہ کرنے والوں کو ایک مضبوط رشتے میں جوڑ دیا ہے۔ ان کی خدمات کا دائرہ اب متعدد خاندانوں تک پھیل چکا ہے۔ خون کے اس رشتے نے انہیں مالدہ کے لوگوں کا اپنا بنا دیا ہے۔مالدہ کے اس ’بلڈ مین‘ کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ دوسروں کے دکھ درد میں شریک ہونا اور ضرورت کے وقت کسی کی جان بچانے کی کوشش کرنا ہی زندگی کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔