اشہر عالم / نئی دہلی
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے۔
علامہ اقبال کا یہ شعر اگر کسی کی زندگی کی جدوجہد اور کامیابی کی داستان پر صادق آتا ہے تو وہ امان فریگرینسز کے بانی محمد امان اللہ ہیں۔ ان کی کامیابی کا سفر کسی پُرتعیش شوروم سے نہیں بلکہ دہلی ریلوے اسٹیشن کے سرد پلیٹ فارموں سے شروع ہوا۔ آنکھوں میں خواب اور دل میں کچھ کر گزرنے کا عزم لیے امان اللہ نے محض 1200 روپے میں عطر کی ایک بوتل خرید کر کاروبار کی دنیا میں قدم رکھا۔ وسائل کی کمی اور زندگی کی دشواریوں کے باوجود انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور اپنی محنت کو کامیابی کی سیڑھی بناتے چلے گئے۔ آج وہ عطر کے ہول سیل کاروبار میں اپنی الگ شناخت رکھتے ہیں۔ امان فریگرینسز کا برانڈ ملک بھر میں پہچانا جاتا ہے اور ان کے متعدد شوروم بھی قائم ہیں۔ کئی باوقار کاروباری اعزازات حاصل کرنے والے محمد امان اللہ کی کہانی محض ایک کاروباری کامیابی کا قصہ نہیں بلکہ عزم و حوصلے اور خود اعتمادی کی ایسی مثال ہے جو ثابت کرتی ہے کہ بڑے خواب دیکھنے کے لیے بڑے وسائل نہیں بلکہ بلند حوصلے اور مسلسل محنت درکار ہوتی ہے۔
امان اللہ کہتے ہیں، ’’کامیابی انہیں کسی خاندانی دولت یا خصوصی مواقع کی بدولت نہیں ملی، بلکہ اس کے پیچھے ناکامیوں اور مشکلات کا ایک طویل سلسلہ ہے، جن کے سامنے اکثر لوگ ہمت ہار جاتے ہیں۔‘‘جولائی 2014 میں آسام کے ضلع دھوبری سے روزگار کی تلاش میں دہلی پہنچنے والے امان اللہ بھی ان ہزاروں نوجوانوں میں سے ایک تھے جو بہتر مستقبل کی امید لے کر بڑے شہروں کا رخ کرتے ہیں۔ انہیں یقین تھا کہ محنت کے ذریعے اپنی قسمت بدلی جا سکتی ہے، چنانچہ انہوں نے جدوجہد کا آغاز کردیا۔دہلی کے صنعتی علاقے میں مزدور کی حیثیت سے ان کی پہلی ملازمت محض سات دن جاری رہی۔ اس کے بعد انہوں نے ایک دوسری مینوفیکچرنگ کمپنی میں کام شروع کیا، لیکن صحت کے مسائل کے باعث دس دن بعد ہی یہ ملازمت بھی چھوڑنی پڑی۔ اس کے بعد ان کے لیے زندگی کی بنیادی ضروریات پوری کرنا بھی ایک بڑا چیلنج بن گیا۔
.webp)
ایک واقف کار کی مدد سے انہوں نے کڑھائی کے ڈیزائن سے متعلق کام حاصل کرنے کی کوشش کی، لیکن انہیں وہاں بھی مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس تجربے نے انہیں یہ احساس دلایا کہ خواب دیکھنے والوں سے بھری اس شہر میں کسی کو محض اس بنیاد پر موقع نہیں ملتا کہ وہ اس کا مستحق ہے؛ اسے اپنی جگہ خود بنانی پڑتی ہے۔بالآخر انہیں ایک میڈیکل اسٹور پر پانچ ہزار روپے ماہانہ کی ملازمت مل گئی۔ یہ آمدنی ان کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے بھی ناکافی تھی۔ پانچ ماہ بعد یہ ملازمت بھی ختم ہوگئی اور ان کی جدوجہد ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگئی۔
ریلوے اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر گزرتی راتیں
امان اللہ کی زندگی کے سب سے مشکل دن ابھی آنے باقی تھے۔ حالات یہاں تک پہنچ گئے کہ انہیں پرانی دہلی ریلوے اسٹیشن کے پلیٹ فارموں پر کئی راتیں گزارنی پڑیں۔ گزرتی ہوئی ہر ٹرین انہیں اس زندگی کی یاد دلاتی تھی جسے وہ پیچھے چھوڑ آئے تھے، جب کہ ہر نئی صبح انہیں ایک بار پھر جدوجہد شروع کرنے کا پیغام دیتی تھی۔تنہائی اور بے سروسامانی کی وہ راتیں ان کے خوابوں کو ختم کرسکتی تھیں، لیکن اس کے برعکس یہی مشکلات ان کے عزم کو مزید مضبوط کرتی چلی گئیں۔ انہوں نے ہمت ہارنے کے بجائے اپنے لیے ایک نئی راہ تلاش کرنے کا فیصلہ کیا۔
.webp)
سنہ 2015 میں انہوں نے 1200 روپے میں عطر خریدا اور مشرقی دہلی میں ایک چھوٹے سے کھوکھے سے بوتلوں میں عطر بھر کر فروخت کرنے کا کام شروع کردیا۔ یہی چھوٹا سا قدم آگے چل کر ایک بڑے کاروبار کی بنیاد بنا۔کاروبار میں رفتہ رفتہ بہتری آنے لگی تو وہ اپنا عارضی کھوکھا لے کر مصطفیٰ آباد، جعفرآباد اور سیلم پور کی گنجان آبادیوں میں عطر فروخت کرنے لگے۔ مساجد کے باہر اور مصروف بازاروں میں گاہکوں تک پہنچنا ان کے روزمرہ معمول کا حصہ بن گیا۔
اپنے ابتدائی دنوں کو یاد کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں، ’’کوئی مختصر راستہ نہیں تھا۔ صرف صبر، مسلسل محنت اور اللہ پر بھروسا تھا۔‘‘سنہ 2016 میں انہوں نے اپنا کاروبار اوکھلا کے ذاکر نگر منتقل کردیا۔ وہاں بھی وہ ایک جگہ بیٹھ کر کاروبار کرنے کے بجائے اپنے قابلِ نقل کھوکھے کے ذریعے مختلف محلوں میں عطر فروخت کرتے رہے۔ ان کی دیانت داری، معیاری مصنوعات اور گاہکوں کے ساتھ خوش اخلاقی نے رفتہ رفتہ لوگوں کا اعتماد حاصل کرنا شروع کردیا۔
سنہ 2017 کے اواخر تک وہ جنوبی دہلی کے ذاکر نگر میں اپنی پہلی دکان کرائے پر لینے میں کامیاب ہوگئے۔ زندگی میں کچھ استحکام آتا دکھائی دے رہا تھا کہ اچانک مالک مکان نے انہیں دکان خالی کرنے کے لیے کہہ دیا۔ یہ ایک اور بڑا دھچکا تھا، لیکن امان اللہ نے اسے اپنی منزل کا اختتام نہیں سمجھا۔انہوں نے ایک بار پھر اپنا کھوکھا اٹھایا اور نئے سرے سے کام شروع کردیا۔ علاقے کی مساجد کے باہر عطر فروخت کرنے کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوا۔ اس بار انہوں نے مایوسی کا شکار ہونے کے بجائے گاہکوں کی پسند اور ان کی ضروریات کو سمجھنے پر زیادہ توجہ دی۔
.webp)
چھوٹے کھوکھے سے ایک معروف برانڈ تک
سنہ 2021 کے اوائل میں امان اللہ نے کرائے کی ایک دکان میں اپنا کاروبار دوبارہ شروع کیا۔ اس وقت تک امان فریگرینسز عطر کی صنعت میں اپنی شناخت قائم کرچکا تھا۔ ان کی مصنوعات میں ’عود احمر‘ (Oud Ahmer) کو خاص مقبولیت حاصل ہوئی اور یہ برانڈ کی نمایاں خوشبو بن کر ابھرا۔سنہ 2023 میں انہیں ہندوستانی ٹیلی ویژن انڈسٹری سے وابستہ ایک تقریب میں شرکت کی دعوت ملی، جہاں انہیں دادا صاحب پھالکے گیسٹ آف آنر ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اسی تقریب کے دوران انہوں نے اپنی دو مقبول خوشبوؤں کو بھی متعارف کرایا۔امان اللہ نے کینیا میں منعقدہ ایک نمائش میں بھی حصہ لیا، جہاں انہوں نے پندرہ دن تک عطر کا کھوکھا چلایا۔ اس نمائش نے امان فریگرینسز کو بین الاقوامی گاہکوں تک پہنچنے کا موقع فراہم کیا اور ان کے کاروبار کو عالمی سطح پر متعارف کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔
آج 36 سال کی عمر میں امان اللہ عطر کے ہول سیل کاروبار کو ایک نئی بلندی تک پہنچا چکے ہیں۔ ان کی مجموعی دولت کا تخمینہ تقریباً ایک کروڑ روپے لگایا جاتا ہے۔ ایک خاندانی زندگی گزارنے والے امان اللہ اپنی اہلیہ اور کم عمر بیٹے کے ساتھ رہتے ہیں، جب کہ والدین، دو چھوٹے بھائیوں اور بہن سے بھی ان کا قریبی تعلق برقرار ہے۔کاروبار میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد انہوں نے سماج کے لیے بھی کچھ کرنے کا فیصلہ کیا۔ ان کا ماننا ہے کہ کامیابی کا حقیقی مقصد صرف اپنی زندگی کو بہتر بنانا نہیں، بلکہ دوسروں کے لیے بھی آسانیاں پیدا کرنا ہے۔
.webp)
تعلیم کے ذریعے معاشرے کی خدمت
سنہ 2023 میں امان اللہ نے اپنے نانا حسین علی کے نام پر ’حسین اکیڈمک ٹرسٹ‘ (Husain Academic Trust) قائم کیا۔ اس ٹرسٹ کے ذریعے نئی دہلی میں ایک تعلیمی پروگرام کے تحت 17 سے زائد طلبہ کی تعلیم کے اخراجات برداشت کیے گئے۔سنہ 2025 میں انہوں نے گوہاٹی میں بھی ایک اور امدادی پروگرام شروع کیا، جس کے تحت 16 طلبہ کو مالی معاونت فراہم کی گئی۔ ان اقدامات کے ذریعے انہوں نے یہ کوشش کی کہ مالی مشکلات کی وجہ سے طلبہ کی تعلیم متاثر نہ ہو اور انہیں آگے بڑھنے کے مواقع میسر آئیں۔
امان اللہ اکثر کہتے ہیں کہ معاشرے اس وقت مضبوط ہوتے ہیں جب کامیاب لوگ صرف اپنی ترقی تک محدود رہنے کے بجائے دوسروں کو بھی آگے بڑھنے میں مدد دیتے ہیں۔آج امان فریگرینسز ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ دہلی اور بہار میں اس کے شوروم کام کر رہے ہیں، جب کہ آسام کے گوہاٹی میں ایک اور شوروم کا افتتاح بھی متوقع ہے۔محمد امان اللہ کی زندگی اس حقیقت کی مثال ہے کہ بڑی کامیابیوں کا آغاز اکثر معمولی خوابوں سے ہوتا ہے۔ کبھی دہلی کے ریلوے اسٹیشن پر رات گزارنے پر مجبور اس نوجوان نے محنت، صبر اور مستقل مزاجی کے ذریعے اپنے لیے ایک نئی دنیا تعمیر کی۔ ان کا سفر بتاتا ہے کہ حالات کتنے ہی دشوار کیوں نہ ہوں، اگر انسان اپنے مقصد پر قائم رہے تو ناکامیاں بھی کامیابی کی بنیاد بن سکتی ہیں۔