اندور:اندور ہفتہ کی صبح ایک دل خراش منظر کا گواہ بنا، جب ہندوستانی فوج کے ایک ٹرک پر قومی پرچم میں لپٹی میجر حمزہ عارف کی میت ان کے آبائی گھر پہنچی۔ گلیاں سوگوار تھیں، فضاء میں خاموشی تھی اور ہر آنکھ اشکبار۔ گھر کے باہر ہزاروں افراد اپنے محبوب سپوت کی آخری جھلک دیکھنے کے لیے جمع تھے۔جیسے ہی فوجی جوانوں نے قومی پرچم میں لپٹے تابوت کو نیچے اتارا، اہل خانہ پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ صرف ایک ماہ قبل دلہن بن کر آنے والی ان کی اہلیہ اپنے شوہر کی میت دیکھ کر نڈھال ہوگئیں۔ رشتہ دار اور خواتین انہیں سنبھالنے کی کوشش کرتی رہیں، مگر ہر طرف آہ و بکا کی کیفیت طاری تھی۔جس گھر میں چند ہفتے پہلے شادی کی خوشیاں تھیں، وہاں اب سسکیاں، دعائیں اور آنسو تھے۔
کون تھے میجر حمزہ عارف؟
میجر حمزہ عارف مدھیہ پردیش کے شہر اندور کے دھنونتری نگر کے رہنے والے تھے۔ وہ ایک متوسط طبقے کے داؤدی بوہرہ مسلم خاندان کے اکلوتے بیٹے تھے۔ ان کی تین بہنیں ہیں۔انہوں نے 2016 میں چمیلی دیوی کالج سے الیکٹریکل انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی۔ ملک کی خدمت کا جذبہ انہیں فوج میں لے آیا اور 2017 میں وہ ہندوستانی فوج میں شامل ہوئے۔صرف 9 سال کی ملازمت کے دوران اپنی صلاحیت، نظم و ضبط اور بہترین خدمات کے باعث وہ تین ترقیات حاصل کرتے ہوئے میجر کے عہدے تک پہنچے۔ حادثے کے وقت وہ جیسلمیر ملٹری اسٹیشن میں تعینات تھے۔ان کے ساتھی انہیں ایک باصلاحیت فوجی افسر، نہایت خوش اخلاق، ملنسار اور فرض شناس انسان کے طور پر یاد کرتے ہیں۔
سات برس کی محبت، ایک ماہ کی شادی اور ہمیشہ کی جدائی
میجر حمزہ عارف کی ذاتی زندگی بھی ایک منفرد داستان تھی۔انہوں نے ایک ہندو خاندان سے تعلق رکھنے والی انجینئر خاتون سے تقریباً سات برس تک تعلق نبھایا۔ دونوں نے اپنے خاندانوں کو راضی کرنے کے لیے طویل جدوجہد کی اور آخرکار ایک ماہ قبل عدالت کے ذریعے شادی کی۔دونوں نے نئی زندگی کے حسین خواب سجائے تھے۔ حمزہ نے نئی ٹاٹا سفاری گاڑی بھی خریدی تھی، جبکہ دسمبر میں اندور میں ایک شاندار استقبالیہ کی تیاریاں شروع ہو چکی تھیں۔لیکن تقدیر کو کچھ اور منظور تھا۔
کب اور کیسے پیش آیا حادثہ؟
حادثہ جمعرات کی شب تقریباً 12:30 بجے جیسلمیر شہر سے تقریباً 8 کلومیٹر دور فوجی علاقے میں پیش آیا۔پولیس کے مطابق میجر حمزہ اپنی نئی ٹاٹا سفاری چلا رہے تھے۔ ان کے ساتھ لیفٹیننٹ آیوشمان گسائیں اور لیفٹیننٹ ابھی نو رٹھور بھی موجود تھے۔اچانک ایک اونٹ سڑک پر آ گیا۔ ڈرائیور کو گاڑی روکنے کا موقع نہ ملا اور گاڑی اونٹ سے ٹکرا گئی۔شدید ٹکر کے بعد ایس یو وی تقریباً 4 سے 5 بار الٹتی ہوئی تقریباً 100 میٹر تک گھسٹتی چلی گئی۔ اونٹ بھی موقع پر ہی ہلاک ہوگیا۔حادثے کی اطلاع ملتے ہی فوجی اہلکار موقع پر پہنچے اور تباہ شدہ گاڑی میں پھنسے تینوں افسروں کو نکال کر فوجی اسپتال منتقل کیا، جہاں علاج کے دوران میجر حمزہ عارف زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہوگئے۔دونوں زخمی افسران اب بھی فوجی اسپتال میں زیر علاج ہیں۔
فوجی کیمپ میں سوگ کی لہر
اس حادثے کے بعد جیسلمیر ملٹری اسٹیشن میں سوگ کی فضا چھا گئی۔ساتھی افسران نے میجر حمزہ کو ایک ایسے فوجی افسر کے طور پر یاد کیا جو ہمیشہ ذمہ داری، دیانت اور انسان دوستی کا مظاہرہ کرتے تھے۔ ان کی اچانک موت نے فوجی برادری کو گہرے صدمے سے دوچار کر دیا۔
سرکاری اعزاز کے ساتھ آخری سفر
ہفتہ کی صبح میجر حمزہ عارف کی میت اندور پہنچی، جہاں ہزاروں شہری، فوجی افسران، عوامی نمائندے اور اہل خانہ نے انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔قومی پرچم میں لپٹے تابوت کے ساتھ ان کا آخری سفر نکالا گیا۔ راستے بھر لوگ پھول نچھاور کرتے رہے اور وطن پرستی کے نعرے بلند کرتے رہے۔تدفین سے قبل ہندوستانی فوج نے انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا۔ اس کے بعد فوجی روایات اور داؤدی بوہرہ مسلم برادری کی مذہبی رسومات کے مطابق انہیں سپرد خاک کر دیا گیا۔
ادھورے خوابوں کی داستان
میجر حمزہ عارف کی شہادت نے صرف ایک فوجی افسر کو نہیں چھینا بلکہ ایک خاندان کا سہارا، تین بہنوں کا واحد بھائی، والدین کا اکلوتا بیٹا اور ایک نئی نویلی دلہن کا ہم سفر بھی ہمیشہ کے لیے جدا کر دیا۔صرف ایک ماہ پہلے شادی کے بندھن میں بندھنے والا یہ جوڑا دسمبر میں اپنی خوشیوں کا جشن منانے والا تھا، مگر قسمت نے ایسا رخ بدلا کہ جشن کی جگہ جنازہ اٹھا اور دلہن کی مہندی اترنے سے پہلے ہی اس کی زندگی ہمیشہ کے لیے سوگ میں بدل گئی۔میجر حمزہ عارف کی زندگی فرض شناسی، حب الوطنی اور خدمت وطن کی روشن مثال بن کر ہمیشہ یاد رکھی جائے گی، جبکہ ان کی المناک موت یہ یاد دلاتی رہے گی کہ بعض اوقات ایک لمحہ پوری زندگی کے خواب چھین لیتا ہے۔