امریکہ میں ہندو مندر پر فائرنگ کی کوشش کے الزام میں 19 سالہ نوجوان گرفتار

Story by  PTI | Posted by  [email protected] | Date 15-10-2026
امریکہ میں ہندو مندر پر فائرنگ کی کوشش کے الزام میں 19 سالہ نوجوان گرفتار
امریکہ میں ہندو مندر پر فائرنگ کی کوشش کے الزام میں 19 سالہ نوجوان گرفتار

 



نیویارک: امریکہ کی ریاست الینوائے میں ایک ہندو مندر میں جمع عقیدت مندوں پر فائرنگ کرنے کی مبینہ کوشش کے الزام میں 19 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا ہے۔ حکام کو اس کے پاس سے ایک خط بھی ملا ہے، جس میں سفید فام نسل پرستی کے نظریات کا اظہار کیا گیا ہے اور ہندوستانی نژاد لوگوں کے خلاف تشدد کا ذکر ہے۔ پولیس کے مطابق، پالیٹائن گاؤں کے رہنے والے الیگزینڈروس پاپورکیس کو 11 اکتوبر کو گرفتار کیا گیا۔ اس پر دہشت گردانہ دھمکی دینے اور غیر قانونی طور پر ہتھیار رکھنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

تفتیش کاروں کے مطابق، ملزم نے الینوائے کے شہر اورورا میں واقع ایک ہندو مندر کو ممکنہ طور پر نشانہ بنا کر فائرنگ کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن اس کی بندوق میں خرابی پیدا ہوگئی۔ اس کے نتیجے میں اسے اپنا منصوبہ ترک کرکے گھر واپس جانا پڑا۔ اس طرح ایک بڑے قتلِ عام کا خدشہ ٹل گیا۔ تاہم، حکام نے اس مندر کا نام ظاہر نہیں کیا ہے جسے مبینہ طور پر نشانہ بنایا جانا تھا۔ پالیٹائن پولیس محکمے کے خفیہ معلومات جمع کرنے والے افسران نے پاپورکیس کے پیغامات اور ایک دستاویز کی جانچ کی، جس کا عنوان ’’میں نے لڑائی کیوں کی: اورورا حملہ آور کا منشور‘‘ تھا۔ اس دستاویز میں سفید فام نسل پرستی اور انتہا پسندانہ نظریات کا اظہار کیا گیا تھا۔

اس میں جنوبی ایشیائی پس منظر، خصوصاً ہندوستانی نژاد لوگوں کے خلاف تشدد کا بھی ذکر تھا۔ خفیہ معلومات کی بنیاد پر کام کرنے والے افسران کا خیال ہے کہ پاپورکیس 11 اکتوبر کو حملے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔ پولیس نے بدھ کو کہا، ’’حملے کے مقام کی تصدیق نہیں ہوئی ہے اور تفتیش جاری ہے۔‘‘ شکاگو میں ہندوستانی قونصل خانے نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بروقت کارروائی کی تعریف کی ہے۔ قونصل خانے نے کہا کہ وہ ہندوستانی برادری کے افراد سے رابطے میں ہے اور صورتِ حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

یہ گرفتاری ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ہندو برادری نوراتری سمیت اپنے مذہبی تہوار منا رہی ہے۔ یہ واقعہ اوہائیو کے شہر رچمنڈ ہائٹس میں واقع شری سوامی نارائن وڈتال دھام ہندو مندر میں توڑ پھوڑ کے واقعے کے تقریباً دو ہفتے بعد سامنے آیا ہے۔ پالیٹائن پولیس محکمے کے مطابق، 11 اکتوبر کو ماؤنٹ پراسپیکٹ پولیس محکمے نے اسے ایک ممکنہ فائرنگ کے منصوبے کے بارے میں اطلاع دی تھی۔ یہ اطلاع ایک ایسے شخص سے ملی تھی جسے پاپورکیس کی جانب سے تشویش ناک پیغامات موصول ہوئے تھے۔ ’این بی سی شکاگو‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق، پاپورکیس ٹیکو بیل نامی ریستوران میں کیشئر کے طور پر کام کرتا تھا۔ اس نے اورورا کے ایک ہندو مندر میں ہندوستانی لوگوں پر اندھا دھند فائرنگ کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ رپورٹ میں پولیس کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ملزم گزشتہ اتوار کو حملے کی پوری تیاری کے ساتھ گاڑی میں مندر پہنچا تھا۔

اس نے حملے کے لیے ایسا دن منتخب کیا تھا جب مندر میں عقیدت مندوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ رپورٹ کے مطابق، ’’اگر رائفل میں خرابی پیدا نہ ہوتی تو وہ کئی لوگوں کی جان لے چکا ہوتا۔‘‘ تفتیش کاروں کے مطابق، ملزم کے پاس سے تبدیل شدہ اے آر طرز کی رائفل، 300 کارتوس، جسم کو گولیوں سے بچانے والی حفاظتی جیکٹ، پٹرول کے ڈبے اور دیگر دستاویزات برآمد ہوئی ہیں۔ پاپورکیس کو بدھ کے روز رولنگ میڈوز میں کک کاؤنٹی کی تیسری میونسپل عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں جج نے اسے حراست میں رکھنے کا حکم دیا۔ اس کی اگلی پیشی 30 اکتوبر کو مقرر کی گئی ہے۔

’ہندو امریکن فاؤنڈیشن‘ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی فوری کارروائی کی تعریف کی۔ تنظیم نے برادری کے لوگوں سے محتاط رہنے اور کسی بھی ممکنہ خطرے کی اطلاع حکام کو دینے کی اپیل بھی کی۔ تنظیم نے کہا، ’’ہر برادری کو خوف کے بغیر عبادت کرنے کا حق حاصل ہے۔‘‘ ’کولیشن آف ہندوز آف نارتھ امریکہ‘ نے بھی اس واقعے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ چونکا دینے والا منصوبہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ہندو برادری نوراتری کے موقع پر بڑی تعداد میں اجتماعی تقریبات منعقد کر رہی ہے۔

تنظیم نے کہا، ’’ہندو مندر اور تمام عبادت گاہیں امن، عبادت اور سکون کے مراکز ہونی چاہئیں، نہ کہ نفرت، تشدد یا دہشت کے۔ ہم ایک بڑے سانحے کو روکنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے شکر گزار ہیں۔ ہم عوامی نمائندوں اور پولیس سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ہندو مندروں کے خلاف بڑھتے ہوئے خطرات کو سنجیدگی سے لیا جائے۔‘‘ پالیٹائن پولیس محکمے نے بتایا کہ وہ اس معاملے کی تفتیش میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف بی آئی) کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔