امریکہ میں وسط مدتی انتخابات کے لیے ووٹنگ شروع

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 03-11-2026
امریکہ میں وسط مدتی انتخابات کے لیے ووٹنگ شروع
امریکہ میں وسط مدتی انتخابات کے لیے ووٹنگ شروع

 



واشنگٹن ڈی سی: امریکہ میں منگل کو انتہائی اہم وسط مدتی انتخابات کے لیے ووٹنگ ہو رہی ہے۔ ان انتخابات میں 23 کروڑ سے زائد اہل ووٹرز اپنے ووٹ کا حق استعمال کرسکتے ہیں۔ ان کے نتائج سے امریکی کانگریس میں طاقت کا توازن طے ہوگا۔ انتخابی پیش گوئیوں کے مطابق کئی اہم ریاستوں میں ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار ریپبلکن امیدواروں کے مقابلے میں آگے ہیں۔امریکی ایوانِ نمائندگان کی تمام 435 نشستوں اور سینیٹ کی 100 میں سے 35 نشستوں پر انتخابات ہو رہے ہیں۔ اس کے علاوہ 36 ریاستوں میں گورنروں کا انتخاب بھی کیا جائے گا۔ فی الحال ریپبلکن پارٹی کو کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل ہے۔

اے بی سی نیوز کے مطابق اب تک 5 کروڑ 70 لاکھ سے زائد امریکی شہری قبل از وقت ووٹنگ کے ذریعے اپنے ووٹ ڈال چکے ہیں۔ ووٹرز ڈاک کے ذریعے یا انتخابی دن پولنگ مراکز پر پہنچ کر بھی ووٹ ڈال سکتے ہیں۔ان انتخابات کے نتائج طے کریں گے کہ آئندہ دو برس تک کانگریس کا کنٹرول کس سیاسی جماعت کے پاس رہے گا۔ ڈیموکریٹس کو سینیٹ میں اکثریت حاصل کرنے کے لیے چار نشستوں کا خالص اضافہ درکار ہے جبکہ ایوانِ نمائندگان میں اکثریت کے لیے انہیں تین اضافی نشستیں حاصل کرنا ہوں گی۔

امریکی شماریات داں نیٹ سلور اور فلپر 2026 کے وسط مدتی انتخابی اندازوں کے مطابق ٹیکساس، اوہائیو، مشی گن، مین اور آئیووا سمیت تمام اہم مقابلہ آرائی والی ریاستوں میں ڈیموکریٹک امیدوار رائے عامہ کے جائزوں میں آگے ہیں۔ان پیش گوئیوں کے مطابق ٹیکساس میں ڈیموکریٹس کو 3.3 فیصد پوائنٹس کی برتری حاصل ہے۔ اوہائیو میں یہ فرق تین فیصد پوائنٹس جبکہ مشی گن میں 4.9 فیصد پوائنٹس ہے۔ اسی طرح ریاست مین میں 3.9 اور آئیووا میں 1.1 فیصد پوائنٹس کی برتری دکھائی گئی ہے۔

دوسری جانب جارجیا اور نارتھ کیرولائنا میں مقابلہ زیادہ سخت دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ جبکہ ریاست کنساس میں سینیٹ کی نشست کے لیے ڈیموکریٹک امیدوار رائے عامہ کے جائزوں میں چار فیصد پوائنٹس سے آگے ہیں۔ملک بھر میں سینیٹ کی کئی نشستوں پر بھی سخت مقابلے دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ دونوں سیاسی جماعتیں ایوانِ بالا کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے بھرپور کوشش کر رہی ہیں۔ریاست مشی گن میں ڈیموکریٹک امیدوار عبدالسلام السید کا مقابلہ ریپبلکن امیدوار مائیک راجرز سے ہے۔ یہ مقابلہ خاصی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ اس دوران ڈیموکریٹک رکنِ ایوانِ نمائندگان ہیلی اسٹیونز نے اتوار کو مائیک راجرز کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔فلوریڈا میں ڈیموکریٹک امیدوار اینجی نکسن کا مقابلہ ریپبلکن سینیٹر ایشلے موڈی سے ہے جبکہ جارجیا میں ڈیموکریٹک سینیٹر جون اوسوف کے مقابلے میں ریپبلکن امیدوار مائیک کولنز میدان میں ہیں۔ریاست مین میں ریپبلکن سینیٹر سوزن کولنز کا مقابلہ ڈیموکریٹک امیدوار ٹرائے جیکسن سے ہے۔ نیو ہیمپشائر میں ڈیموکریٹک رکنِ ایوانِ نمائندگان کرس پاپاس کے مقابلے میں ریپبلکن پارٹی کے سابق سینیٹر جان سنونو انتخابی میدان میں ہیں۔

اسی طرح نارتھ کیرولائنا میں ڈیموکریٹک امیدوار رائے کوپر اور ریپبلکن امیدوار مائیکل واٹلی کے درمیان سینیٹ کی نشست کے لیے مقابلہ ہو رہا ہے۔

مختلف ریاستوں میں پولنگ مراکز کھلنے کے اوقات الگ الگ مقرر کیے گئے ہیں۔ ریاست ورمونٹ ان اولین ریاستوں میں شامل ہے جہاں مقامی وقت کے مطابق صبح 5 بجے پولنگ شروع ہوئی۔

نیو جرسی، ورجینیا، کنیکٹیکٹ اور کینٹکی میں صبح 6 بجے ووٹنگ شروع ہوگی۔ جارجیا، فلوریڈا، پنسلوانیا اور نیویارک میں پولنگ مراکز صبح 6 سے 7 بجے کے درمیان کھلیں گے جبکہ اوہائیو اور نارتھ کیرولائنا میں صبح 6 بج کر 30 منٹ پر ووٹنگ شروع ہوگی۔ مشی گن میں پولنگ مراکز صبح 7 بجے کھلیں گے۔ملک کی مختلف ریاستوں میں پولنگ ختم ہونے کے اوقات بھی الگ الگ ہیں۔ انڈیانا اور کینٹکی میں سب سے پہلے مقامی وقت کے مطابق شام 6 بجے ووٹنگ ختم ہونے کا وقت مقرر ہے۔

مشی گن میں رات 8 بجے جبکہ کنساس میں شام 7 بجے پولنگ ختم ہوگی۔ ان دونوں ریاستوں میں بدھ کو گرینچ کے معیاری وقت کے مطابق رات ایک بجے تک ووٹنگ کا عمل مکمل ہوجائے گا۔ آئیووا میں پولنگ مراکز رات 8 بجے بند ہوں گے۔مختلف ریاستوں میں پولنگ مراکز بند ہونے کے ساتھ ہی منگل کی شام انتخابی نتائج سامنے آنا شروع ہوسکتے ہیں۔ انتخابی عملہ ووٹوں کی گنتی اور نتائج کے اعلان کا سلسلہ منگل کی رات سے بدھ تک جاری رکھے گا۔

تاہم کئی حلقوں میں حتمی نتائج سامنے آنے میں زیادہ وقت لگ سکتا ہے کیونکہ ڈاک کے ذریعے موصول ہونے والے ووٹوں اور عارضی ووٹوں سمیت بعض دیگر ووٹوں کی گنتی انتخابی رات کے بعد بھی جاری رہتی ہے۔ اس لیے ووٹوں کی حتمی گنتی مکمل ہونے میں کئی دن یا بعض صورتوں میں کئی ہفتے بھی لگ سکتے ہیں۔کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اس وقت ریپبلکن پارٹی کی اکثریت ہے۔ ایسے میں منگل کے انتخابات کو امریکی سیاست کے لیے ایک اہم امتحان قرار دیا جا رہا ہے۔ تازہ انتخابی پیش گوئیاں کئی سخت مقابلوں میں ڈیموکریٹک امیدواروں کی برتری کی نشاندہی کر رہی ہیں۔ البتہ کانگریس میں آئندہ دو برس کے لیے اقتدار کا توازن حتمی انتخابی نتائج ہی سے واضح ہوگا۔