واشنگٹن، 8 اکتوبر (ANI): امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے بدھ کو ایران کے اس دعوے کو مسترد کر دیا کہ آبنائے ہرمز بند ہے۔ امریکی کمانڈ نے کہا کہ اس اہم سمندری راستے سے تجارتی اور توانائی کی ترسیل بدستور جاری ہے۔
CENTCOM نے ایکس پر جاری پوسٹ میں کہا، ’’دعویٰ: ایران کے اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) کے ایک جنرل نے آج میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا کہ ’آبنائے ہرمز بند ہے‘ اور ایران کا ’اس پر مکمل کنٹرول ہے‘۔ یہ غلط ہے۔‘‘
امریکی سینٹرل کمانڈ نے مزید کہا، ’’حقیقت: اس وقت آبنائے ہرمز سے ٹریفک گزر رہی ہے، جس میں تجارتی سامان اور توانائی کی سپلائی شامل ہے، جبکہ تقریباً 2 کروڑ بیرل خام تیل بھی اس راستے سے منتقل ہو رہا ہے۔ امریکہ اور اس کے علاقائی شراکت دار آبنائے پر واضح کنٹرول رکھتے ہیں۔‘‘
امریکی بیان ایران کے اسلامی انقلابی گارڈ کور کے کمانڈر کے مشیر محمد رضا نقدی کے ان بیانات کے جواب میں آیا، جنہوں نے بدھ کو نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی فارس سے گفتگو میں ایک مرتبہ پھر آبنائے ہرمز کے حوالے سے تہران کے موقف کو دہرایا تھا۔ الجزیرہ کے مطابق نقدی نے کہا کہ ایران کے نزدیک غیر قانونی سمجھے جانے والے ٹرانزٹ راستے جلد بند کر دیے جائیں گے۔
دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ تہران نے جنگ ختم کرنے اور خلیج اور آبنائے ہرمز میں سلامتی بحال کرنے کے لیے اپنی شرائط ’’واضح اور مضبوط انداز‘‘ میں پیش کر دی ہیں۔
ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے IRIB کے مطابق بقائی نے کہا کہ ایران امریکی فریق کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز کا جواب ثالثوں کے ذریعے دے گا۔
بقائی نے یہ بھی بتایا کہ ایران اور عمان آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے حوالے سے ایک مفاہمت تک پہنچ گئے ہیں اور جلد اس معاہدے کو متعلقہ بین الاقوامی ادارے کے سامنے پیش کیا جائے گا۔
سرکاری ایرانی خبر رساں ایجنسی IRNA کے مطابق بقائی نے کہا کہ ایران اور عمان کے درمیان مشاورت کا عمل بہتر انداز میں آگے بڑھا ہے۔ دونوں ممالک نے آبنائے ہرمز میں آنے اور جانے کے لیے محفوظ راستوں کے جغرافیائی نقاط پر اتفاق کر لیا ہے اور متعلقہ بین الاقوامی ادارے کی سطح پر اس معاملے کو پیش کرنے کے طریقہ کار پر بھی مفاہمت ہو گئی ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان جاری تنازع کے باعث آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔
ٹرمپ کا دعویٰ: جنگ جلد ختم ہو جائے گی
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو کہا تھا کہ ایران کے ساتھ جنگ ’’بہت جلد‘‘ ختم ہو جائے گی اور اس کے بعد تیل کی قیمتیں ’’تیزی سے نیچے آ جائیں گی‘‘۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ امریکہ نے ایران کی جوہری صلاحیت ختم کر دی ہے۔
واشنگٹن سے سان انتونیو میں ریپبلکن پارٹی کی انتخابی ریلی کے لیے روانہ ہوتے ہوئے صحافیوں سے گفتگو میں ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے معاملے میں امریکہ کو جوہری ہتھیاروں کے خطرے سے نمٹنا ہے اور امریکہ نے ایران کی جوہری طاقت ختم کر دی ہے۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران کا ’’پورا ملک اس وقت تباہ ہو چکا ہے‘‘ اور جنگ بہت جلد ختم ہو جائے گی، جس کے بعد تیل کی قیمتیں تیزی سے کم ہوں گی۔
دوسری جانب ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے ٹرمپ کے اس دعوے کو مسترد کیا کہ ایران کے وزیر تیل نے امریکی جنگ کے دباؤ میں استعفیٰ دیا ہے۔ الجزیرہ کے مطابق انہوں نے اس دعوے کو ’’اپنی ناکامیوں کو چھپانے کی ایک بے سود کوشش‘‘ قرار دیا۔
مہاجرانی نے کہا کہ وزیر تیل کا استعفیٰ کمزوری کی علامت نہیں بلکہ ایک مستحکم سیاسی نظام میں لچک کی مثال ہے۔
ایران کا سفارتی راستہ اختیار کرنے پر زور
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران اپنے دفاع کے لیے پُرعزم ہے، تاہم حکام ملک کے مفادات اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے سفارت کاری کے استعمال کو سنجیدگی سے آگے بڑھا رہے ہیں۔عراقچی کے مطابق نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں ایرانی وفد نے امریکہ کے سامنے سات روزہ امن منصوبہ پیش کیا تھا، جس کا مقصد آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا تھا۔
الجزیرہ نے عراقچی کے ٹیلی گرام چینل کے حوالے سے بتایا کہ ٹرمپ نے گزشتہ ماہ کے آخر میں پیش کی گئی ایرانی تجویز کو مسترد کر دیا تھا، جس کے ایک روز بعد امریکی حکام نے جنگ ختم کرنے کے لیے مذاکرات بحال کرنے کی غرض سے ایک جوابی تجویز پیش کی۔
ٹرمپ کا آبنائے ہرمز پر امریکی کنٹرول کا دعویٰ
ٹرمپ نے منگل کو بھی آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت پر امریکی کنٹرول کا دعویٰ دہرایا۔ انہوں نے کہا کہ یہ آبی گزرگاہ ’’امریکی بحریہ اور امریکہ کی ملکیت ہے‘‘ اور وہاں امریکی بحری موجودگی ایران کے خلاف ایک مؤثر ناکہ بندی کی حیثیت رکھتی ہے۔میری لینڈ کے اسپیروز پوائنٹ میں خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے امریکی اقدامات کو تاریخ کی ’’سب سے مؤثر اور ناقابلِ نفوذ ناکہ بندیوں میں سے ایک‘‘ قرار دیا۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس طرح کی ناکہ بندی پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی اور کوئی جہاز وہاں سے گزر نہیں رہا۔
ٹرمپ نے آبنائے سے گزرنے کی کوشش کرنے والے جہازوں کے خلاف امریکی کارروائیوں کے حوالے سے بھی سخت بیان دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی جہاز گزرنے کی کوشش کرتا ہے تو امریکی کارروائی کا سامنا کر سکتا ہے۔ٹرمپ نے ایک مرتبہ پھر کہا کہ ’’آبنائے ہرمز امریکی بحریہ اور امریکہ کی ہے‘‘ اور اس وقت بھی امریکی کنٹرول میں ہے۔
اسی تقریب میں ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ دنیا کی سب سے بڑی بحری طاقت برقرار رہے گا اور دعویٰ کیا کہ ایرانی فوج بری طرح کمزور ہو چکی ہے۔انہوں نے ایران کے حوالے سے کہا کہ امریکہ اپنی کارروائیوں میں ’’بہت اچھی طرح‘‘ آگے بڑھ رہا ہے اور اب یہ صرف اس بات کا فیصلہ ہے کہ مسئلے کو کس طریقے سے ختم کیا جائے۔
آبنائے ہرمز میں امریکی اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے ٹرمپ نے ’’ناکہ بندی‘‘ کے بجائے اسے ’’اسٹیل کی دیوار (Wall of Steel)‘‘ قرار دیا۔
ٹرمپ نے یہ بھی کہا ہے کہ امریکی بحریہ اس بات کو یقینی بنا رہی ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔ایرانی تنازع کے دوران ٹرمپ مسلسل آبنائے ہرمز پر امریکی کنٹرول کا دعویٰ کرتے رہے ہیں اور کہتے رہے ہیں کہ امریکی بحریہ نے اس اہم سمندری راستے سے ایرانی جہازوں اور ایرانی بندرگاہوں کی جانب بحری آمدورفت محدود کر دی ہے۔