نئی دہلی: ہندوستان نے جمعرات کو کہا کہ وہ اپنے اقتصادی مفادات کے تحفظ اور توانائی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔ یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایک بل منظور کیا ہے، جس کے تحت امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو ہندوستان اور چین جیسے ممالک پر روس سے خام تیل خریدنے کی صورت میں 100 فیصد تک اضافی محصولات عائد کرنے کا اختیار مل سکتا ہے۔ امریکی ایوانِ نمائندگان نے لنڈسی او گراہم سینکشننگ رشیا اینڈ ایران ایکٹ 2026 منظور کیا ہے۔ اس بل میں ٹرمپ کو روس پر پابندیاں عائد کرنے اور اس کے اہم تجارتی شراکت دار ممالک پر بھاری محصولات لگانے کا اختیار دینے کی بات کہی گئی ہے۔
ہندوستانی وزارتِ خارجہ (MEA) نے اپنے ردعمل میں کہا کہ ہندوستان اپنے 1.4 ارب عوام کی توانائی سلامتی یقینی بنانے کے لیے ’’مکمل طور پر پرعزم‘‘ ہے اور اپنے تجارتی و اقتصادی مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ’’ضروری اقدامات‘‘ کرے گا۔ وزارت نے کہا کہ امریکی کانگریس میں بل کی منظوری کے بعد ہندوستانی حکومت اس معاملے میں ہونے والی مزید پیش رفت پر نظر رکھے ہوئے ہے۔
روس گزشتہ کچھ عرصے سے ہندوستان کی توانائی ضروریات کے لیے تیل کا ایک اہم ذریعہ رہا ہے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران ہندوستان کی جانب سے روسی خام تیل کی خریداری میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ وزارتِ خارجہ نے کہا، ’’جیسا کہ پہلے بھی کئی مواقع پر واضح کیا جا چکا ہے، ہندوستان اپنے 1.4 ارب عوام کی توانائی سلامتی یقینی بنانے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔‘‘ وزارت نے مزید کہا کہ ہندوستان توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے مختلف ذرائع سے خریداری جاری رکھے گا اور بدلتی ہوئی عالمی مارکیٹ کی صورت حال کو بھی مدنظر رکھے گا۔
وزارتِ خارجہ کے مطابق، گزشتہ چند ماہ کے دوران اس معاملے پر امریکی حکام کے ساتھ اعلیٰ سطح پر بات چیت ہوئی ہے۔ وزارت نے کہا کہ ہندوستانی فریق نے اس بل کے ممکنہ اثرات، نہ صرف ہندوستان اور امریکہ کے دو طرفہ تعلقات بلکہ عالمی توانائی مارکیٹ پر بھی، امریکہ کے سامنے واضح طور پر رکھے ہیں۔ وزارتِ خارجہ نے مزید کہا کہ ہندوستان نے امریکی فریق کو یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ وہ اپنے تجارتی اور اقتصادی مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ وزارت نے کہا، ’’حکومت ان پیش رفت کے اثرات سے نمٹنے کے لیے ہندوستانی تجارتی اور صنعتی اداروں کے ساتھ قریبی تعاون کرے گی۔‘
‘ پابندیوں سے متعلق یہ بل گزشتہ ماہ امریکی سینیٹ نے منظور کیا تھا۔ اس کے بعد ایوانِ نمائندگان نے بدھ کی شام 262 کے مقابلے میں 159 ووٹوں سے اسے منظور کر لیا۔ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے دستخط کے بعد یہ بل قانون بن جائے گا۔ بل میں روس کی قیادت اور توانائی کے شعبے پر پابندیاں عائد کرنے کے ساتھ ساتھ ان جہازوں کے نام نہاد ’’شیڈو فلیٹ‘‘ کے خلاف بھی کارروائی کی تجویز ہے، جو ماسکو کو تیل کی ترسیل پر عائد پابندیوں سے بچنے میں مدد دیتے ہیں۔ اس بل کے تحت ٹرمپ کو چین، ہندوستان اور دیگر ممالک پر سخت محصولات عائد کرنے کا اختیار بھی دیا جا سکتا ہے، تاکہ ان ممالک کا روسی تیل اور گیس پر انحصار کم کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ ایران پر مزید پابندیاں عائد کرنے کی بھی تجویز ہے۔