واشنگٹن: امریکی محکمہ خارجہ کے ایک ترجمان نے جمعرات کو کہا کہ امریکہ اگلے ہفتے نیویارک میں ہونے والے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں ایرانی وفد کو شرکت کی اجازت دے رہا ہے۔
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حالیہ جنگ کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی ساتویں ماہ میں داخل ہو چکی ہے۔ معاملے سے واقف ایک ذریعے نے تصدیق کی ہے کہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان بھی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کر سکیں گے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ میزبان ملک کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریوں کے تحت ایرانی حکومت کا بنیادی وفد اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطحی ہفتے میں شرکت کر سکے گا۔
تاہم امریکی اہلکار کے مطابق ایرانی وفد گزشتہ سال کے مقابلے میں مختصر ہوگا۔ وفد کے ارکان کو سفری پابندیوں کے ساتھ ساتھ پرتعیش اشیا اور بعض دیگر مصنوعات کی خریداری پر پابندیوں کا سامنا بھی کرنا پڑے گا۔
امریکہ اور ایران میں کشیدگی
فروری کے اواخر سے ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد ایک ایسی جنگ شروع ہوئی جو پورے مشرق وسطیٰ تک پھیل گئی۔
ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے توانائی کی عالمی ترسیل کے لیے اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کر دی، جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔
حالیہ ہفتوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان لڑائی میں ایک بار پھر شدت دیکھی گئی ہے۔ آبنائے ہرمز کے علاوہ یمن کے قریب واقع آبنائے باب المندب میں بھی بحری جہازوں کی آمدورفت محدود ہے، جہاں حوثی باغیوں کا کنٹرول ہے۔
فلسطینی وفد سے متعلق امریکی فیصلہ
امریکہ کا ایرانی وفد کو جنرل اسمبلی میں شرکت کی اجازت دینے کا فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن نے فلسطینی صدر محمود عباس کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت کے لیے ویزا دینے سے انکار کیا ہے۔
ایک ذریعے نے بدھ کو اس فیصلے کی تصدیق کی۔ یہ مسلسل دوسرا سال ہے جب امریکہ نے محمود عباس کو جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے ویزا جاری نہیں کیا۔
گزشتہ سال بھی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے اس فیصلے کے باعث فلسطینی رہنما نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کیا تھا۔
امریکی محکمہ خارجہ نے ایک بیان میں، جس میں محمود عباس کا نام نہیں لیا گیا، کہا کہ وہ فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کے ارکان اور فلسطینی اتھارٹی کے عہدے داروں کو ویزے دینے سے انکار کرے گا۔
بیان میں اس فیصلے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا گیا کہ متعلقہ افراد امریکہ کے ساتھ کیے گئے وعدوں کے مطابق اصلاحات نافذ کرنے میں ناکام رہے ہیں اور ان کی بعض مسلسل سرگرمیاں امن کے امکانات کو نقصان پہنچاتی ہیں۔