لندن: یونائیٹڈ کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی (یو کے پی این پی) نے حال ہی میں لندن میں برطانوی پارلیمنٹ میں اپنی چھٹی بین الاقوامی کشمیر کانفرنس منعقد کی۔ کانفرنس میں پاکستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر خصوصاً راولاکوٹ میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں اور انسانی صورت حال پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔
کانفرنس میں برطانوی ارکان پارلیمنٹ اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے علاوہ سیاسی نمائندوں اور سماجی تنظیموں کے ارکان نے شرکت کی۔ شرکا نے 5 جون 2026 سے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں شہریوں کی ہلاکتوں اور جبری گمشدگیوں کے علاوہ من مانے طور پر گرفتاریوں اور مواصلاتی پابندیوں سمیت انسداد دہشت گردی کے قوانین کے مبینہ استعمال پر تبادلہ خیال کیا۔
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور مقامی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کانفرنس کے منتظمین نے الزام لگایا کہ 100 سے زیادہ شہری ہلاک کیے جا چکے ہیں جبکہ سیکڑوں افراد لاپتہ یا زیر حراست ہیں اور ہزاروں افراد کو فوجداری مقدمات کا سامنا ہے۔ شرکا نے انٹرنیٹ کی بندش اور مواصلاتی ذرائع پر پابندیوں کے علاوہ ضروری اشیائے خوردونوش کی فراہمی میں مبینہ رکاوٹوں پر بھی تشویش ظاہر کی۔
پاکستان کے رویے پر یو کے پی این پی کے سربراہ کی تنقید
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یو کے پی این پی کے چیئرمین شوکت علی کشمیری نے کشمیری عوام کے سیاسی حقوق اور ان کی امنگوں کے تئیں پاکستان کے رویے پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ اب یہ بات سب پر واضح ہو چکی ہے کہ پاکستان کشمیریوں کی آواز کا احترام کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ ان کے بقول کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کی حمایت کے پاکستانی دعوے محض نعرے ہیں۔
پاکستانی حکام کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے شوکت علی کشمیری نے شہریوں کی ہلاکتوں سے متعلق اطلاعات اور کشمیر کے بارے میں پاکستان کے سرکاری موقف اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی زمینی صورت حال کے درمیان فرق پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف کشمیریوں کو اپنا پیارا کہا جاتا ہے تو دوسری طرف پاکستانی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں 100 یا 133 افراد کی ہلاکتوں کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ انہوں نے خطے میں شہریوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر بھی سوال اٹھایا۔
برطانوی رکن پارلیمنٹ نے متاثرہ خاندانوں کی تشویش اجاگر کی
برطانوی رکن پارلیمنٹ رچرڈ برگن نے بھی اس صورت حال کے برطانیہ میں مقیم ان خاندانوں پر پڑنے والے اثرات کے بارے میں تشویش ظاہر کی جن کے رشتہ دار پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے حلقے کے لوگ اپنے اہل خانہ اور عزیزوں کی خیریت کے بارے میں شدید پریشانی کے ساتھ ان سے ملنے آئے ہیں۔
انہوں نے انٹرنیٹ اور مواصلاتی ذرائع کی بندش کے علاوہ آٹے اور خوراک جیسی بنیادی ضروریات کی فراہمی میں مبینہ رکاوٹوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ صورت حال انتہائی سنگین ہے۔
رچرڈ برگن نے بتایا کہ یہ معاملہ برطانوی حکومت کے سامنے بار بار اٹھایا گیا ہے اور متعلقہ وزیر کے علاوہ ان کے پیش رو بھی اس سلسلے میں نمائندگی کر چکے ہیں۔
آزادانہ تحقیقات اور عالمی مداخلت کا مطالبہ
کانفرنس میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کی آزادانہ تحقیقات کرانے اور ذمہ داروں کو جواب دہ بنانے کا مطالبہ کیا گیا۔ شرکا نے ان افراد کی رہائی پر بھی زور دیا جنہیں اپنے حقوق کے پُرامن استعمال کے باعث حراست میں لیا گیا ہے۔
کانفرنس کے شرکا نے برطانوی حکومت اور اقوام متحدہ کے علاوہ بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے میں مداخلت کریں۔ انہوں نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے عوام کے لیے پُرامن مذاکرات اور جمہوری آزادیوں کے تحفظ کے ساتھ انصاف کی فراہمی کو ضروری قرار دیا۔