ٹرمپ کی ایران کو وارننگ۔ براہ راست مذاکرات کے لیے آمادگی برقرار

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 06-10-2026
ٹرمپ کی ایران کو وارننگ۔ براہ راست مذاکرات کے لیے آمادگی برقرار
ٹرمپ کی ایران کو وارننگ۔ براہ راست مذاکرات کے لیے آمادگی برقرار

 



واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر برطانیہ سے امریکی فوجی طیاروں کو منتقل کرنے پر مجبور کرنے والے سکیورٹی خطرات کے پیچھے تہران کا ہاتھ پایا گیا تو ایران کو ’’بہت بھاری نقصان‘‘ اٹھانا پڑے گا۔ تاہم انہوں نے ساتھ ہی واضح کیا کہ وہ ایرانی قیادت کے ساتھ براہ راست مذاکرات کے لیے اب بھی تیار ہیں۔میرین ون سے روانگی سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور توانائی کی منڈیوں اور امریکی بمبار طیاروں کی نقل مکانی اور فلائی دبئی سے متعلق ایک واقعے کے بارے میں سوالات کے جواب دیے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا برطانوی سرزمین سے بمبار طیاروں کو ہٹانے کا فیصلہ کسی مخصوص خطرے کے باعث کیا گیا تو صدر ٹرمپ نے تصدیق کی کہ واقعی خطرات موصول ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ طیاروں کو وہاں سے اتفاقاً نہیں ہٹایا گیا تھا۔مزید وضاحت کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ کچھ خطرات موجود تھے اور دشمن کو آزمانے کے بجائے امریکہ دشمن کو پکڑے گا اور اسے شکست دے گا۔ انہوں نے کہا کہ جب طیاروں کو وہاں رکھنے کی ضرورت نہیں تھی تو انہیں زیادہ دور نہیں بلکہ کچھ فاصلے پر منتقل کردیا گیا۔

ابتدائی طور پر خطرے کے ماخذ کی فوری طور پر نشاندہی نہیں کی گئی تھی تاہم بعد میں سوال کیا گیا کہ کیا جنگی ڈرونز برطانیہ پہنچائے گئے تھے جس کے باعث امریکی طیاروں کو حکمت عملی کے تحت دوسری جگہ منتقل کیا گیا۔ اس پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ اس بارے میں کچھ نہیں بتا سکتے لیکن اگر ایسا کیا گیا ہے تو ذمہ داروں کو بہت بھاری نقصان اٹھانا پڑے گا۔امریکی صدر نے بعد میں بتایا کہ امریکی خفیہ اداروں نے ان افراد کی شناخت کرلی ہے جو ان سکیورٹی خطرات کے ذمہ دار تھے۔ انہوں نے کہا کہ حکام کو ان لوگوں کے بارے میں مخصوص معلومات حاصل ہیں جنہوں نے یہ دھمکی دی تھی اور اب ان کے لیے ایک بڑا مسئلہ پیدا ہونے والا ہے۔

جب ان سے براہ راست پوچھا گیا کہ کیا ان افراد کے ایران سے روابط ہیں تو صدر ٹرمپ نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ایران سے روابط ہوں گے۔سکیورٹی خدشات کے باوجود صدر ٹرمپ نے میزبان ملک برطانیہ پر اعتماد کا اظہار کیا اور کہا کہ وہاں امریکی اہلکاروں کی سرگرمیوں کے لیے سکیورٹی کا انتظام برقرار ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان تعاون جاری ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا برطانیہ اب بھی امریکی اہلکاروں کے لیے محفوظ ہے تو انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں برطانیہ محفوظ ہے اور ان کے نئے وزیر اعظم کے ساتھ ان کے بہت اچھے تعلقات ہیں۔

تہران کے لیے براہ راست انتباہ کے باوجود امریکی صدر نے سفارتی رابطے کے دروازے کھلے رکھنے کا اشارہ دیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ ایران کے ساتھ براہ راست مذاکرات کے لیے تیار ہیں تو انہوں نے مختصر جواب میں اس کی تصدیق کی۔گفتگو کے دوران صدر ٹرمپ نے فلائی دبئی سے متعلق ایک فضائی سکیورٹی واقعے کی ذمہ داری بھی تہران پر عائد کی اور کہا کہ وہ ذاتی طور پر سمجھتے ہیں کہ اس واقعے کے پیچھے ایران کا ہاتھ تھا۔ تاہم انہوں نے اپنے بیان کی مزید وضاحت نہیں کی اور نہ ہی اس دعوے کے حق میں کوئی دستاویزی ثبوت پیش کیا۔معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں اور روس کی تیل صاف کرنے والی تنصیبات پر حملوں کے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے اجناس کی قیمتوں کے رجحان پر امید کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پٹرول کی قیمتیں تیزی سے کم ہورہی ہیں اور جنگ ختم ہونے کے بعد ان میں بہت بڑی کمی آئے گی۔ ان کے بقول جنگ بہت جلد ختم ہونے والی ہے۔

صدر ٹرمپ نے تسلیم کیا کہ روسی تیل صاف کرنے والی تنصیبات پر حملوں کے باعث ڈیزل کی دستیابی پر دباؤ پیدا ہوا ہے جس کے نتیجے میں امریکہ اور اس کے یورپی شراکت داروں کو اپنے ہنگامی ذخائر استعمال کرنا پڑے ہیں۔ تاہم انہوں نے اپنی حکومت کے وسیع تر خارجہ پالیسی مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ تیل کی قیمتیں کم ہورہی ہیں اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔