واشنگٹن ڈی سی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آئندہ ہفتے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر خلیج تعاون کونسل جی سی سی کے رکن ممالک کے رہنماؤں اور وزرائے خارجہ سے ملاقات کریں گے۔ ملاقات میں ایران کے ساتھ جاری جنگ کے اگلے مراحل اور جنگ کے بعد کی حکمت عملی پر بات چیت متوقع ہے۔ ایکسیوس نے 3 ذرائع کے حوالے سے یہ اطلاع دی ہے۔
ایکسیوس کے مطابق ملاقات میں جنگ کے بعد کی حکمت عملی سے متعلق امریکی تجاویز پر توجہ دی جائے گی۔ ٹرمپ انتظامیہ ایران جنگ کے بعد کے حالات سے متعلق ایک منصوبے پر کام کر رہی ہے۔ اس منصوبے کو نومبر میں ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد حتمی شکل دیے جانے کی توقع ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ نے بدھ کو اجلاس کے لیے ابتدائی دعوت نامے بھیج دیے۔ ایک ذریعے کے مطابق اس اجلاس میں دیگر عرب اور مسلم ممالک کے رہنماؤں کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔ملاقات میں جی سی سی کے 6 رکن ممالک سعودی عرب۔ متحدہ عرب امارات۔ قطر۔ بحرین۔ کویت اور عمان کے نمائندوں کی شرکت متوقع ہے۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ٹرمپ نے بدھ کو کہا کہ انہیں امید ہے کہ واشنگٹن ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کی جانب بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے اور امریکہ کو یہ بات براہ راست ایران کی جانب سے معلوم ہوئی ہے۔ (خلیجی ممالک جنگ کے دوران بھی متاثر ہوئے ہیں۔ ان ممالک میں امریکی فوجی اڈے موجود ہیں اور انہیں ایران کے حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس کے علاوہ تیل اور قدرتی گیس کی برآمدات میں خلل کے باعث انہیں اقتصادی نقصانات بھی اٹھانا پڑا ہے۔
ایکسیوس نے ایک اسرائیلی ذریعے کے حوالے سے یہ بھی بتایا کہ اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نیویارک میں ٹرمپ سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم ابھی اس ملاقات کا کوئی حتمی پروگرام طے نہیں ہوا ہے۔مجوزہ ملاقات گزشتہ سال اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر ٹرمپ کی 8 عرب اور مسلم ممالک کے رہنماؤں سے ملاقات کے تقریباً ایک سال بعد ہوگی۔ اس وقت ٹرمپ نے غزہ کے لیے اپنے مجوزہ امن منصوبے کا مسودہ رہنماؤں کے سامنے پیش کیا تھا۔ ایک ہفتے بعد انہوں نے یہ منصوبہ عوامی طور پر پیش کیا تھا اور اس کے کچھ ہی عرصے بعد جنگ کے خاتمے کے لیے ایک معاہدہ طے پایا تھا۔
دریں اثنا امریکی ایوان نمائندگان نے منگل کو تیسری مرتبہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے خلاف فوجی کارروائی جاری رکھنے کے اختیارات محدود کرنے کی قرارداد منظور کی۔ 7 ریپبلکن ارکان نے ڈیموکریٹس کے ساتھ قرارداد کے حق میں ووٹ دیا۔ قرارداد میں مخصوص دفاعی حالات کے علاوہ ایران کے خلاف جاری جنگی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت کی گئی ہے۔قرارداد ڈیموکریٹ رکن کانگریس سیٹھ مولٹن نے پیش کی تھی اور یہ 220 کے مقابلے میں 204 ووٹوں سے منظور ہوئی۔ دستیاب رپورٹ کے مطابق یہ جون اور جولائی میں ہونے والی سابقہ دونوں کوششوں کے مقابلے میں زیادہ ریپبلکن حمایت حاصل کرنے والی ووٹنگ تھی۔