واشنگٹن: امریکہ میں 5,000 امریکی ڈالر سے کیا کچھ خریدا جا سکتا ہے؟ اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بات مانیں تو اتنی رقم سے ان کے انتہائی پُرتعیش ’مار-اے-لاگو‘ ریزورٹ میں صرف ایک ہیمبرگر خریدا جا سکتا ہے۔ امریکہ میں اگلے ہفتے وسط مدتی انتخابات ہونے والے ہیں اور ان انتخابات میں مہنگائی ایک بڑا انتخابی مسئلہ بن چکی ہے۔ تاہم، انتخابی مہم کے دوران صدر ٹرمپ کا یہ مذاق سیاسی طور پر خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ درحقیقت، ٹرمپ نے اپنے حامیوں سے مذاق میں جو بات کہی، اس کا مطلب یہی تھا کہ اگر وہ ’مار-اے-لاگو‘ کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے تو انہیں وہاں نہیں جانا چاہیے۔
اس کے باوجود، مجمع میں موجود بہت سے لوگوں کو ٹرمپ کا یہ مذاق پسند آیا اور وہ اپنی ہنسی نہیں روک سکے۔ انہوں نے صدر کی بات کا برا نہیں مانا۔ یہ مذاق بڑھتی ہوئی مہنگائی کے بارے میں تھا، جو اب ایسا اہم مسئلہ بن چکی ہے جس کے بارے میں تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ سے ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی امریکی کانگریس پر اپنا کنٹرول کھو سکتی ہے۔ امریکہ میں 3 نومبر کو پارلیمان کے ایوانِ زیریں، یعنی ایوانِ نمائندگان کی تمام 435 نشستوں اور 100 رکنی سینیٹ کی 35 نشستوں کے لیے انتخابات ہوں گے۔ فی الحال ریپبلکن پارٹی کو کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل ہے۔
کانگریس کے انتخابات ہر دو سال بعد ہوتے ہیں۔ ان میں سے ایک بار انتخابات چار سال بعد ہونے والے صدارتی انتخابات کے ساتھ ہوتے ہیں، جبکہ باقی مواقع پر یہ صدر کی مدتِ اقتدار کے درمیان منعقد ہوتے ہیں۔ ٹرمپ نے وعدہ کیا ہے کہ اگر انتخابات میں ریپبلکن پارٹی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ، دونوں پر اپنا کنٹرول برقرار رکھتی ہے تو وہ ہر بالغ امریکی شہری کو 5,000 امریکی ڈالر کا چیک دیں گے۔ ٹیکساس کے شہر کارپس کرسٹی میں منگل کو منعقدہ انتخابی ریلی میں ٹرمپ نے اپنے حامیوں سے اپیل کی کہ وہ 5,000 ڈالر فلوریڈا یا امریکہ میں کہیں بھی خرچ کریں، لیکن یہ رقم ملک سے باہر خرچ نہ کریں۔
ٹرمپ نے کہا، ’’فلوریڈا جائیں یا ہماری کسی شاندار جگہ پر جائیں۔ آپ مار-اے-لاگو بھی آ سکتے ہیں۔ میں پہلے بھی یہ بات کہہ چکا ہوں۔ مار-اے-لاگو میں آپ میرے مہمان ہوں گے۔ بس مسئلہ یہ ہے کہ 5,000 ڈالر میں آپ زیادہ سے زیادہ ایک ہیمبرگر اور شاید کوئی چھوٹی سی میٹھی چیز ہی خرید سکیں گے۔ مجھے تو یہ بھی یقین نہیں کہ آپ اتنا بھی خرید پائیں گے یا نہیں۔ نہیں، وہاں مت جائیے گا۔ اگر آپ قیمتوں کے معاملے میں محتاط رہتے ہیں تو وہ جگہ آپ کے لیے مناسب نہیں ہے۔‘‘
ٹرمپ کی اس بات پر مجمع حیران ہونے کے بجائے ہنس پڑا اور تالیاں بجانے لگا۔ یہ اس بات کا اشارہ تھا کہ ٹرمپ کی ’میک امریکہ گریٹ اگین‘ (MAGA) تحریک کے حامی ان کے صدر بنے رہنے کے لیے کس قدر پُرعزم ہیں۔ دوسری جانب، ڈیموکریٹس اور یہاں تک کہ MAGA تحریک کے بعض حامیوں نے بھی 5,000 ڈالر دینے کی اس پیشکش کا مذاق اڑایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ووٹ خریدنے کے لیے رشوت دینے کے مترادف ہے۔ اس کے علاوہ، اس منصوبے پر عمل درآمد بھی تقریباً ناممکن ہے، کیونکہ اس پر لگ بھگ 1,300 ارب ڈالر خرچ ہوں گے اور اس کے لیے کانگریس کی منظوری بھی درکار ہوگی۔
’پیو ریسرچ سینٹر‘ کی ایک حالیہ تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ 60 فیصد امریکی شہریوں کا کہنا ہے کہ ان کی آمدنی ان کی پسندیدہ طرزِ زندگی گزارنے کے لیے کافی نہیں ہے۔ جبکہ 70 فیصد لوگوں نے بتایا کہ انہوں نے باہر کھانا کھانے جیسے اضافی اخراجات میں کمی کر دی ہے۔ اس کے باوجود، ٹرمپ انتخابی مہم کے دوران مسلسل دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ امریکی معیشت بہت اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ انہوں نے روزمرہ زندگی کے بڑھتے ہوئے اخراجات کے مسئلے کو ڈیموکریٹک پارٹی کی من گھڑت کہانی قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے کے اپنے فیصلے کا بھی دفاع کیا اور کہا کہ اس جنگ کی وجہ سے پیٹرول کی قیمتوں میں ہونے والا بھاری اضافہ، ایران کے جوہری عزائم کو روکنے کے لیے ادا کی جانے والی ایک ’’معمولی قیمت‘‘ ہے۔
ٹرمپ نے کہا، ’’مغربی ایشیا کی صورتِ حال کی وجہ سے آپ کے ملک کو بہت بڑا معاشی فائدہ ہو رہا ہے۔ ہم ان تمام توانائی کمپنیوں کو ٹیکساس اور لوزیانا کی طرف بھیج رہے ہیں۔ الاسکا کو بھی اس سے بہت فائدہ ہو رہا ہے۔‘‘ فی الحال سینیٹ میں ریپبلکن پارٹی کو اکثریت حاصل ہے اور اس کے 53 ارکان ہیں، جبکہ ڈیموکریٹک پارٹی کے 47 ارکان ہیں۔ سینیٹ کی جن 35 نشستوں پر دوبارہ انتخابات ہونے ہیں، ان میں سے 22 پر ریپبلکن اور 13 پر ڈیموکریٹس قابض ہیں۔ ایسی صورتِ حال میں ڈیموکریٹک پارٹی کو سینیٹ کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے اپنی تمام 13 نشستیں برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ مزید چار نشستیں بھی جیتنا ہوں گی۔
ایوانِ نمائندگان میں اس وقت ریپبلکن پارٹی کے پاس 218 نشستیں ہیں، جبکہ ڈیموکریٹک پارٹی کے پاس 214 نشستیں ہیں۔ ایک نشست آزاد رکن کے پاس ہے، جبکہ ایوانِ نمائندگان کی دو نشستیں فی الحال خالی ہیں۔ کانگریس کے انتخابات کے علاوہ امریکی شہری ملک کی 50 میں سے 36 ریاستوں میں گورنروں کے انتخاب کے لیے بھی ووٹ ڈالیں گے۔ ان ریاستوں میں اوہائیو بھی شامل ہے، جسے ریپبلکن پارٹی کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ وہاں وویک راماسوامی کا مقابلہ ڈیموکریٹک امیدوار ایمی ایکٹن سے ہے۔