ٹرمپ کا 2026 کے نوبیل امن انعام پر پھر دعویٰ

Story by  PTI | Posted by  [email protected] | Date 08-10-2026
ٹرمپ کا 2026 کے نوبیل امن انعام پر پھر دعویٰ
ٹرمپ کا 2026 کے نوبیل امن انعام پر پھر دعویٰ

 



واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر 2026 کے نوبیل امن انعام کا حقدار ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے اپنی دوسری مدت کے دوران آٹھ جنگیں ختم کرائی ہیں۔ تاہم، انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ انہیں شک ہے کہ ناروے کی نوبیل کمیٹی آخرکار انہیں اس اعزاز کے لیے منتخب کرے گی یا نہیں۔ بدھ کو اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ نوبیل امن انعام کے فاتح کا اعلان جلد ہونے والا ہے اور ان کے پاس اپنی نامزدگی کے حق میں مضبوط دلائل موجود ہیں۔

انہوں نے کہا، ’’اب وہ وقت آگیا ہے۔‘‘ ٹرمپ نے مزید کہا کہ گزشتہ مرتبہ یہ اعزاز حاصل کرنے والے شخص سے بالواسطہ طور پر یہ بات سن کر انہیں بہت عزت محسوس ہوئی تھی کہ تاریخ میں صدر ٹرمپ سے زیادہ اس انعام کا حقدار کوئی نہیں ہے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ان کی سفارتی کوششوں نے ان سے پہلے کے امریکی صدور کی کامیابیوں کو بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ دوسری مدت صدارت سنبھالنے کے بعد سے انہوں نے آٹھ مختلف تنازعات کو کامیابی سے حل کیا ہے۔

انہوں نے کہا، ’’میں نے ایسے کام کیے ہیں جو کسی اور نے کبھی نہیں کیے۔ میں شیخی نہیں بگھار رہا، صرف حقائق بتا رہا ہوں۔ شاید کسی صدر نے کبھی کوئی جنگ ختم نہیں کرائی۔ میں نے آٹھ جنگیں ختم کرائی ہیں۔‘‘ نوبیل امن انعام کے فاتح کا سرکاری اعلان جمعہ کو متوقع ہے۔ ٹرمپ نے اس امکان کو بھی تسلیم کیا کہ نوبیل کمیٹی انہیں نظرانداز کرسکتی ہے۔ انہوں نے کمیٹی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس کی شاید یہ شہرت رہی ہے کہ وہ ’’میرے جیسے لوگوں‘‘ کو یہ انعام نہیں دیتی۔ انہوں نے کہا، ’’مجھے یہ انعام ملے یا نہ ملے، میں نے بہت کچھ کیا ہے۔ اور مجھے لگتا ہے کہ اگر انہوں نے مجھے یہ انعام نہیں دیا تو یہ ان کے لیے بہت بڑی بدنامی ہوگی۔ میں یہ بات نفرت کی وجہ سے نہیں کہہ رہا، بلکہ اس لیے کہہ رہا ہوں کہ جب آپ آٹھ جنگیں ختم کراتے ہیں، اور کسی نے کبھی ایسا نہیں کیا تو...‘‘ اپنے سیاسی مخالفین کو نشانہ بناتے ہوئے ٹرمپ نے سابق صدر براک اوباما کو بھی یاد کیا، جنہیں 2009 میں نوبیل امن انعام دیا گیا تھا۔

ٹرمپ نے کہا، ’’اوباما کو یہ انعام ملا اور انہوں نے کچھ نہیں کیا۔ انہیں آج بھی معلوم نہیں کہ انہیں یہ انعام کیوں ملا۔ انہیں یہ انعام منتخب ہونے کے فوراً بعد، بالکل ابتدا میں مل گیا تھا اور انہیں کوئی اندازہ نہیں تھا کہ انہیں یہ کیوں دیا گیا۔‘‘ ٹرمپ نے گزشتہ سال وینزویلا کی حزب اختلاف کی رہنما ماریا کورینا ماچاڈو سے متعلق ایک واقعے کا بھی ذکر کیا، جنہیں گزشتہ سال نوبیل امن انعام کے امیدواروں میں شامل کیا گیا تھا۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ اوول آفس میں ایک ملاقات کے دوران انہوں نے اپنا نوبیل میڈل انہیں دے دیا تھا۔ ٹرمپ نے کہا، ’’گزشتہ مرتبہ انہوں نے یہ اعزاز ایک ایسی نوجوان خاتون کو دیا جو بہت شاندار انسان ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ اس کی حقدار نہیں بلکہ میں اس کا حقدار ہوں، اور انہوں نے یہ اعزاز مجھے دے دیا۔‘‘ امریکی حکومت کے عہدیدار بارہا یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ ٹرمپ کی جارحانہ تجارتی پالیسیوں اور معاشی دباؤ، جن میں محصولات عائد کرنے کی دھمکیاں بھی شامل ہیں، نے مخالف ممالک کو مذاکرات کی میز پر آنے پر مجبور کیا۔ تاہم، ٹرمپ کی سفارتی کامیابیوں کے دعووں پر بعض حلقوں نے سوالات بھی اٹھائے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ان کی مداخلت کے باوجود کئی علاقوں میں مسلح تنازعات دوبارہ شروع ہوئے ہیں، جن میں جمہوریہ کانگو کے بعض حصے اور کمبوڈیا اور تھائی لینڈ کے درمیان متنازع سرحدی علاقے شامل ہیں۔

یوکرین میں جاری طویل جنگ بھی ٹرمپ کے لیے ایک چیلنج ہے۔ انہوں نے متعدد مرتبہ اس تنازع کا جلد سفارتی حل نکالنے کا دعویٰ کیا، لیکن امریکی حکومت اب تک کوئی مستقل امن معاہدہ کرانے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے۔ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی، خصوصاً امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ فوجی حملوں کے بعد ایران کے ساتھ مسلسل تناؤ، بھی ٹرمپ انتظامیہ کے مکمل امن قائم کرنے کے دعوے کو مشکل بناتا ہے۔ نوبیل امن انعام ایک آزاد اعزاز ہے، جس کا فیصلہ ناروے کی نوبیل کمیٹی اوسلو میں کرتی ہے۔ 2026 کے ممکنہ امیدواروں کے طور پر مبصرین پوپ لیو، بین الاقوامی فوجداری عدالت اور فلسطینی علاقوں کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے سمیت مختلف ناموں کا ذکر کر رہے ہیں۔