ممبئی،: امریکہ کے وزیر خارجہ مارکو روبیو نے منگل کے روز کہا کہ واشنگٹن دنیا بھر میں دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے۔ تاہم، انہوں نے پاکستان کے ساتھ سفارتی تعلقات برقرار رکھنے کی وجوہات بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس کے جوہری ہتھیار اور جغرافیائی اہمیت امریکہ کے لیے اس ملک کے ساتھ رابطہ برقرار رکھنا ضروری بناتے ہیں۔
نیٹ ورک 18 کو دیے گئے انٹرویو میں روبیو نے پاکستان کے ساتھ مسلسل سفارتی رابطوں کا دفاع کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے جوہری ہتھیاروں اور اس کے تزویراتی محل وقوع کے پیش نظر امریکہ کے لیے اس کے ساتھ سرکاری تعلقات برقرار رکھنا سفارتی ضرورت ہے۔
روبیو نے کہا، ’’ہم دنیا میں کہیں بھی ہونے والی دہشت گردی کے خلاف ہیں۔ ہم دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والے ہر فریق کے خلاف ہیں۔‘‘
تاہم، انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کے ساتھ مسلسل سفارتی رابطے واشنگٹن کو ایسے اقدامات کی حوصلہ شکنی کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں جن پر نئی دہلی کو تشویش ہے۔
روبیو کے مطابق، ’’میرے خیال میں کسی حد تک یہ مثبت بھی ثابت ہوسکتا ہے، کیونکہ اگر ہمارے تعلقات ہوں اور ہم ان سے بات کرسکیں تو اس سے ہمیں مدد مل سکتی ہے۔ اس طرح ہم ان سرگرمیوں کی حوصلہ شکنی کرنے کی پوزیشن میں آسکتے ہیں جن پر ہندوستان کو تشویش ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ وزیر خارجہ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد ان کی ذمہ داریوں میں وسعت آئی ہے اور اب انہیں امریکہ کی وسیع تر عالمی خارجہ پالیسی کی نگرانی کرنی ہوتی ہے۔
روبیو نے پاکستان کو امریکی مالی امداد محدود کرنے سے متعلق اپنی سابقہ قانون سازی کی تجاویز کے حوالے سے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا، ’’اب میں سینیٹر نہیں ہوں بلکہ امریکہ کا وزیر خارجہ ہوں۔ مجھے امریکہ کی خارجہ پالیسی کا انتظام سنبھالنا ہے، اور اس کے لیے مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنا ضروری ہے، جن میں وہ ممالک بھی شامل ہیں جن کے ساتھ ہمارے بعض معاملات پر اختلافات ہوسکتے ہیں۔‘‘
انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ امریکہ کو پاکستان کے ساتھ رابطے برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے پاکستان کی جوہری صلاحیت اور اس کے جغرافیائی محل وقوع کا حوالہ دیا۔
روبیو نے کہا، ’’پاکستان ایسا ملک ہے جس کے ساتھ ہمیں تعلقات برقرار رکھنے ہیں۔ اس کے پاس جوہری ہتھیار ہیں اور جغرافیائی اعتبار سے بھی ہمیں اس کے ساتھ رابطے میں رہنے کی ضرورت ہے۔ یہ کچھ اسی طرح ہے جیسے ہندوستانی حکومت کو ایران کے ساتھ تعلقات رکھنے اور وہاں کی قیادت سے ملاقات کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔‘‘
روبیو نے تسلیم کیا کہ دوطرفہ پالیسیوں میں اختلافات کے باوجود سفارتی تعلقات میں توازن برقرار رکھنا آسان نہیں ہے۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ ایسے مسلسل رابطے امریکہ کی خارجہ پالیسی کا ایک اہم حصہ ہیں۔انہوں نے کہا، ’’ان معاملات میں توازن قائم کرنا مشکل ہے، لیکن خارجہ پالیسی کے تحت ہمیں ایسا کرنا پڑتا ہے۔‘‘