ریاض ہوائی اڈے پر حملوں میں تین سعودی شہری ہلاک، حوثیوں نے ذمہ داری قبول کی

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 09-10-2026
ریاض ہوائی اڈے پر حملوں میں تین سعودی شہری ہلاک، حوثیوں نے ذمہ داری قبول کی
ریاض ہوائی اڈے پر حملوں میں تین سعودی شہری ہلاک، حوثیوں نے ذمہ داری قبول کی

 



قاہرہ: سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور سعودی ایئرلائنز کے ایک طیارے کو نشانہ بنا کر جمعرات کو کیے گئے دو حملوں میں تین سعودی شہری ہلاک اور متعدد دیگر زخمی ہو گئے۔ سعودی عرب کی شہری ہوا بازی اتھارٹی نے جمعہ کو یہ اطلاع دی۔ اتھارٹی کے بیان کے مطابق، پہلے حملے میں ہوائی اڈے کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جب کہ دوسرے حملے میں ایک طیارے پر حملہ کیا گیا۔ تاحال ان حملوں کے ذمہ داروں کی شناخت نہیں ہو سکی ہے۔ تاہم، پڑوسی ملک یمن میں سرگرم ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں نے ہوائی اڈے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

شہری ہوا بازی کی اتھارٹی کے مطابق، پہلے حملے میں ہوائی اڈے کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جب کہ دوسرے حملے میں سعودی ایئرلائنز کے ایک طیارے پر حملہ کیا گیا۔ ان حملوں میں املاک کو نقصان پہنچا اور سعودی شہریوں کے علاوہ مختلف قومیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد بھی زخمی ہوئے۔ اتھارٹی نے اپنے بیان میں کہا، ’’ان حملوں میں تین سعودی شہری جاں بحق ہوئے۔ اللہ ان پر رحم فرمائے۔ اس کے علاوہ مختلف قومیتوں سے تعلق رکھنے والے متعدد سعودی شہری اور رہائشی زخمی ہوئے، جن میں معمولی سے لے کر شدید نوعیت کے زخم شامل ہیں۔ تمام زخمیوں کو فوری طور پر ضروری طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا۔ حملوں میں بعض املاک کو بھی نقصان پہنچا۔‘

‘ بیان کے مطابق، حملوں کے فوراً بعد ہنگامی امدادی ٹیموں اور متعلقہ اداروں نے طے شدہ طریقۂ کار اور ہنگامی منصوبوں کے تحت کارروائی شروع کر دی۔ اتھارٹی نے کہا کہ وہ متعلقہ حکام کے ساتھ مل کر نقصان کا جائزہ لینے، ہوائی اڈے کی تنصیبات کی حفاظت کی تصدیق کرنے اور مسافروں و عملے کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات کر رہی ہے۔ اس کا مقصد مملکت کے شہری ہوا بازی کے نظام کی حفاظت برقرار رکھنا بھی ہے۔ اتھارٹی نے تصدیق کی کہ ہوائی اڈے پر پروازوں کی آمد و رفت دوبارہ شروع ہو گئی ہے اور فضائی ٹریفک معمول پر آ گئی ہے۔ دوسری جانب، سعودی ایئرلائنز نے تصدیق کی کہ اس واقعے میں اس کا ایک ملازم ہلاک ہوا ہے۔

ایئرلائن نے جمعہ کو جاری بیان میں کہا، ’’سعودی ایئرلائنز تصدیق کرتی ہے کہ ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پیش آنے والے واقعے میں اس کا ایک ملازم جاں بحق ہو گیا۔ ایئرلائن اس کے اہل خانہ سے گہری تعزیت کا اظہار کرتی ہے۔‘‘ ایئرلائن کے مطابق، حملے کے دوران ہوائی اڈے پر زمین پر کھڑے اس کے ایک طیارے کو بھی نقصان پہنچا۔ واقعے کے وقت طیارے میں کوئی مسافر موجود نہیں تھا۔ سعودی ایئرلائنز نے بتایا کہ واقعے کے فوراً بعد متعلقہ حکام کے تعاون سے ہنگامی کارروائیوں کا آغاز کیا گیا، تاکہ صورت حال کو سنبھالا جا سکے، متاثرہ افراد کی حالت پر نظر رکھی جا سکے اور انہیں اور ان کے اہل خانہ کو ضروری مدد فراہم کی جا سکے۔

ایئرلائن کے بیان کے مطابق، جمعرات 8 اکتوبر کو مقامی وقت کے مطابق شام چھ بجے تک کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اس کی پروازیں اور دیگر سرگرمیاں معمول پر آ گئی تھیں۔ ایئرلائن نے کہا کہ وہ پروازوں کے اوقات پر نظر رکھے ہوئے ہے اور اپنے سرکاری ذرائع کے ذریعے مسافروں کو معلومات فراہم کرتی رہے گی۔ اس سے قبل سعودی عرب کی شہری ہوا بازی اتھارٹی نے بتایا تھا کہ 6 اور 7 اکتوبر کو ابہا انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر الگ الگ حملے ہوئے تھے۔

ان واقعات میں مجموعی طور پر تین افراد ہلاک اور 36 زخمی ہوئے تھے۔ اطلاعات کے مطابق، ابہا ایئرپورٹ پر حملے میں دو افراد ہلاک اور 28 زخمی ہوئے، جب کہ ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملے میں ایک شخص ہلاک اور آٹھ زخمی ہوئے تھے۔ زخمیوں کو علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا، جب کہ حکام نے املاک کو پہنچنے والے نقصان کا جائزہ لینے اور ہوائی اڈوں کی تنصیبات کی حفاظت کی جانچ کا عمل شروع کیا۔