یہ سونامی ہے: رو کھنہ کی پیش گوئی، ٹرمپ کو تاریخی شکست، ڈیموکریٹس 250 سیٹوں پر قبضہ

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 05-11-2026
یہ سونامی ہے: رو کھنہ کی پیش گوئی، ٹرمپ کو تاریخی شکست، ڈیموکریٹس 250 سیٹوں پر قبضہ
یہ سونامی ہے: رو کھنہ کی پیش گوئی، ٹرمپ کو تاریخی شکست، ڈیموکریٹس 250 سیٹوں پر قبضہ

 



کیلیفورنیا: امریکہ کے وسط مدتی انتخابات میں ری پبلکن پارٹی کو زبردست انتخابی دھچکا لگنے کے بعد معروف ہندوستانی نژاد امریکی رکن کانگریس رو کھنہ نے ڈیموکریٹس کی شاندار واپسی کی پیش گوئی کی ہے۔ انہوں نے اس انتخابی کامیابی کا موازنہ 2008 میں براک اوباما کی قیادت میں ڈیموکریٹس کی تاریخی کامیابی سے کیا ہے۔ملک بھر میں انتخابی نتائج کے حوالے سے ہندوستانی نژاد امریکی برادری کے معروف رہنما اور سابق صدر جو بائیڈن کے مشیر اجے جین بھوٹوریا سے گفتگو کرتے ہوئے رو کھنہ نے کہا کہ ڈیموکریٹس 250 سے زیادہ نشستیں حاصل کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ممکن ہے ہمیں اتنی ہی بڑی اکثریت ملے جتنی 2008 میں اوباما کے دور میں حاصل ہوئی تھی۔ یہ ایک سونامی ہے اور ٹرمپ کے خلاف عوام کا واضح فیصلہ ہے۔

انتخابی نتائج پر اثر انداز ہونے والے اہم معاشی مسائل کا ذکر کرتے ہوئے رو کھنہ نے کہا کہ ووٹروں کی بنیادی تشویش روزمرہ اخراجات میں کمی اور عالمی سطح پر جاری جنگ کا خاتمہ ہے۔انہوں نے کہا کہ لوگ مہنگائی میں کمی چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ جنگ ختم ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جنگ ختم ہونے سے خوراک اور پیٹرول کے ساتھ ڈیزل کی قیمتوں میں فوری کمی آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایندھن کی بڑھتی قیمتوں کے باعث گھروں کو گرم رکھنے کے اخراجات بھی بڑھ رہے ہیں۔

ڈیموکریٹس کی آئندہ قانون سازی کی ترجیحات کا ذکر کرتے ہوئے رو کھنہ نے کہا کہ عوام چاہتے ہیں کہ ان کے خاندانوں کے اخراجات کم کرنے پر توجہ دی جائے۔ اس میں بچوں کی دیکھ بھال اور صحت کی سہولتوں کے اخراجات میں کمی بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیموکریٹس آئندہ اسی سمت میں کام کریں گے۔انتخابی نتائج کے بعد واشنگٹن میں سیاسی طاقت کا توازن تبدیل ہو گیا ہے اور دونوں ایوانوں میں ڈیموکریٹس کو نمایاں اکثریت حاصل ہو گئی ہے۔ اس صورت حال نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ساتھ براہ راست سیاسی محاذ آرائی کی راہ ہموار کر دی ہے۔

اگرچہ ڈیموکریٹس وسیع قانون سازی کے منصوبوں کو آگے بڑھانے اور انتظامیہ کی بعض پالیسیوں کو واپس لینے کے ساتھ حکومتی اقدامات کی سخت جانچ شروع کرنے کی تیاری کر رہے ہیں تاہم ان کی نئی اکثریت انہیں قانون سازی کے مکمل اختیارات کی ضمانت نہیں دیتی۔اس کی وجہ یہ ہے کہ صدر ٹرمپ کے پاس آئین کے تحت حاصل ایک اہم اختیار موجود ہے جسے صدارتی ویٹو کہا جاتا ہے۔ اس اختیار کے ذریعے صدر کانگریس سے منظور شدہ کسی قانون کو مسترد کر سکتے ہیں۔

ڈیموکریٹس کی انتخابی کامیابی کے اثرات سامنے آنے کے بعد صدر ٹرمپ نے اس اختیار کے استعمال کا اشارہ دیتے ہوئے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک تصویر شیئر کی جس میں سرخ رنگ کی ٹوپی پر بڑے حروف میں ’ویٹو‘ لکھا ہوا تھا۔انتخابی شکست کے بعد ٹرمپ نے کہا کہ ویٹو کا اختیار صدر کے پاس موجود مضبوط ترین اختیارات میں سے ایک ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ مسلسل سیاسی تعطل نہیں چاہتے۔ انہوں نے پولیٹیکو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں یہ نہیں چاہتا کہ اگلے دو سال تک صرف بیٹھ کر ہر قانون کو ویٹو کرتا رہوں۔

اس کے باوجود اپوزیشن کی جانب سے حکومتی پالیسیوں کو چیلنج کرنے کی تیاری کے پیش نظر صدارتی ویٹو وائٹ ہاؤس اور کانگریس کے درمیان آئندہ سیاسی کشمکش کا ایک اہم ہتھیار بن سکتا ہے۔امریکی آئین کے آرٹیکل 1 کی دفعہ 7 کے تحت ایوان نمائندگان اور سینیٹ سے منظور ہونے والا ہر بل قانون بننے سے پہلے صدر کے پاس بھیجا جاتا ہے۔ اس آئینی طریقہ کار کا مقصد قانون ساز اور انتظامی اداروں کے درمیان اختیارات کا توازن برقرار رکھنا ہے۔

صدر کے پاس بل پر دستخط کرنے یا اعتراضات کے ساتھ اسے واپس بھیجنے کے لیے 10 دن ہوتے ہیں۔ اس مدت میں اتوار کا دن شمار نہیں کیا جاتا۔ اگر صدر اس مدت کے دوران بل پر دستخط نہ کریں اور اسے واپس بھی نہ بھیجیں تو مخصوص حالات میں وہ خود بخود قانون بن سکتا ہے۔اگر صدر کسی بل کو ویٹو کرتے ہیں تو اسے اپنے اعتراضات کے ساتھ کانگریس کے اسی ایوان میں واپس بھیج دیا جاتا ہے جہاں سے اسے منظور کیا گیا تھا۔

تاہم کانگریس کے پاس صدارتی ویٹو کو مسترد کرنے کا آئینی اختیار بھی موجود ہے۔ اس کے لیے ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے۔ یہ اکثریت کسی بل کی ابتدائی منظوری کے لیے درکار سادہ اکثریت سے کہیں زیادہ ہے۔ڈیموکریٹس کی بڑھتی ہوئی اکثریت بھی دو تہائی کی اس لازمی حد تک نہیں پہنچتی۔ اس کے علاوہ ماضی کے تجربات بتاتے ہیں کہ صدارتی ویٹو کو مسترد کرنے میں کانگریس کو بہت کم کامیابی ملی ہے۔ اس لیے ویٹو کا اختیار قانون سازی کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ بن سکتا ہے۔

عام ویٹو کے علاوہ صدر کے پاس ’پاکٹ ویٹو‘ کا اختیار بھی ہوتا ہے۔ اس صورت میں اگر کانگریس کے ملتوی ہونے کے دوران صدر 10 دن کی مقررہ مدت میں کسی بل پر دستخط نہیں کرتے تو وہ بل خود بخود ختم ہو جاتا ہے۔عام ویٹو کے برعکس پاکٹ ویٹو کو کانگریس میں دوبارہ ووٹنگ کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی صورت میں قانون سازوں کو اگلے اجلاس میں بل دوبارہ پیش کرنے اور قانون سازی کا پورا عمل نئے سرے سے شروع کرنے کی ضرورت پڑتی ہے۔

وائٹ ہاؤس صرف کسی بل کو مسترد کرنے تک محدود نہیں رہتا بلکہ ویٹو کی دھمکی دے کر بھی قانون سازوں کو حتمی منظوری سے پہلے بل میں تبدیلیاں کرنے پر مجبور کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ انتظامیہ اپنی پالیسی سے متعلق باضابطہ بیانات بھی جاری کرتی ہے جنہیں ’اسٹیٹمنٹس آف ایڈمنسٹریشن پالیسی‘ کہا جاتا ہے۔ ان میں کسی بل کی حمایت یا مخالفت واضح کی جاتی ہے اور بعض اوقات اسے ویٹو کرنے کی تنبیہ بھی شامل ہوتی ہے۔

دوسری جانب ڈیموکریٹس کے پاس صدر اور انتظامیہ کو جواب دہ بنانے کے لیے قانون سازی کے علاوہ بھی کئی راستے موجود ہیں۔ کانگریس میں اپنی اکثریت کے ذریعے وہ تحقیقات شروع کر سکتے ہیں۔ سرکاری عہدیداروں کو طلب کر سکتے ہیں اور انہیں باضابطہ طور پر دستاویزات پیش کرنے کا پابند بنا سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ حکومتی اخراجات اور پالیسیوں کی سخت جانچ بھی کی جا سکتی ہے۔