بینکوں میں اے آئی کے استعمال سے انسانی محنت 50 فیصد تک کم ہوسکتی ہے

Story by  PTI | Posted by  [email protected] | Date 28-10-2026
بینکوں میں اے آئی کے استعمال سے انسانی محنت 50 فیصد تک کم ہوسکتی ہے
بینکوں میں اے آئی کے استعمال سے انسانی محنت 50 فیصد تک کم ہوسکتی ہے

 



نئی دہلی: میک کنزی کی ایک رپورٹ کے مطابق، بینک ایجنٹک آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) کا استعمال کرکے مشتبہ مالی لین دین کی جانچ میں لگنے والی انسانی محنت کو 30 سے 50 فیصد تک کم کرسکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ضابطوں کی پابندی سے متعلق رپورٹوں کے معیار اور یکسانیت میں بھی بہتری لائی جاسکتی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اے آئی ایجنٹ معلومات جمع کرنے، تحقیق کرنے، تجزیہ کرنے اور رپورٹیں تیار کرنے جیسے کام انجام دے سکتے ہیں، جس سے انسانی ماہرین پیچیدہ معاملات، خطرات کا جائزہ لینے اور حتمی فیصلے کرنے پر زیادہ توجہ دے سکیں گے۔

میک کنزی نے کہا کہ بینکوں میں لین دین کی نگرانی اور مشتبہ معاملات کی جانچ کے دوران انسانی عملے کے کام کرنے کے وقت میں 40 فیصد سے زیادہ کمی دیکھی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، اے آئی ایجنٹوں کی تیار کردہ رپورٹیں مقررہ جانچ فہرست کے مطابق، انسانی تجزیہ کاروں کی لکھی ہوئی رپورٹوں کے مقابلے میں زیادہ مکمل پائی گئیں۔ عام طور پر ایسے ڈیجیٹل آلات کسی خاص کام میں انفرادی تجزیہ کاروں کی مدد کرتے ہیں، لیکن ایجنٹک اے آئی معلوماتی نظاموں سے اعداد و شمار جمع کرنے سے لے کر دستاویزی سفارشات تیار کرنے تک، پوری جانچ کے عمل کو مربوط انداز میں انجام دے سکتی ہے۔ میک کنزی کے مطابق، اس سے بینکوں کو مالی جرائم کے بڑھتے ہوئے پیچیدہ خطرات سے نمٹنے اور ضابطوں کی پابندی کے لیے درکار اضافی وقت اور وسائل کو بہتر طور پر استعمال کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اے آئی سے تیار ہونے والی رپورٹوں میں یکسانیت برقرار رکھنے کے لیے تمام معاملات میں لین دین کے تجزیے کی یکساں مدت اور رپورٹ کا ایک ہی ڈھانچہ استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ رپورٹ میں درج دعوؤں کو ان کے اصل اعداد و شمار اور ذرائع سے منسلک کیا جاسکتا ہے، تاکہ معیار کی جانچ کرنے والی ٹیمیں، آڈیٹرز اور متعلقہ ریگولیٹری ادارے ان کا جائزہ لے سکیں۔ تاہم، میک کنزی نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اس پورے عمل میں انسانی نگرانی اب بھی ضروری ہے۔

اے آئی ایجنٹ شواہد کا تجزیہ کرکے سفارشات دے سکتے ہیں، لیکن نتائج کی جانچ کرنا، معلومات میں موجود کمیوں کو دور کرنا اور فیصلوں کی ذمہ داری قبول کرنا انسانی تجربے اور سمجھ بوجھ پر منحصر ہے۔ جرمنی کے کومرز بینک کے چیف کریڈٹ رسک آفیسر اور سابق گروپ چیف کمپلائنس آفیسر ہانس جارج بائر نے رپورٹ میں کہا، ’’اے آئی ہمارے کام کو بہتر بناتی ہے، لیکن تمام فیصلے کرنے کا اختیار ہماری ٹیم کے پاس ہی رہتا ہے۔‘‘ میک کنزی کے مطابق، جو بینک اس ٹیکنالوجی کو بڑے پیمانے پر اپنانا چاہتے ہیں، انہیں ایسے نظام تیار کرنے ہوں گے جن میں معیار کی جانچ، خطرات پر واضح کنٹرول اور فیصلوں کا سراغ لگانے کی سہولت موجود ہو۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اے آئی ایجنٹوں کے پورے نظام کا 30 سے 50 فیصد حصہ معیار کی یقین دہانی اور فیصلوں کے عمل کا ریکارڈ برقرار رکھنے کے لیے مختص ہونا چاہیے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کا استعمال صرف لین دین کی نگرانی تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ اسے دھوکہ دہی کا پتا لگانے، صارف کی شناخت اور اس کی معلومات کی تصدیق کرنے کے عمل، یعنی ’’نو یور کسٹمر‘‘ (کے وائی سی)، اور ضابطوں کی پابندی کے دیگر کاموں تک بھی بڑھایا جاسکتا ہے۔ ایک بڑے بینک نے کارپوریٹ کریڈٹ خطرات کا جائزہ تیار کرنے کے لیے اسی نوعیت کے اصولوں پر مبنی ملٹی ایجنٹ نظام استعمال کیا، جس سے کریڈٹ افسران کا تجزیے میں لگنے والا وقت نصف رہ گیا۔ میک کنزی کا مشورہ ہے کہ بینکوں کو ابتدا میں کسی ایک مخصوص کام میں اے آئی کا استعمال کرنا چاہیے، اس کے فائدے ثابت کرنے چاہئیں اور پھر اسے ضابطوں کی پابندی سے متعلق دوسرے کاموں تک پھیلانا چاہیے۔

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کو کامیابی سے نافذ کرنے کے لیے صرف جدید ٹیکنالوجی اور اعداد و شمار تک رسائی کافی نہیں ہوگی، بلکہ ملازمین کی مہارت، ضابطوں کے ماہرین اور ڈیٹا سائنس دانوں کے درمیان مسلسل تعاون اور مضبوط نگرانی کا نظام بھی ضروری ہوگا۔ بینکوں کو اپنے اے آئی نظاموں کی کارکردگی پر باریک بینی سے نظر رکھنی ہوگی، ان کی قابل اعتماد ہونے کی جانچ کرنی ہوگی اور کاروباری ضروریات اور خطرات میں تبدیلی کے ساتھ ان میں مسلسل بہتری لانی ہوگی۔