ارَوائن (امریکہ): امریکہ میں 3 نومبر 2026 کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے پہلے ریپبلکن پارٹی کے لیے عوامی رائے کے جائزوں کے نتائج تشویش ناک نظر آ رہے ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ معیشت کے حوالے سے عام لوگوں میں پائی جانے والی گہری مایوسی ہے۔ مہنگائی کو الگ رکھ دیا جائے تو مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو سمیت معیشت کے کئی اہم اشاریے مضبوط ہیں۔ اس کے باوجود صارفین کا اعتماد مسلسل کمزور ہو رہا ہے۔
اس صورت حال نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ کیا ووٹروں کی مایوسی محض ان کے خیالات اور جذبات کا نتیجہ ہے یا پھر معیشت کی حالت جانچنے کے لیے طویل عرصے سے استعمال کیے جانے والے پیمانے اب امریکی شہریوں کی حقیقی معاشی صورت حال کی صحیح عکاسی نہیں کر رہے ہیں۔ یہ بحث سیاسی لحاظ سے بھی اہم ہے، کیونکہ وسط مدتی انتخابات میں ووٹر معیشت کو سب سے اہم مسئلہ قرار دے رہے ہیں۔ اکتوبر 2026 کے اوائل میں پیو ریسرچ کے ایک سروے میں 84 فیصد رجسٹرڈ ووٹروں نے کہا کہ ووٹ ڈالتے وقت معیشت ان کے لیے انتہائی اہم مسئلہ ہے۔ یہ تشویش دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے حامیوں میں یکساں طور پر دیکھی گئی۔
سروے کے مطابق 82 فیصد ریپبلکن اور 88 فیصد ڈیموکریٹ ووٹروں نے معیشت کو انتہائی اہم مسئلہ قرار دیا۔ ووٹرز میں معاشی مایوسی بڑھنے کی ایک بڑی وجہ ریپبلکن پارٹی کے حامیوں کے رویے میں تبدیلی ہے۔ ڈیموکریٹ حامی اب بھی معیشت کے بارے میں زیادہ مایوس ہیں، لیکن دونوں جماعتوں کے حامیوں کے درمیان یہ فرق کم ہوتا جا رہا ہے۔ ان رجحانات کی بنیاد پر اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ کانگریس میں ڈیموکریٹ پارٹی کو برتری حاصل ہوسکتی ہے۔ ان انتخابات کو صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور ریپبلکن پارٹی کے کنٹرول والی کانگریس کے دور حکومت میں عام امریکی شہریوں کی معاشی حالت کا جائزہ بھی سمجھا جا رہا ہے۔
معاشی اعداد و شمار اور لوگوں کی سوچ میں فرق مالیاتی منڈیوں اور عالمی عدم مساوات کے مطالعے سے وابستہ ایک محقق کی حیثیت سے میرا خیال ہے کہ لوگوں کی ذاتی معاشی حالت اور مجموعی معیشت کے بارے میں ان کی سوچ کے درمیان تعلق میں بنیادی تبدیلی آ رہی ہے۔ ماہرین معیشت لوگوں کے معاشی خیالات کو سمجھنے کے لیے یونیورسٹی آف مشی گن کے صارفین کے اعتماد کے اشاریے کا استعمال کرتے ہیں۔ اس میں لوگوں سے ان کی ذاتی مالی حالت، مستقبل میں معیشت کے امکانات اور بڑی خریداری کے لیے موجودہ وقت کتنا مناسب ہے، جیسے سوالات پوچھے جاتے ہیں۔
ماضی میں یہ اشاریہ صارفین کے اخراجات اور مہنگائی جیسے معاشی اشاروں کے ساتھ تقریباً ایک ہی سمت میں آگے بڑھتا تھا، لیکن حالیہ برسوں میں دونوں کے درمیان فرق بڑھ گیا ہے۔ صارفین کے اخراجات مضبوط ہونے، کاروباری سرمایہ کاری بڑھنے اور بے روزگاری کم رہنے کے باوجود گزشتہ ایک سال میں صارفین کا اعتماد 10 فیصد گر گیا ہے۔ کچھ تجزیہ کار اس کی وجہ مہنگائی کو قرار دیتے ہیں۔ تاہم، جون 2022 میں 9.1 فیصد کی بلند ترین سطح پر پہنچنے کے بعد ستمبر 2026 میں مہنگائی کم ہوکر 3.7 فیصد رہ گئی۔ اس کے باوجود صارفین کا اعتماد اس وقت کے مقابلے میں بھی کم ہے۔
تنخواہوں کے اعداد و شمار بھی اس صورت حال کی پوری وضاحت نہیں کرتے۔ 2022 سے 2026 کی پہلی ششماہی تک مہنگائی کے اثرات نکالنے کے بعد حقیقی تنخواہوں میں اضافہ ہوا، لیکن صارفین کا اعتماد کمزور ہی رہا۔ حالیہ مہینوں میں حقیقی تنخواہوں میں کمی آئی ہے، جو ووٹروں کی بڑھتی ہوئی مایوسی کی ایک وجہ ہوسکتی ہے۔ معاشی ترقی کے باوجود بڑھتی ہوئی عدم مساوات اس فرق کی ایک بڑی وجہ امریکہ میں بڑھتی ہوئی معاشی عدم مساوات ہوسکتی ہے۔ گزشتہ 20 برسوں کے دوران آمدنی میں عدم مساوات بڑھی ہے۔ فیڈرل ریزرو کے مطابق صارفین کے اخراجات مضبوط ہیں، لیکن ملک کے سب سے امیر 10 فیصد لوگ مجموعی صارفین کے اخراجات کا نصف حصہ خرچ کرتے ہیں۔
دوسری طرف آمدنی کے لحاظ سے سب سے نچلے 80 فیصد طبقے کے لوگوں کے اخراجات میں اضافہ مہنگائی کی رفتار سے کم رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ صارفین کے اخراجات کے مضبوط اعداد و شمار دراصل زیادہ تر امیر امریکیوں کے خرچ کرنے کی وجہ سے ہیں اور عام لوگوں کی معاشی حالت کی صحیح تصویر پیش نہیں کرتے۔ دولت کی تقسیم میں عدم مساوات بھی ایک سنگین مسئلہ ہے۔ امریکہ کے سب سے امیر 0.1 فیصد خاندانوں کے پاس ملک کے نچلے 50 فیصد خاندانوں کی مجموعی دولت سے پانچ گنا زیادہ دولت ہے۔ شیئر بازار میں تیزی کے فوائد کی غیر مساوی تقسیم اور دولت پر عائد ٹیکس اس کی اہم وجوہات میں شامل ہیں۔
ووٹر صرف اپنی معاشی حالت نہیں دیکھتے ماہرین معیشت عام طور پر یہ مانتے ہیں کہ صارفین کے سروے میں لوگ اپنی ذاتی معاشی حالت کی بنیاد پر جواب دیتے ہیں۔ تاہم، بعض محققین کے مطابق لوگوں کی رائے ملک کی مجموعی معیشت، مساوات، مواقع اور معاشی انصاف جیسے معاملات سے بھی متاثر ہوتی ہے۔ اسے ’سماجی و معاشی تاثر‘ کہا جاتا ہے۔ تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ ووٹر حکومت میں موجود جماعت کی حمایت یا مخالفت کا فیصلہ کرتے وقت اپنی ذاتی معاشی حالت کے مقابلے میں ملک کی مجموعی معیشت کے بارے میں اپنے خیالات کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔
تجارتی پالیسی اس کی ایک مثال ہے۔ امریکی شہری درآمدی اشیا پر محصولات اور تجارت سے متعلق فیصلوں کے بارے میں رائے قائم کرتے وقت صرف اپنے ذاتی فائدے یا نقصان کو نہیں دیکھتے، بلکہ یہ بھی غور کرتے ہیں کہ ان فیصلوں کا ملک کی معیشت پر کیا اثر پڑے گا۔ اس لیے ممکن ہے کہ لوگ اپنی ذاتی معاشی حالت کے ساتھ ساتھ ملک میں بڑھتی ہوئی عدم مساوات کو بھی ذہن میں رکھ رہے ہوں۔ یہی وجہ ہوسکتی ہے کہ مضبوط معاشی اعداد و شمار کے باوجود صارفین کا اعتماد کمزور ہے۔
معاشی اعداد و شمار اور عام لوگوں کے خیالات کے درمیان اس فرق کو سمجھنا آنے والی کانگریس کے لیے اہم ہوگا۔ اگر معاشی عدم تحفظ کی وجہ سے ووٹر حکمران جماعت کو انتخابات میں نقصان پہنچاتے ہیں تو نئی کانگریس سے توقع کی جائے گی کہ وہ اس مسئلے کا حل تلاش کرے۔ گزشتہ 6 برسوں کے تجربات بتاتے ہیں کہ صرف معاشی اشاریوں میں بہتری کافی نہیں ہے۔ حکومت کو عام لوگوں کے حقیقی معاشی تجربات، ان کی پریشانیوں اور ملک میں قائم کیے جانے والے معاشی نظام کی نوعیت پر بھی توجہ دینی ہوگی۔