جنیوا:جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والی انسانی حقوق کی کارکن تسلیمہ اختر نے جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 63ویں اجلاس کے دوران اپنے خطاب میں پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر اور ہندوستان کے جموں و کشمیر کے درمیان حکمرانی۔ شہری آزادیوں۔ انسانی حقوق اور ترقی کے حوالے سے بڑھتے ہوئے فرق کو اجاگر کیا۔کونسل سے خطاب کرتے ہوئے تسلیمہ اختر نے کہا کہ موجودہ دور میں انسانی حقوق کا مقصد جامع ترقی کو فروغ دینا۔ جمہوری اقدار کو مضبوط بنانا اور زندگی کی بنیادی ضروریات کے تحفظ کو یقینی بنانا ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں انسانی حقوق افراد۔ معاشرے اور پوری قوم کی جامع ترقی میں کردار ادا کرتے ہیں۔ جمہوری اقدار کو فروغ دیتے ہیں اور زندگی کی بنیادی ضروریات کے تحفظ کو یقینی بناتے ہیں۔پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر کی حالیہ صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے تسلیمہ اختر نے کہا کہ خطے میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور دیگر سول سوسائٹی گروپوں کی قیادت میں حکمرانی اور معاشی مسائل کے خلاف مسلسل احتجاج ہوا ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ اس کے بعد پاکستانی حکام کی جانب سے کارروائی کی گئی جس کے نتیجے میں گرفتاریاں اور حراستیں ہوئیں۔ مواصلاتی رابطوں پر پابندیاں عائد کی گئیں اور مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان پرتشدد جھڑپیں ہوئیں۔تسلیمہ اختر نے کہا کہ صورتحال نے پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں شہری آزادیوں اور عوامی سرگرمیوں کے لیے دستیاب جگہ کے حوالے سے تشویش پیدا کی ہے۔ انہوں نے شہریوں کے تحفظ اور مواصلاتی رابطوں کی بحالی کے لیے اقدامات کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں شہری آزادیوں کے لیے گنجائش موجود نہیں ہے۔ بڑے پیمانے پر انتقامی کارروائیوں کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں جن سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں پاکستانی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں بے گناہ شہریوں کی ہلاکتوں کا سلسلہ فوری طور پر روکا جانا چاہیے اور ان کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کیے جانے چاہئیں۔ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی فوری مداخلت کے ذریعے شہری آزادیوں اور مواصلاتی رابطوں کو بحال کیا جانا چاہیے۔
تسلیمہ اختر نے مبینہ ہلاکتوں کی آزادانہ تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہر ہلاکت کی آزادانہ تحقیقات ہونی چاہیے اور تمام واقعات سے متعلق معلومات تک آزادانہ اور منصفانہ رسائی فراہم کی جانی چاہیے۔ہندوستان کے جموں و کشمیر کا ذکر کرتے ہوئے تسلیمہ اختر نے ہنر مندی کی ترقی۔ بنیادی ڈھانچے اور روزگار کے مواقع کے حوالے سے مختلف اقدامات کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں اور مقامی کاروباری اداروں کے لیے ہنر اور روزگار کے مواقع کو مضبوط بنانے والے اقدامات سے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔جموں و کشمیر اسکل ڈیولپمنٹ مشن کے مطابق اس کے پروگرام غیر ہنرمند اور نیم ہنرمند نوجوانوں کو تربیت فراہم کرنے اور انہیں روزگار کے مواقع سے جوڑنے کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔ ان پروگراموں میں انفارمیشن ٹیکنالوجی اور الیکٹرانکس سے لے کر سیاحت۔ صحت۔ زراعت۔ لاجسٹکس اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی تک مختلف شعبے شامل ہیں۔
دسمبر 2024 میں جاری کیے گئے ایک سرکاری حکم نامے میں شہری اور دیہی شعبوں میں روزگار کی اہلیت اور ہنرمندی کی ترقی کو مضبوط بنانے کے لیے 5 سالہ منصوبے کا خاکہ بھی پیش کیا گیا تھا۔ اس میں ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت۔ خدمات۔ مینوفیکچرنگ اور قابل تجدید توانائی جیسے شعبوں کو شامل کیا گیا ہے۔تسلیمہ اختر نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات کے ساتھ اسمارٹ سٹی منصوبوں اور دیہی بنیادی ڈھانچے میں بہتری سے جموں و کشمیر کی ترقی کی رفتار میں مدد مل رہی ہے۔یہ خطاب اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 63ویں اجلاس کے دوران ہوا جو 7 ستمبر سے 7 اکتوبر 2026 تک جنیوا میں جاری ہے۔