نئی دہلی: سوئٹزرلینڈ کے صدر گائے پارملین نے پیر کو حیدرآباد ہاؤس میں وزیر اعظم نریندر مودی سے دو طرفہ بات چیت کی۔ یہ ملاقات نئی دہلی میں ان کی اعلیٰ سطحی سفارتی مصروفیات کا حصہ تھی۔ اس سے قبل صدر پارملین نے اپنی اہلیہ کیرولین پارملین کے ہمراہ راج گھاٹ پہنچ کر مہاتما گاندھی کو خراج عقیدت پیش کیا اور ان کی یادگار پر پھولوں کی چادر چڑھائی۔ وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے بھی سوئس صدر سے ملاقات کی۔ انہوں نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا، ’’سوئس کنفیڈریشن کے صدر گائے پارملین سے ملاقات کرکے خوشی ہوئی، جو سرکاری دورے پر ہندوستان آئے ہیں۔
بھارت اور یورپی آزاد تجارتی انجمن (ای ایف ٹی اے) کے درمیان تجارتی و اقتصادی شراکت داری معاہدے (ٹیپا) کے امکانات کو آگے بڑھاتے ہوئے دو طرفہ شراکت داری کو مزید گہرا کرنے کے صدر پارملین کے عزم کو سراہتا ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ ان کی ملاقات سے مختلف شعبوں میں ہمارے باہمی تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔‘‘ ان سفارتی ملاقاتوں کے بعد سوئس صدر گائے پارملین نے کہا کہ ان کا دورہ دونوں ممالک کے درمیان ’’قریبی اور دیرینہ شراکت داری‘‘ کو مزید مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ اپنے دورے کے باقاعدہ آغاز پر صدر پارملین کا راشٹرپتی بھون کے صحن میں سرکاری استقبال کیا گیا۔
صدر دروپدی مرمو اور وزیر اعظم نریندر مودی نے ان کا پرتپاک خیرمقدم کیا۔ استقبالیہ تقریب کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے صدر پارملین نے کہا، ’’یہ دورہ اس بات کو اجاگر کرنے کا بہترین موقع ہے کہ سوئٹزرلینڈ اور ہندوستان دونوں اپنے باہمی تعلقات کو کتنی اہمیت دیتے ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور سوئٹزرلینڈ کے سفارتی تعلقات ’’مشترکہ جمہوری اقدار، اعتماد اور باہمی احترام‘‘ پر قائم ہیں۔ سوئس صدر نے کہا، ’’میرا دورہ ہماری قریبی، وسیع اور دیرینہ شراکت داری کو مزید فروغ دینے، گہرا کرنے اور مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ مجھے خوشی اور اعزاز حاصل ہے کہ ہمیں دو طرفہ اور عالمی اہمیت کے معاملات پر خیالات کا تبادلہ کرنے کا موقع مل رہا ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’مجھے خاص طور پر خوشی ہے کہ ہندوستان میں میرا قیام ہندوستان اور ای ایف ٹی اے کے درمیان تجارتی و اقتصادی شراکت داری معاہدے، ٹیپا، کے نافذ ہونے کی پہلی سالگرہ منانے کا موقع فراہم کرے گا۔‘‘ ہندوستان اور ای ایف ٹی اے کے درمیان ٹیپا ایک وسیع آزاد تجارتی معاہدہ ہے، جس میں یورپی آزاد تجارتی انجمن کے چار رکن ممالک آئس لینڈ، لیختن اسٹائن، ناروے اور سوئٹزرلینڈ شامل ہیں۔ یہ معاہدہ 10 مارچ 2024 کو باضابطہ طور پر طے پایا تھا اور یکم اکتوبر 2025 سے نافذ ہوا۔ صدر پارملین نے کہا، ’’یہ اس بات کا جشن منانے کا مناسب وقت ہے کہ ہم نے مل کر اب تک کتنا سفر طے کیا ہے، لیکن اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ہم اپنے مشترکہ مستقبل کی تشکیل کریں۔‘‘
سوئس صدر پیر کو ہندوستان پہنچے اور وزیر اعظم مودی کی دعوت پر تین روزہ سرکاری دورے پر ہیں۔ ان کے دورے میں تجارت، سرمایہ کاری، سائنسی ترقی، تکنیکی اختراع اور افرادی قوت کی نقل و حرکت سمیت مختلف شعبوں میں دو طرفہ تعاون کو بڑھانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔ وزارت خارجہ کے مطابق صدر پارملین کے ساتھ اعلیٰ حکام اور کاروباری شعبے کے اہم نمائندوں پر مشتمل ایک اعلیٰ سطحی وفد بھی ہندوستان آیا ہے۔ یہ ہندوستان کا ان کا پہلا سرکاری دورہ ہے۔ تاہم، رواں سال یہ ان کا ہندوستان کا دوسرا دورہ ہے۔ اس سے قبل انہوں نے فروری 2026 میں نئی دہلی میں منعقدہ اے آئی امپیکٹ سمٹ میں شرکت کی تھی۔
دورے کے دوران صدر پارملین صدر دروپدی مرمو سے بھی ملاقات کریں گے، جو ان کے اعزاز میں سرکاری عشائیے کی میزبانی کریں گی۔ یہ دورہ اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ صدر پارملین 7 اکتوبر کو دوسرے ہندوستان-ای ایف ٹی اے پراسپیریٹی سمٹ میں شرکت کریں گے۔ یہ تقریب ٹیپا کے نافذ ہونے کی پہلی سالگرہ کے موقع پر منعقد کی جا رہی ہے۔ وزارت خارجہ نے کہا کہ ای ایف ٹی اے کے رکن ممالک میں سوئٹزرلینڈ ہندوستان کا سب سے بڑا تجارتی اور سرمایہ کاری شراکت دار ہے۔ اس سے دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ تعلقات اور مسلسل اعلیٰ سطحی مذاکرات کی اہمیت ظاہر ہوتی ہے۔
وزارت خارجہ نے کہا، ’’ہندوستان اور سوئٹزرلینڈ کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات ہیں۔ یہ دورہ باقاعدہ اعلیٰ سطحی تبادلوں کی بنیاد پر دو طرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرے گا اور باہمی دلچسپی کے نئے شعبوں میں تعاون کو گہرا کرے گا۔‘‘ یہ دورہ نئی دہلی اور برن کے درمیان مسلسل اعلیٰ سطحی رابطوں کے پس منظر میں ہو رہا ہے۔ ہندوستان کے کسی صدر کا سوئٹزرلینڈ کا آخری سرکاری دورہ 2019 میں ہوا تھا، جبکہ وزیر اعظم نریندر مودی نے 2016 اور 2018 میں سوئٹزرلینڈ کے سرکاری دورے کیے تھے۔