انڈونیشیا میں بڑھتی مہنگائی اور جنگلات میں آتش زدگی کے خلاف طلبہ کے احتجاج

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 22-10-2026
انڈونیشیا میں بڑھتی مہنگائی اور جنگلات میں آتش زدگی کے خلاف طلبہ کے احتجاج
انڈونیشیا میں بڑھتی مہنگائی اور جنگلات میں آتش زدگی کے خلاف طلبہ کے احتجاج

 



جکارتہ: انڈونیشیا میں بڑھتی مہنگائی اور معاشی مشکلات کے ساتھ جنگلات میں لگنے والی آگ کے خلاف طلبہ نے ملک گیر احتجاج شروع کردیا ہے۔ دی جکارتہ پوسٹ کے مطابق صدر پرابوو سوبیانتو کی حکومت کے دو سال مکمل ہونے کے موقع پر مظاہرین نے حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے معاشی مسائل اور ماحولیاتی تباہی سے نمٹنے کے لیے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا۔

منگل کے روز جکارتہ کے علاوہ مغربی جاوا کے شہر یوگیاکارتا اور بانڈونگ میں بھی مظاہرے ہوئے۔ ان میں طلبہ اور سماجی تنظیموں کے کارکنوں نے شرکت کی اور معاشی دباؤ ماحولیاتی نقصان اور شہری آزادیوں سے متعلق خدشات کا اظہار کیا۔

جکارتہ میں سیکڑوں طلبہ یونیورسٹیوں سے نکل کر توگو تانی یادگار کے اطراف جمع ہوئے۔ مظاہرین نے بڑھتی ہوئی مہنگائی اور جنگلات و پیٹ کی زمینوں میں لگنے والی آگ سے نمٹنے میں حکومت کی کارکردگی پر سوال اٹھائے۔ ان آتش زدگی کے واقعات سے زہریلی دھند پھیل رہی ہے جس کے نتیجے میں پروازیں متاثر ہوئی ہیں۔ اسکول بند کرنے پڑے ہیں اور عوامی صحت کو لاحق خطرات میں اضافہ ہوا ہے۔

مظاہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ جنگلات میں طویل عرصے سے جاری آتش زدگی کو قومی آفت قرار دیا جائے اور ماحولیاتی تباہی کے ذمہ دار اداروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔ انہوں نے بدعنوانی کے خاتمے اور تعلیم و صحت کی سہولتوں کو عام لوگوں کے لیے زیادہ قابل رسائی بنانے کا مطالبہ بھی کیا۔ اس کے علاوہ آزادی اظہار کے تحفظ کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔

آر ٹی کی رپورٹ کے مطابق انڈونیشیا میں جاری ہنگامہ آرائی کے دوران مظاہرین نے پولیس کے ایک ٹرک کو بھی آگ لگا دی۔

انڈونیشیا کو سماٹرا کلیمنتان اور پاپوا کے علاقوں میں جنگلات کی آگ پر قابو پانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ غیر معمولی شدت کے ال نینو سے متاثرہ خشک موسم نے صورت حال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ دی جکارتہ پوسٹ کے مطابق آگ سے اٹھنے والی دھند پڑوسی ممالک سنگاپور اور ملائیشیا تک پھیل گئی ہے جس سے خطے میں فضائی آلودگی اور عوامی صحت کے حوالے سے تشویش بڑھ گئی ہے۔

احتجاج کے درمیان صدارتی چیف آف اسٹاف جنرل پولیس لسٹیو سگیت پرابوو نے بتایا کہ صدر پرابوو سوبیانتو نے پیر کے روز جکارتہ کے مردیکا محل میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں جنگلات اور زمینوں میں لگنے والی آگ پر قابو پانے کی کوششوں کو تیز کرنے پر غور کیا گیا۔

لسٹیو نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں کہا کہ صدر نے حکام کو فضائی کارروائیوں میں تیزی لانے اور انڈونیشیا کی مسلح افواج پولیس قومی آفات سے نمٹنے کے ادارے مقامی حکومتوں اور عوام کے درمیان تال میل بہتر بنانے کی ہدایت دی ہے۔

لسٹیو کے مطابق صدر نے جنگلات اور زمینوں میں آتش زدگی سے مبینہ طور پر وابستہ 98 کمپنیوں کے معاملات کی تحقیقات جلد مکمل کرنے کی بھی ہدایت دی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صدارتی چیف آف اسٹاف کا دفتر حکومت کے اقدامات کی نگرانی کرے گا اور اس بات کو یقینی بنائے گا کہ قانونی کارروائیاں شواہد کی بنیاد پر اور متعلقہ قوانین کے مطابق انجام دی جائیں۔

دریں اثنا گرین پیس انڈونیشیا کے کارکنوں نے منگل کے روز جکارتہ کے ہوٹل انڈونیشیا کے چوراہے پر واقع ویلکم یادگار پر چڑھ کر بڑے بڑے بینر لہرائے۔ دی جکارتہ پوسٹ کے مطابق کارکنوں نے اس اقدام کے ذریعے جنگلات میں مسلسل لگنے والی آگ پر قابو پانے میں حکومت کی ناکامی کے خلاف احتجاج کیا۔