بئی: عمان کے ساحل کے قریب آبنائے ہرمز میں بدھ کے روز ایک جہاز کو نامعلوم شے سے نشانہ بنایا گیا جس کے بعد اس میں آگ بھڑک اٹھی۔ برطانیہ کے بحری سلامتی سے متعلق ادارے نے اس واقعے کی اطلاع دی ہے۔برطانوی بحری تجارتی کارروائیوں کے ادارے کے مطابق متاثرہ تیل بردار جہاز عمان کے قصبے بخا سے تقریباً 11 بحری میل یعنی 20 کلومیٹر دور تھا۔ واقعے کے بعد جہاز کو لنگر انداز کردیا گیا ہے۔
ادارے نے بتایا کہ جہاز کے تمام اہلکار محفوظ ہیں اور فی الحال ماحول کو کسی قسم کے نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔آبنائے ہرمز مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ سے پہلے دنیا کی مجموعی تیل اور گیس کی ترسیل کے تقریباً 20 فیصد حصے کے لیے اہم گزرگاہ تھی۔ فروری کے اواخر میں ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد خطے میں جنگ شروع ہوئی جس نے عالمی بحری تجارت اور توانائی کی ترسیل کو شدید متاثر کیا ہے۔
جنگ شروع ہونے کے بعد سے ایران نے اس اہم بحری راستے پر اپنی گرفت مضبوط کرلی ہے اور ان جہازوں کو باقاعدگی سے نشانہ بنا رہا ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس راستے سے گزرنے کی کوشش کرتے ہیں۔اس کے جواب میں امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی برقرار رکھی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات بھی تعطل کا شکار ہیں اور تنازع کے حل کے لیے اب تک کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی ہے۔
حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرنے والے جہازوں پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ امریکہ مزید جہازوں کو اس آبی گزرگاہ سے گزارنے کے لیے حفاظتی انتظامات کر رہا ہے جبکہ ایران اس راستے سے ہونے والی بحری آمدورفت پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کی کوشش میں ہے۔عمان کے ساحل کے قریب تازہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی تجارت اور تیل و گیس کی فراہمی کے حوالے سے خدشات مزید گہرے ہوگئے ہیں۔