اسرائیلی انتخابات میں بیرونی فنڈنگ اور مداخلت کا شبہ، شن بیت کے دعوے پر تبدیلی پسند اتحاد برہم

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 04-11-2026
اسرائیلی انتخابات میں بیرونی فنڈنگ اور مداخلت کا شبہ، شن بیت کے دعوے پر تبدیلی پسند اتحاد برہم
اسرائیلی انتخابات میں بیرونی فنڈنگ اور مداخلت کا شبہ، شن بیت کے دعوے پر تبدیلی پسند اتحاد برہم

 



یروشلم: اسرائیل کی داخلی سلامتی ایجنسی شن بیت نے مرکزی انتخابی کمیٹی کو بتایا ہے کہ اب تک جمع کی گئی خفیہ معلومات سے اشارہ ملتا ہے کہ ملک کے انتخابات میں بڑے پیمانے پر بیرونی فنڈنگ اور اثراندازی کی کارروائیاں ہوئی ہیں۔ تاہم ایجنسی کا کہنا ہے کہ ان سرگرمیوں کی اصل وسعت اور ان کے اثرات کا یقین کے ساتھ تعین کرنے کے لیے مزید تحقیقات کی ضرورت ہے۔ یہ اطلاع ٹائمز آف اسرائیل نے دی ہے۔

شن بیت نے انتخابی کمیٹی کے سامنے کہا کہ یہ رقم بیرونی ممالک اور ایسے عناصر کی جانب سے فراہم کی گئی جن کے مفادات پوشیدہ بلکہ بعض صورتوں میں اسرائیل کے مخالف بھی ہو سکتے ہیں۔ ایجنسی کے مطابق اس فنڈنگ کا مقصد اسرائیل کے انتخابی عمل پر بیرونی اثر و رسوخ قائم کرنا تھا۔

یہ انکشاف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مرکزی انتخابی کمیٹی کی صدارت نے گزشتہ ہفتے کے انتخابی نتائج کی منظوری کے حق میں ووٹ دیا۔ ایک بیان کے مطابق اب یہ نتائج اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ کو بھیجے جائیں گے۔ اس کے بعد صدر مختلف سیاسی جماعتوں کے سربراہوں سے مشاورت کریں گے کہ وہ وزارت عظمیٰ کے لیے کس امیدوار کی حمایت کرتے ہیں۔

شن بیت کے سربراہ پر تبدیلی پسند اتحاد کی تنقید

شن بیت کے تازہ دعووں پر تبدیلی پسند اتحاد نے سخت اعتراض کیا ہے۔ اتحاد کے رہنما یائر لاپڈ نے ایجنسی کے سربراہ پر تنقید کرتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ شن بیت کے سربراہ زینی کے رات گئے بیانات اور صبح سامنے آنے والے امریکی انتخابی نتائج کا ایک غیر متوقع اثر یہ ہوا ہے کہ نیتن یاہو کی قیادت میں قومی اتحاد کی حکومت بننے کا امکان ختم ہوگیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل نیتن یاہو کو وزیر اعظم کے عہدے پر برقرار رکھنے کا متحمل نہیں ہوسکتا کیونکہ ان کے بقول اس سے ملک کی سلامتی اور جمہوریت کو خطرہ لاحق ہے اور عالمی سطح پر اسرائیل کی ساکھ بھی متاثر ہوگی۔تبدیلی پسند اتحاد میں شامل ڈیموکریٹس پارٹی کے سربراہ یائر گولان نے بھی شن بیت کے سربراہ پر نیتن یاہو کے مفادات کے لیے کام کرنے کا الزام عائد کیا۔

انہوں نے کہا کہ زینی نے شن بیت کو نیتن یاہو کی انتخابی مہم کے ایک سیاسی ہتھیار میں تبدیل کردیا ہے تاکہ انتخابی نتائج کو کمزور کیا جاسکے۔ ان کے مطابق یہ صورت حال ایک سنگین انتباہ ہے اور تبدیلی پسند اتحاد کی قیادت کو نئی حکومت کی تشکیل کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہئیں۔گولان نے مزید کہا کہ نئی حکومت کو نیتن یاہو کی جانب سے کی گئی تقرریوں کا تفصیلی جائزہ لینا ہوگا جن میں زینی کی تقرری بھی شامل ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ملک کے سلامتی اداروں کو سیاسی مفادات کے بجائے اسرائیل اور اس کے شہریوں کے مفادات کے لیے کام کرنا چاہیے۔

انتخابی نتائج کے تحفظ کے لیے اتحاد کا عزم

اس سے قبل تبدیلی پسند اتحاد کے رہنما گادی آئزن کوٹ نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا اتحاد انتخابی نتائج کے تحفظ کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گا۔انہوں نے کہا کہ مختلف جماعتوں کے سربراہوں نے اسرائیلی شہریوں کے فیصلے کو عملی شکل دینے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ ان کے مطابق ووٹروں نے موجودہ حکومت کی مدت میں توسیع کے خلاف اور تبدیلی کے حق میں واضح فیصلہ دیا ہے۔ انہوں نے موجودہ حکومت کو 7 اکتوبر کے واقعات سے منسوب کرتے ہوئے اسے اکتوبر 7 کی حکومت قرار دیا۔آئزن کوٹ کے مطابق اتحاد کی جماعتوں نے کنیسٹ کے ابتدائی دنوں ہی میں پارلیمانی اکثریت کو عملی شکل دینے کے لیے مشترکہ حکمت عملی اور اقدامات پر اتفاق کیا ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ لیکوڈ پارٹی اور نیتن یاہو انتخابی نتائج اور مرکزی انتخابی کمیٹی کی ساکھ کو متاثر کرنے کی ایک مہم چلا رہے ہیں۔ اتحاد کے رہنماؤں نے اس صورت حال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے انتخابی نتائج اور جمہوری عمل کے تحفظ کے عزم کا اظہار کیا ہے۔اس دوران اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ کی جانب سے گادی آئزن کوٹ کو حکومت سازی کی پہلی دعوت دیے جانے کی توقع ہے۔ اس پیش رفت کے ساتھ ہی اسرائیل میں سیاسی جماعتوں کے درمیان اقتدار اور نئی حکومت کی تشکیل کے حوالے سے کشمکش مزید تیز ہونے کے امکانات ہیں۔