بنگلہ دیش میں مذہبی اقلیتوں کے درمیان عدم تحفظ کا گہرا احساس ہے۔ شیخ حسینہ

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 15-10-2026
بنگلہ دیش میں مذہبی اقلیتوں کے درمیان عدم تحفظ کا گہرا احساس ہے۔ شیخ حسینہ
بنگلہ دیش میں مذہبی اقلیتوں کے درمیان عدم تحفظ کا گہرا احساس ہے۔ شیخ حسینہ

 



ڈھاکہ:بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم اور عوامی لیگ کی صدر شیخ حسینہ نے ملک میں مذہبی اور نسلی اقلیتوں کے درمیان پائے جانے والے عدم تحفظ کے گہرے احساس پر تشویش ظاہر کی ہے۔ درگا پوجا کے موقع پر اپنے پیغام میں انہوں نے الزام لگایا کہ 5 اگست 2024 کو طلبہ کی قیادت میں ہونے والی تحریک کے نتیجے میں ان کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے اقلیتی برادریوں۔ مندروں اور گھروں پر حملوں کے واقعات مسلسل پیش آرہے ہیں۔

شیخ حسینہ نے اپنے پیغام میں کہا کہ اس سال درگا پوجا ایسے وقت میں منائی جارہی ہے جب ہندوؤں سمیت دیگر اقلیتی برادریوں کی حفاظت اور سلامتی کے حوالے سے خدشات پائے جاتے ہیں۔ انہوں نے قتل۔ مورتیوں کی توڑ پھوڑ۔ مندروں اور گھروں پر حملوں۔ جائیدادوں پر قبضے۔ بھتہ خوری۔ خواتین کے خلاف تشدد اور دھمکانے جیسے واقعات کی اطلاعات کا حوالہ دیا۔

انہوں نے کہا کہ گہرے دکھ کے ساتھ انہیں کہنا پڑ رہا ہے کہ اس سال درگا پوجا ایسے ماحول میں آئی ہے جب بنگلہ دیش کی مذہبی اور نسلی اقلیتوں بشمول سناتن دھرم کے ماننے والوں میں عدم تحفظ کا گہرا احساس پایا جاتا ہے۔

شیخ حسینہ کے مطابق 5 اگست 2024 کے بعد سے ملک بھر میں اقلیتی برادریوں کے خلاف قتل۔ ظلم و ستم۔ مورتیوں کی توڑ پھوڑ۔ مندروں اور گھروں پر حملوں۔ جائیدادوں پر قبضے۔ بھتہ خوری۔ خواتین کے خلاف تشدد اور دھمکانے کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں۔ ان کے بقول یہ صورت حال نہ صرف ملک کے اندر بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی گہری تشویش کا باعث بن گئی ہے۔

ان کے یہ بیانات گزشتہ سال درگا پوجا کے دوران ہندو عبادت گاہوں پر حملوں۔ مورتیوں کی توڑ پھوڑ اور پوجا پنڈالوں کو نقصان پہنچانے کی اطلاعات کے پس منظر میں سامنے آئے ہیں۔ شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے ہندوؤں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف مبینہ تشدد کے واقعات پر بھی تشویش ظاہر کی جاتی رہی ہے۔

فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی روایت کا حوالہ

شیخ حسینہ نے بنگلہ دیش کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی تاریخ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے بانی بنگ بندھو شیخ مجیب الرحمٰن نے ایسے بنگلہ دیش کا خواب دیکھا تھا جہاں ہندو۔ مسلمان۔ بدھ اور عیسائی سمیت تمام مذاہب اور برادریوں کے لوگ مساوی حقوق۔ عزت اور تحفظ کے ساتھ رہ سکیں۔

انہوں نے کہا کہ عظیم جنگ آزادی کے ذریعے بنگلہ دیش کی بنیاد اسی نظریے پر رکھی گئی تھی۔ ان کے مطابق ملک کا آئین سیکولرازم۔ مساوات۔ انسانی وقار اور ہر شہری کو اپنے مذہب پر آزادانہ عمل کرنے کے حق کو تسلیم کرتا ہے۔

سابق وزیر اعظم نے مذہبی رواداری کے بارے میں اپنے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ وہ ہمیشہ کہتی رہی ہیں کہ مذہب ہر فرد کا اپنا ہوتا ہے لیکن تہوار سب کے ہوتے ہیں۔ یہ ملک ہم سب کا ہے۔

عبوری حکومت پر تنقید

شیخ حسینہ نے محمد یونس کی قیادت والی عبوری انتظامیہ پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت نے ایسا ماحول پیدا ہونے دیا ہے جس میں تشدد کے ذمہ داروں کو سزا سے بچنے کا موقع مل رہا ہے۔ ان کے مطابق اس صورت حال نے اقلیتوں۔ سیاسی مخالفین اور عام شہریوں کے درمیان خوف اور عدم تحفظ کو بڑھایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ متاثرین کو انصاف فراہم کرنے کے بجائے ملزمان کو تحفظ دینے سے قانون کی حکمرانی کمزور ہوئی ہے اور تشدد کرنے والوں کے حوصلے بڑھے ہیں۔

شیخ حسینہ نے یہ الزام بھی لگایا کہ اگست 2024 کے بعد عوامی لیگ کے دفاتر۔ کاروبار اور جائیدادوں پر حملوں کے ساتھ پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کی گرفتاریاں۔ سیاسی محرکات پر مبنی مقدمات اور مبینہ ظلم و ستم کا سلسلہ جاری ہے۔

انہوں نے اقلیتی برادریوں کے افراد پر مبینہ حملوں سے متعلق مقدمات سے نمٹنے کے طریقے پر بھی سوال اٹھائے اور احتساب کی کمی پر تشویش ظاہر کی۔

شیخ حسینہ نے سوال کیا کہ یہ کیسا نظام ہے جہاں قتل کے ملزم آزاد گھومتے ہیں لیکن اپنی برادری کے حقوق اور تحفظ کے بارے میں آواز اٹھانے والا ایک مذہبی رہنما سالہا سال جیل میں رہتا ہے۔

ان کے مطابق احتساب کے فقدان نے ریاستی اداروں پر عوام کے اعتماد کو نقصان پہنچایا ہے اور اقلیتی برادریوں میں عدم تحفظ کو بڑھایا ہے۔

اقلیتوں کے تحفظ کے لیے قانون سازی کا مطالبہ

اپنے پیغام میں شیخ حسینہ نے مذہبی آزادی اور اقلیتی برادریوں کے مساوی حقوق کے تحفظ کے لیے عوامی لیگ کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے پارٹی کے 2024 کے انتخابی منشور کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس میں قومی اقلیتی کمیشن کے قیام اور اقلیتوں کے تحفظ سے متعلق قانون بنانے کا وعدہ کیا گیا تھا۔

انہوں نے عوامی لیگ کے رہنماؤں۔ کارکنوں اور حامیوں کے ساتھ فرقہ وارانہ ہم آہنگی پر یقین رکھنے والے تمام شہریوں سے اپیل کی کہ وہ ہندو برادری کے ساتھ کھڑے ہوں اور اشتعال انگیزی سے گریز کریں۔

شیخ حسینہ نے ہندو برادری سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ وہ خود کو تنہا نہ سمجھے کیونکہ یہ ملک ان کا بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش کے عوام صدیوں سے ایک دوسرے کے تہواروں میں شریک ہوتے رہے ہیں اور کوئی بھی فرقہ پرست طاقت اس ہزاروں سال پرانے رشتے کو توڑ نہیں سکتی اور نہ ہی اس سرزمین پر ان کے حق کو چھین سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ درگا پوجا کا بنیادی پیغام برائی پر اچھائی کی فتح ہے اور اقلیتوں کے تحفظ کے بارے میں خدشات کے موجودہ ماحول میں یہ پیغام بنگلہ دیش کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے۔

سابق وزیر اعظم نے ایسے بنگلہ دیش کی تعمیر کی اپیل کی جہاں کسی شخص کو مذہبی شناخت کی بنیاد پر حقوق سے محروم نہ کیا جائے۔ مندروں میں پہرے کے سائے میں پوجا نہ کرنی پڑے اور کسی ماں کو اپنے بچے کی مذہبی شناخت کی وجہ سے اس کی سلامتی کی فکر نہ ہو۔ ان کے مطابق ریاست کو ہر شہری کے لیے مساوی عزت اور تحفظ یقینی بنانا چاہیے۔

اپنے پیغام کے اختتام پر شیخ حسینہ نے شاردیہ درگوتسو منانے والوں کو مبارک باد دی اور امن۔ فرقہ وارانہ ہم آہنگی۔ انسانی وقار اور مساوی حقوق پر مبنی بنگلہ دیش کی تعمیر پر زور دیا۔

سخت حفاظتی انتظامات پر ہندو تنظیم کی تشویش

اس سے قبل بنگلہ دیش ہندو بدھسٹ کرسچن یونٹی کونسل نے ایک بیان میں ملک بھر میں شاردیہ درگا پوجا کے لیے کیے گئے سخت حفاظتی انتظامات کو افسوس ناک اور بدقسمتی قرار دیا تھا۔ تنظیم کے مطابق ان انتظامات میں پولیس کی تعیناتی۔ ڈرون کی نگرانی اور سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں اور کارکنوں کی موجودگی شامل ہے۔

کونسل نے کہا کہ اس طرح کے حالات اقلیتی برادریوں کے لیے مذہبی آزادی کے دائرے کو محدود کر رہے ہیں اور بین الاقوامی برادری میں بنگلہ دیش کی شبیہ کو بھی نقصان پہنچا رہے ہیں۔ تنظیم کے مطابق یہ صورت حال کسی بھی طرح قابل قبول نہیں ہونی چاہیے۔