ریاض: سعودی عرب میں 2026 کی تیسری سہ ماہی کے دوران ریل نیٹ ورک کے ذریعے 4 کروڑ 9 لاکھ سے زائد مسافروں نے سفر کیا۔ سعودی پریس ایجنسی نے منگل کے روز یہ اطلاع دی۔ٹرانسپورٹ جنرل اتھارٹی کے سہ ماہی اعداد و شمار کے مطابق ریاض میٹرو سے اس مدت کے دوران 3 کروڑ 4 لاکھ مسافروں نے سفر کیا۔
ادھر جدہ کے کنگ عبدالعزیز بین الاقوامی ہوائی اڈے پر خودکار مسافر بردار نظام کے ذریعے تیسری سہ ماہی میں 70 لاکھ مسافروں نے سفر کیا۔ یہ تعداد دوسری سہ ماہی کے 39 لاکھ مسافروں کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے۔شہروں کے درمیان چلنے والی ریل گاڑیوں سے اس عرصے میں مجموعی طور پر 25 لاکھ مسافروں نے سفر کیا۔ ان میں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو جدہ اور کنگ عبدالعزیز بین الاقوامی ہوائی اڈے کے راستے کنگ عبداللہ اقتصادی شہر سے جوڑنے والی حرمین ہائی اسپیڈ ریلوے سے 19 لاکھ سے زائد مسافروں نے سفر کیا۔ دوسری سہ ماہی میں اس ریلوے کے مسافروں کی تعداد 16 لاکھ تھی۔
مشرقی اور شمالی ریلوے نیٹ ورک کی کارکردگی
سعودی عرب ریلوے کے مشرقی نیٹ ورک پر سہ ماہی کے دوران تقریباً 3 لاکھ 93 ہزار 900 سفری دورے ریکارڈ کیے گئے۔ یہ نیٹ ورک ریاض سے ابقیق اور ہفوف ہوتا ہوا دمام تک جاتا ہے۔کمپنی کے شمالی نیٹ ورک پر تقریباً 2 لاکھ 58 ہزار 600 سفری دورے ریکارڈ کیے گئے۔ یہ نیٹ ورک ریاض کو مجموعہ اور قصیم کے علاوہ حائل اور الجوف کے راستے قریات سے جوڑتا ہے۔ٹرانسپورٹ جنرل اتھارٹی کے مطابق گزشتہ سال کی اسی سہ ماہی کے مقابلے میں ریل گاڑیوں کے مسافروں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ یہ اضافہ مملکت میں ریل کے ذریعے سفر کی بڑھتی ہوئی مانگ کی عکاسی کرتا ہے۔ اس سے قبل دوسری سہ ماہی کے دوران ریل گاڑیوں سے مجموعی طور پر 3 کروڑ 80 لاکھ سے زائد سفری دورے ریکارڈ کیے گئے تھے۔
مال برداری میں بھی اضافہ
مال برداری کے شعبے میں سعودی عرب کی ریل گاڑیوں نے تیسری سہ ماہی کے دوران 39 لاکھ ٹن معدنیات اور دیگر سامان منتقل کیا۔ دوسری سہ ماہی میں یہ مقدار 37 لاکھ ٹن تھی۔سعودی پریس ایجنسی کے مطابق ریل گاڑیاں مملکت میں مسافروں اور سامان کی نقل و حمل کے اہم ذرائع میں شامل ہیں۔ یہ شہروں کے اندر اور ان کے درمیان آمدورفت کو آسان بنانے کے ساتھ سڑکوں پر ٹریفک کے دباؤ اور بھیڑ کو کم کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ریل نظام معیار زندگی بہتر بنانے اور ماحولیاتی پائیداری کو فروغ دینے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ اقتصادی ترقی میں معاون ہے اور مملکت کے مختلف شہروں اور صوبوں کو ایک دوسرے سے جوڑتا ہے۔