سعودی عرب : مکہ کی مسجد میں غیر اخلاقی فعل کا الزام , بنگلہ دیشی مرد اور خاتون کے سر قلم, سفارتی گلیاروں سے سوشل میڈیا تک بھونچال

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 21-10-2026
 سعودی عرب : مکہ کی مسجد میں غیر اخلاقی فعل  کا الزام , بنگلہ دیشی  مرد اور خاتون کے سر قلم, سفارتی گلیاروں سے سوشل میڈیا تک بھونچال
سعودی عرب : مکہ کی مسجد میں غیر اخلاقی فعل کا الزام , بنگلہ دیشی مرد اور خاتون کے سر قلم, سفارتی گلیاروں سے سوشل میڈیا تک بھونچال

 



مکہ۔ سعودی عرب کی وزارت داخلہ نے بدھ کے روز ایک بیان میں کہا کہ مکہ مکرمہ کی ایک مسجد میں غیر اخلاقی فعل کے ارتکاب پر 2 بنگلہ دیشی شہریوں کو سزائے موت دے دی گئی ہے۔بیان میں دونوں کی شناخت نذرالاسلام عبدالبصیر اور سیتی اختر کے طور پر کی گئی ہے۔ دونوں بنگلہ دیشی شہری تھے اور واقعے کے بعد سکیورٹی حکام نے انہیں گرفتار کیا تھا۔ تحقیقات کے بعد ان کے خلاف الزامات عائد کیے گئے اور مقدمہ متعلقہ عدالت میں بھیج دیا گیا۔

 سعودی عرب کی وزارت داخلہ نے 14 اکتوبر 2026 کو مکہ ریجن میں نذرالاسلام عبدالبصیر اور سیتی اختر کو دی گئی سزائے موت کی تصدیق کی ہے۔ عدالت نے دونوں کو ایک مسجد کے اندر غیر اخلاقی فعل کے ارتکاب کا مجرم قرار دیا تھا اور اسلامی قانون کے تحت تعزیری سزا سنائی تھی۔اس واقعے کی تصدیق کے بعد سفارتی گلیاروں سے سوشل میڈیا تک ہنگامہ برپا ہے ,حکومت بنگلہ دیش نے اس واقعے پر سعودی عرب سے جواب طلب کیا ہے کہ اگر اس کے باشندوں کو سزائے موت دی گئی تو سرکاری طور پر اگاہ کیوں نہیں کیا گیا ,یہ خبریں حکومت بنگلہ دیش کو اخباروں سے کیوں ملی ,اس کے ساتھ سوشل میڈیا پر اس سزا کے بارے میں بحث شروع ہو گئی ہے کیونکہ سعودی عرب نے اس واقعے کی مکمل تفصیل شیئر نہیں کی ہے

سوشل میڈیا پر  زبردست قیاس ارائیوں اور دعووں کا دور

 سعودی عرب کے سرکاری بیان سے قبل سوشل میڈیا پر اس واقعے کے حوالے سے کئی غیر مصدقہ دعوے بھی گردش کرتے رہے۔ ان میں ایک دعویٰ یہ تھا کہ دونوں نئے شادی شدہ جوڑے تھے اور عمرہ کے دوران ایک دوسرے کی پیشانی پر بوسہ لے رہے تھے۔ مبینہ طور پر ایک پاکستانی شہری نے اس منظر کی ویڈیو بنا کر حکام کو اطلاع دی تھی۔

سوشل میڈیا پر اس واقعے کے بعد سوگ کے مناظر بھی شیئر کیے گئے۔ ایک ویڈیو میں ایک کم عمر بچی کو قبروں پر مٹی ڈالتے ہوئے دکھایا گیا۔ اس واقعے پر مختلف ردعمل سامنے آئے اور بعض لوگوں نے جرم کے مقابلے میں سزائے موت کی سختی پر سوالات اٹھائے۔

لڑکے کے باپ نے بتائی حقیقت

بنگلہ دیش میں نذرالاسلام کے والد نے کہا کہ دونوں شادی شدہ نہیں تھے بلکہ ایک ساتھ کام کرتے تھے۔ ان کے مطابق خاندان کو سیتی اختر کے بارے میں کوئی خاص معلومات نہیں تھیں اور ان کا بیٹا 3 سال سے زیادہ عرصے سے جیل میں بند تھا۔بنگلہ دیشی حکام کو دونوں کی سزائے موت کے بارے میں میڈیا کے ذریعے اطلاع ملی۔ اس کے بعد انہوں نے سعودی حکام سے مقدمے کی تفصیلات فراہم کرنے کی درخواست کی۔

 کیا ہےتعزیر

 اسلامی قانون میں تعزیر سے مراد ایسی سزا ہے جس کا تعین قاضی یا ریاست کا حکمران اپنی صوابدید کے مطابق کرتا ہے۔ یہ اسلامی قانون (شریعت) میں سزاؤں کی تین بڑی اقسام میں سے ایک ہے۔ دیگر اقسام میں حدود اور قصاص و دیت شامل ہیں۔

تعزیر کی سزائیں تنبیہ سے لے کر جسمانی سزا مثلاً کوڑے مارنے۔ جرمانے۔ قید اور جلاوطنی تک ہو سکتی ہیں۔ بعض انتہائی صورتوں میں سزائے موت بھی دی جا سکتی ہے۔

تعزیر کا اطلاق عموماً ایسے جرائم پر کیا جاتا ہے جن کی مخصوص سزا قرآن یا حدیث میں متعین نہ ہو اور جو حدود کے دائرے میں نہ آتے ہوں۔ یہ حدود کی سزاؤں۔ قصاص یعنی جرم کے بدلے متناسب سزا اور دیت یعنی مالی معاوضے سے الگ قانونی زمرہ ہے۔

سعودی عرب کا سرکاری بیان

وزارت داخلہ کے مطابق عدالت نے الزامات کو درست قرار دیتے ہوئے جرم کی سنگینی اور اس وقت اور مقام کی حرمت پامال کرنے کے پیش نظر سزائے موت سنائی۔عدالت نے انہیں اسلامی قانون کے تحت تعزیری سزا کے طور پر سزائے موت دی۔ تعزیر ایسی سزا کو کہا جاتا ہے جس کا تعین اسلامی قانون کے تحت مجاز عدالت کرتی ہے۔متعلقہ حکام کی جانب سے فیصلے کی توثیق کے بعد عدالتی حکم حتمی ہوگیا اور شریعت کے مطابق سزا پر عمل درآمد کے لیے شاہی فرمان جاری کیا گیا۔وزارت داخلہ کے بیان کے مطابق دونوں کو بدھ 14 اکتوبر 2026 کو مکہ ریجن میں سزائے موت دی گئی

وزارت نے اپنے بیان میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت ملک میں امن و امان برقرار رکھنے اور انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے پابند ہے۔ اس نے کہا کہ مساجد کی حرمت پامال کرنے یا دوسروں کی عزت و آبرو کے خلاف جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کے خلاف اسلامی قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔وزارت نے خبردار کیا کہ اس نوعیت کے جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کو شریعت کے تحت مقررہ سزا کا سامنا کرنا پڑے گا۔

  بنگلہ دیش نے نے سعودی عرب سے وضاحت طلب کی

بنگلہ دیش نے سعودی عرب سے وضاحت طلب کی ہے کہ مکہ مکرمہ میں 2 بنگلہ دیشی شہریوں کو سزائے موت دینے سے پہلے ڈھاکہ کو مطلع کیوں نہیں کیا گیا۔گزشتہ ہفتے سعودی عرب نے ایک مرد اور ایک خاتون بنگلہ دیشی شہری کو سزائے موت دی تھی۔ دونوں کو ایک مسجد کے اندر غیر اخلاقی فعل کے ارتکاب کے الزام میں قصوروار قرار دیا گیا تھا۔

مقامی میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق ریاض نے ان مبینہ افعال کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں جن کے ارتکاب کا الزام دونوں بنگلہ دیشی شہریوں پر تھا۔ یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ خلیجی ملک میں مقدمے کے دوران انہیں قانونی نمائندگی حاصل تھی یا نہیں۔

اس واقعے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے بنگلہ دیش کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور ہمایوں کبیر نے صحافیوں سے کہا کہ اس معاملے میں رابطے کی کمی پر انہیں بہت مایوسی ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ڈھاکہ یہ جاننے کے لیے وضاحت طلب کر رہا ہے کہ دونوں شہریوں کو سزائے موت کیوں دی گئی اور اس سے پہلے بنگلہ دیش کو اس بارے میں اطلاع کیوں نہیں دی گئی۔

انہوں نے پیر کو وزارت خارجہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے اپنے دوست اور دوطرفہ شراکت دار ملک سعودی عرب سے وضاحت طلب کی ہے تاکہ اس معاملے کا جائزہ لیا جا سکے اور یہ معلوم ہو سکے کہ معلومات کے تبادلے اور رابطے میں یہ خلا کیوں پیدا ہوا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سلسلے میں بات چیت جاری ہے۔

 بنگلہ دیش کی وزارت خارجہ نے اس سے قبل کہا تھا کہ وہ عدالتی فیصلے کی مکمل نقل اور ان حالات کی تفصیلات کا انتظار کر رہی ہے جن کے نتیجے میں دونوں شہریوں کو سزائے موت دی گئی۔بنگلہ دیشی عہدیدار نے مزید بتایا کہ سزائے موت پانے والے دونوں شہریوں کے نام ان قیدیوں کی فہرست میں شامل تھے جو سعودی عرب نے بنگلہ دیش کے ساتھ شیئر کی تھی۔ تاہم اس فہرست میں یہ اشارہ نہیں دیا گیا تھا کہ سعودی عرب انہیں سزائے موت دینے کا ارادہ رکھتا ہے۔

لنکا کے باشندے کو ملی تھی معافی

گزشتہ ہفتے سعودی عرب کی سپریم کورٹ نے ایک سری لنکن شہری کی سزائے موت منسوخ کردی۔ اس شہری پر اسلام اور پیغمبر اسلام کی مبینہ توہین کا الزام تھا۔سری لنکا کے نائب وزیر خارجہ ارون ہیم چندرا نے تصدیق کی کہ ریاض نے انوجن سیواراسا کی سزائے موت منسوخ کردی ہے۔

27 سالہ انوجن سیواراسا اب بھی جیل میں ہیں۔ انہیں 5 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے اور 30 لاکھ سعودی ریال یعنی تقریباً 8 لاکھ امریکی ڈالر جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔عدالت کے اس فیصلے کے بعد سعودی عرب کے قانونی نظام پر شدید تنقید کی گئی۔

سعودی عرب میں اسلامی قانون کی تشریحات کے ساتھ سائبر کرائم اور انسداد دہشت گردی کے قوانین کو بھی آن لائن اظہار رائے کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے۔ ناقدین کے مطابق یہ کارروائیاں عوامی اخلاقیات کے تحفظ کے نام پر کی جاتی ہیں۔

اس کے نتیجے میں سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں کو کئی دہائیوں پر محیط قید کی سزائیں دینے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ اس کے ساتھ سزائے موت کے استعمال میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق رواں سال اب تک کم از کم 175 افراد کو سزائے موت دی جا چکی ہے۔ ان میں سے زیادہ تر غیر ملکی شہری ہیں۔