جدہ: حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے محمد یوسف علی اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ عمرے کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب پہنچے تھے۔ یہ خاندان کے لیے خوشی کا موقع تھا، کیونکہ بڑے بیٹے کو انجینئرنگ کالج میں داخلہ ملنے کے بعد سب نے مل کر عمرہ کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ لیکن ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہونے والے میزائل حملے نے اس خوشی کو غم میں تبدیل کردیا۔
محمد یوسف علی اپنے بڑے بیٹے کے ساتھ جوس خریدنے کے لیے گئے تھے، جب کہ خاندان کے دیگر افراد مدینہ منورہ جانے والی پرواز کے انتظار میں ایئرپورٹ پر موجود تھے۔ دونوں ابھی چند سو میٹر ہی دور گئے تھے کہ ایک میزائل اس علاقے میں آ گرا، جس کی زد میں آکر باپ بیٹا شدید زخمی ہوگئے۔
دونوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں محمد یوسف علی کی حالت تشویش ناک تھی۔ ان کے کزن اور پڑوسی محمد اکبر ہاشمی نے عرب نیوز کو بتایا کہ یوسف علی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اگلے روز انتقال کر گئے۔ ان کی ایک ٹانگ مکمل طور پر کٹ گئی تھی۔
انجینئرنگ کالج میں داخلے کی خوشی میں عمرے کا منصوبہ
محمد یوسف علی پیشے کے اعتبار سے آئی ٹی انجینئر تھے اور کام کے سلسلے میں سعودی عرب اور ہندوستان کے درمیان سفر کرتے رہتے تھے۔ اس مرتبہ وطن واپسی کے بعد انہوں نے فیصلہ کیا تھا کہ اگلا سفر پورا خاندان ایک ساتھ کرے گا۔
اس سفر میں محمد یوسف علی، ان کی اہلیہ، دو بیٹے، بیٹی اور خالہ شامل تھے۔ یہ پورے خاندان کا پہلا مشترکہ عمرہ تھا۔ اس کا ایک مقصد بڑے بیٹے کے انجینئرنگ کالج میں داخلے کی خوشی منانا اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا بھی تھا۔
محمد اکبر ہاشمی کے مطابق، بڑے بیٹے کو انجینئرنگ کالج میں داخلہ ملنے کے بعد عمرے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ خاندان کے لیے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کا ایک طریقہ تھا۔
دونوں بیٹے اسپتال میں زیرِ علاج
حملے میں زخمی ہونے والے محمد یوسف علی کے دونوں بیٹے اب بھی اسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔ بیٹی اور خالہ کو معمولی چوٹیں آئی تھیں اور علاج کے بعد انہیں اسپتال سے فارغ کردیا گیا۔ اہلیہ واحد فرد تھیں جنہیں اسپتال میں داخل کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئی۔
محمد اکبر ہاشمی نے بتایا کہ یوسف علی کی اہلیہ کی حالت اب مستحکم ہے اور وہ اسپتال میں بچوں کی دیکھ بھال کر رہی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ بڑے بیٹے کے دونوں گھٹنوں میں مصنوعی ہڈیاں لگائی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ پیٹ کا آپریشن بھی کرنا پڑا، کیونکہ شیشے کے ٹکڑے جسم میں پیوست ہوکر جگر تک پہنچ گئے تھے۔ ڈاکٹروں کے مطابق، اسے مزید تین ہفتے اسپتال میں رہنا پڑ سکتا ہے۔
خاندان کے بچوں کو والد کی موت کے بارے میں بتا دیا گیا ہے۔ محمد اکبر ہاشمی نے خاندان کی کیفیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس صدمے کو الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں، کیونکہ انہوں نے اپنا سب کچھ کھو دیا ہے۔
شہریوں اور ہوائی اڈوں کو نشانہ بنانے کی مذمت
محمد اکبر ہاشمی نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب پر حوثیوں کا یہ حملہ سراسر غلط تھا۔ ان کے بقول، شہری ہوائی اڈوں اور شاپنگ مالز جیسے مق