ریاض ایئرپورٹ حملے میں زخمی ایک بھارتی شہری کی موت، تین آئی سی یو میں زیر علاج

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 12-10-2026
ریاض ایئرپورٹ حملے میں زخمی ایک بھارتی شہری کی موت، تین آئی سی یو میں زیر علاج
ریاض ایئرپورٹ حملے میں زخمی ایک بھارتی شہری کی موت، تین آئی سی یو میں زیر علاج

 



ریاض;سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملے میں زخمی ہونے والے ایک بھارتی شہری کی موت ہوگئی ہے، جبکہ تین دیگر بھارتی شہری انتہائی نگہداشت کے شعبے (آئی سی یو) میں زیر علاج ہیں۔ ان کی حالت مستحکم بتائی گئی ہے۔ سعودی عرب میں بھارتی سفارت خانے نے اتوار کو یہ اطلاع دی۔

زخمی بھارتی شہریوں کی صحت سے متعلق تازہ معلومات دیتے ہوئے سفارت خانے نے بتایا کہ دو دیگر زخمیوں کو اسپتال کے عام وارڈ میں داخل کیا گیا ہے، جبکہ باقی زخمیوں کو علاج کے بعد چھٹی دے دی گئی ہے۔

سفارت خانے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا، ’’ہمارے سفارت خانے کے افسران نے ان تمام اسپتالوں کا دورہ کیا ہے جہاں حملے میں زخمی ہونے والے بھارتی شہریوں کو داخل کرایا گیا ہے۔ جیسا کہ پہلے بتایا گیا تھا، آج افسوس ناک طور پر ایک بھارتی شہری کی موت ہوگئی۔ تین افراد آئی سی یو میں ہیں، لیکن ان کی حالت مستحکم ہے۔ مزید دو افراد عام وارڈ میں داخل ہیں، جبکہ دیگر زخمیوں کو اسپتال سے چھٹی دے دی گئی ہے۔‘‘

سفارت خانے نے زخمیوں کو طبی سہولتیں فراہم کرنے پر سعودی حکام کا شکریہ ادا کیا اور متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

بیان میں مزید کہا گیا، ’’ہم زخمی بھارتی شہریوں کو طبی سہولتیں فراہم کرنے پر سعودی حکام کے شکر گزار ہیں اور متاثرہ خاندانوں کو یقین دلاتے ہیں کہ سفارت خانہ ہر ممکن تعاون فراہم کرے گا۔‘‘

حیدرآباد کے محمد یوسف علی کی موت

اس سے قبل آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے سربراہ اسدالدین اویسی نے بتایا تھا کہ جاں بحق ہونے والے بھارتی شہری محمد یوسف علی کا تعلق حیدرآباد سے تھا۔ واقعے کے وقت وہ عمرہ کی ادائیگی کے لیے مدینہ منورہ جا رہے تھے۔

اویسی کے مطابق، یوسف علی کی اہلیہ اور بچے بھی حملے میں زخمی ہونے والوں میں شامل ہیں۔

دریں اثنا، ریاض میں بھارتی سفارت خانے نے سعودی عرب میں مقیم بھارتی شہریوں کے لیے ایک ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے انہیں موجودہ صورت حال کے پیش نظر محتاط اور چوکس رہنے کی ہدایت دی ہے۔

سفارت خانے نے بھارتی شہریوں سے کہا ہے کہ ضرورت کے مطابق گھروں کے اندر رہیں اور مقامی حکام کی جانب سے سرکاری ذرائع کے ذریعے جاری کردہ ہدایات پر عمل کریں۔

ایڈوائزری میں کہا گیا، ’’موجودہ صورت حال کے پیش نظر مملکت سعودی عرب میں مقیم تمام بھارتی شہریوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ چوکس رہیں، ضرورت کے مطابق گھروں کے اندر رہیں اور سرکاری ذرائع کے ذریعے مقامی حکام کی جانب سے جاری کردہ ہدایات پر عمل کریں۔‘‘

سفارت خانے نے بھارتی شہریوں کو جاری واقعات سے متعلق ویڈیوز یا خبروں کو آگے بھیجنے اور دوبارہ پوسٹ کرنے سے بھی سختی سے گریز کرنے کی ہدایت دی ہے۔

سفارت خانے کے مطابق، ریاض میں اس کی سرگرمیاں، جدہ میں قونصل خانے کا کام اور وی ایف ایس کے ذریعے فراہم کی جانے والی خدمات معمول کے مطابق جاری ہیں۔ ضرورت کے مطابق مزید معلومات اور ایڈوائزری جاری کی جائیں گی۔

سفارت خانے نے بھارتی برادری کے افراد سے کسی بھی مدد کے لیے پراواسی بھارتیہ سہایتا کیندر (پی بی ایس کے) کی 24 گھنٹے فعال ہیلپ لائن سے رابطہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ ٹول فری نمبر 8002471234 ہے۔

ایس جے شنکر نے تعزیت کا اظہار کیا

بھارت کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے بھی بھارتی شہری کی موت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے سوگوار خاندان کو یقین دلایا کہ بھارتی سفارت خانہ ہر ممکن مدد فراہم کرے گا۔

وزیر خارجہ نے ایکس پر اپنے پیغام میں کہا، ’’ریاض حملے میں ایک بھارتی شہری کی موت پر مجھے گہرا دکھ ہوا ہے۔ سوگوار خاندان کے ساتھ میری دلی تعزیت ہے۔ سفارت خانہ ہر ممکن مدد فراہم کرے گا۔‘‘

ریاض ایئرپورٹ پر 24 گھنٹوں میں دوسرا حملہ

یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو اتوار کو دوبارہ نشانہ بنایا گیا۔ 24 گھنٹوں کے اندر یہ دوسرا اور رواں ہفتے کا تیسرا حملہ بتایا گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق، ایک پروجیکٹائل ایئرپورٹ کے ٹرمینل 4 سے ٹکرایا، جس کے بعد وہاں آگ لگ گئی۔ اس سے ایک روز قبل ہونے والے حملے میں 12 افراد ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ ہلاک شدگان میں چار سعودی شہری اور آٹھ غیر ملکی باشندے شامل تھے۔

سعودی قیادت میں قائم اتحادی افواج کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے بتایا کہ فضائی دفاعی نظام نے ایئرپورٹ کے قریب ایک کروز میزائل کو بھی روک کر تباہ کردیا۔

یمن کی حوثی فورسز نے سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

بھارت نے بھی ان حملوں کی سخت مذمت کی ہے۔ وزارت خارجہ نے کہا کہ شہریوں اور شہری بنیادی ڈھانچے کو بار بار نشانہ بنانا ناقابل قبول ہے اور ایسے حملے فوری طور پر بند ہونے چاہئیں۔ وزارت نے سعودی عرب کی خودمختاری کے دفاع میں اس کے ساتھ یکجہتی کا اظہار بھی کیا۔

حوثیوں کا چار کارروائیوں کا دعویٰ

یمن کی حوثی فورسز اور سعودی عرب کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران حوثی فوجی ترجمان بریگیڈیئر جنرل یحییٰ سریع نے دعویٰ کیا کہ گروپ نے 24 گھنٹوں کے اندر بیلسٹک میزائلوں، کروز میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے سعودی ہوائی اڈوں اور توانائی کی تنصیبات کے خلاف چار کارروائیاں کیں۔

حوثیوں کی جانب سے ٹیلی گرام پر جاری بیان کے مطابق، ان کارروائیوں میں سے ایک کا ہدف ریاض کا کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ تھا۔ دیگر اہداف میں مشرقی صوبے میں سعودی آرامکو سے وابستہ شوگادام گیس تنصیب اور تنجیب آئل ریفائنری کے علاوہ دمام کا کنگ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ شامل تھے۔

یہ تمام دعوے حوثی گروپ کی جانب سے کیے گئے ہیں۔

گروپ نے بین الاقوامی کمپنیوں، ملازمین اور مسافروں کو سعودی ہوائی اڈوں کے لیے پروازیں چلانے سے گریز کرنے کی تنبیہ بھی کی۔ تاہم، اس نے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے مقدس شہروں کی خدمت کرنے والے ہوائی اڈوں اور فضائی حدود کو اس تنبیہ سے مستثنیٰ قرار دیا۔