صدر شی ایک لاکھ امریکی نوجوانوں کو چین بلائیں گے

Story by  PTI | Posted by  [email protected] | Date 25-09-2026
صدر شی ایک لاکھ امریکی نوجوانوں کو  چین بلائیں گے
صدر شی ایک لاکھ امریکی نوجوانوں کو چین بلائیں گے

 



واشنگٹن: چین کے صدر شی جن پنگ نے کہا ہے کہ آئندہ پانچ برسوں کے دوران ایک لاکھ امریکی نوجوانوں کو تعلیمی اور باہمی تبادلے کے پروگراموں میں شرکت کے لیے چین آنے کی دعوت دی جائے گی۔ شی جن پنگ نے جمعرات کو وائٹ ہاؤس میں یہ اعلان کیا۔ یہ اعلان 2023 میں کیے گئے اسی طرح کے ایک پروگرام کے پس منظر میں سامنے آیا ہے، جس کے تحت پانچ سال کے دوران 50 ہزار امریکی نوجوانوں کو تعلیمی اور تبادلے کے پروگراموں کے لیے چین بلانے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا۔ یہ ہدف رواں سال مقررہ مدت سے پہلے ہی حاصل کر لیا گیا۔

شی نے کہا، ’’چین اور امریکہ کے تعلقات کی امید دونوں ملکوں کے عوام میں ہے اور ان تعلقات کا مستقبل نوجوانوں پر منحصر ہے۔ مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ آئندہ پانچ برسوں میں ایک لاکھ امریکی نوجوانوں کو تعلیم اور باہمی تبادلے کے پروگراموں میں شرکت کے لیے چین آنے کی دعوت دی جائے گی۔‘‘ چینی صدر نے دوسری عالمی جنگ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس دوران چینی اور امریکی عوام نے ’فاشسٹ‘ حملے کے خلاف ’’کندھے سے کندھا ملا کر‘‘ جنگ لڑی تھی۔ شی نے کہا، ’’چینی عوام تاریخ کے اس حصے کو کبھی نہیں بھولے ہیں اور نہ ہی امریکی عوام اسے بھولے ہیں۔‘‘

انہوں نے کہا، ’’خواتین و حضرات، عزیز دوستو، چینی قوم کی عظیم تجدید نو کا ہدف حاصل کرنا اور امریکہ کو دوبارہ عظیم بنانا، یہ دونوں کام ایک ساتھ کیے جا سکتے ہیں۔ آئیے، ہم عوام کی امیدوں پر پورا اتریں اور اپنی تاریخی ذمہ داری نبھائیں۔ آئیے، دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان دوستی کو آگے بڑھاتے رہیں اور مل کر ایک بہتر دنیا بنانے کے لیے کام کریں۔‘‘ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دوسری عالمی جنگ کے دوران جاپانی حملے کے خلاف چین کی مدد کرنے میں امریکہ کے کردار کا ذکر کیا تھا۔

ٹرمپ نے سلامتی، ٹیکنالوجی اور ’سپر انٹیلی جنس‘ سے متعلق امور کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان شعبوں میں ان کے اور شی جن پنگ کے فیصلے آنے والی کئی دہائیوں تک امن اور خوشحالی کو فروغ دے سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’ہم اپنے مشترکہ مفادات پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں اور مجھے یقین ہے کہ تاریخ میں ہم بہت کچھ حاصل کر سکتے ہیں۔‘‘ ٹرمپ نے مزید کہا، ’’ان مشترکہ مفادات کی تلاش نے وسیع سمندروں، طویل فاصلے اور متعدد اختلافات کے باوجود ہمارے عوام کو ایک دوسرے سے جوڑے رکھا ہے اور یہاں تک کہ دوسری عالمی جنگ میں ہمیں اتحادی بھی بنایا۔‘‘