پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر میں 119 شہریوں کے قتل اور جبری گمشدگیوں کا الزام

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 06-11-2026
پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر میں 119 شہریوں کے قتل اور جبری گمشدگیوں کا الزام
پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر میں 119 شہریوں کے قتل اور جبری گمشدگیوں کا الزام

 



لندن: پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر (پی او جے کے) کے سیاسی کارکن ڈاکٹر امجد ایوب مرزا نے پاکستانی سکیورٹی فورسز پر خطے میں شہریوں کے خلاف مسلسل کارروائیاں کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ جون 2026 میں احتجاجی تحریک شروع ہونے کے بعد سے اب تک کم از کم 119 افراد ہلاک اور 910 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔

5 نومبر کو جاری ایک بیان میں تحریک کے پانچ ماہ مکمل ہونے پر ڈاکٹر امجد ایوب مرزا نے بتایا کہ یہ احتجاج 5 جون کو دھرنوں اور مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کی اپیل کے ساتھ شروع ہوا تھا۔ تاہم سکیورٹی فورسز نے اس مارچ کو روک دیا۔ ان میں پنجاب پولیس، اسلام آباد کانسٹیبلری اور رینجرز شامل تھیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ سندھ پولیس کو بھی پرامن تحریک کو دبانے کے لیے غیر قانونی طور پر پی او جے کے میں تعینات کیا گیا۔

مرزا کے مطابق صرف 5 نومبر کو تین افراد ہلاک اور 17 زخمی ہوئے۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ راولا کوٹ میں ایک عدالت کے قریب شہریوں کو نشانہ بنانے کے لیے ڈرون استعمال کیے گئے۔ ایک دوسرے واقعے میں ایک نامعلوم گولہ، جس کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ راکٹ سے چلنے والا دستی بم تھا، ایک مکان پر آ گرا۔ اس وقت گھر کے افراد کھانا کھا رہے تھے۔ اس واقعے میں ایک ہی خاندان کے پانچ افراد ہلاک ہو گئے جن میں تین بچے اور دو خواتین شامل تھیں۔

ڈاکٹر امجد ایوب مرزا نے دعویٰ کیا کہ ہزاروں افراد جبری حراست اور گمشدگی کے بعد سے لاپتہ ہیں اور ان کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں مل رہی ہے۔ انہوں نے 30 جون کو گرفتار کیے گئے شوکت نواز میر کی گمشدگی پر بھی تشویش ظاہر کی۔ ان کا الزام ہے کہ شوکت نواز میر کے اہل خانہ اور وکلا کو ان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے اور انہیں قانونی کارروائی تک رسائی سے بھی محروم رکھا گیا ہے۔

سیاسی کارکن نے مزید الزام عائد کیا کہ احتجاج کے دوران ہلاک ہونے والے شہریوں کی لاشیں نیم فوجی دستوں کے رینجرز نے اپنے قبضے میں لے لیں اور اہل خانہ کو اطلاع دیے بغیر انہیں نامعلوم مقامات پر بے نام قبروں میں دفن کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ کارروائیوں کے باوجود جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) اپنی تحریک جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے اور اسے عوام کی وسیع حمایت حاصل ہے۔ اس حمایت میں پی او جے کے سے تعلق رکھنے والے بیرون ملک مقیم افراد بالخصوص برطانیہ میں آباد کشمیری بھی شامل ہیں۔

ڈاکٹر مرزا نے پاکستانی حکام کے اس الزام کو مسترد کیا کہ اس تحریک کے روابط عسکریت پسند یا انتہا پسند گروہوں سے ہیں۔ ان کے مطابق یہ تحریک شہریوں کی جدوجہد ہے جس کا بنیادی مقصد سیاسی، معاشی اور شہری حقوق کا حصول ہے۔

نوٹ: ہلاکتوں اور دیگر واقعات سے متعلق اعداد و شمار اور الزامات ڈاکٹر امجد ایوب مرزا کے بیان پر مبنی ہیں۔