پیمرا نے خبردار کیا کہ ہدایات پر عمل نہ کرنے والے نشریاتی اداروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ حکم نامے کے تحت ٹیلی ویژن چینل صرف وہی معلومات نشر کر سکیں گے جن کی متعلقہ سرکاری محکموں یا قانون نافذ کرنے والے اداروں نے تصدیق کی ہو۔ چینلوں کو نشریات میں تاخیر کا نظام متعارف کرانے اور آزاد ادارتی بورڈ قائم رکھنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے۔کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کے افغانستان اور پاکستان کے نمائندے ولی اللہ رحمانی نے کہا کہ ایسے اقدامات جائز حفاظتی تدابیر کو سنسرشپ اور سرکاری معلومات پر کنٹرول کے ذرائع میں تبدیل کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق آزادانہ رپورٹنگ پر پابندیاں عائد کرنے اور سرکاری طور پر منظور شدہ معلومات پر انحصار لازمی قرار دینے سے نیوز رومز کی ذمہ دارانہ ادارتی فیصلے کرنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔
سی پی جے نے پاکستانی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان پابندیوں کو واپس لیں اور صحافیوں کو خوف و ہراس یا ریگولیٹری کارروائی کے خطرے کے بغیر اہم سکیورٹی واقعات کی رپورٹنگ کرنے کی اجازت دیں۔تازہ حکم نامے میں پیمرا کی جانب سے فروری 2023 میں متعارف کرائی گئی پابندیوں کو بھی دہرایا گیا ہے۔ اس وقت ریگولیٹری ادارے نے الزام لگایا تھا کہ ٹیلی ویژن چینل عسکریت پسندوں کے حملوں کے دوران غیر مصدقہ اور قیاس آرائیوں پر مبنی خبریں نشر کر رہے ہیں۔
تاہم ان پابندیوں کے ناقدین کا کہنا ہے کہ ممنوعہ کوریج کی وسیع اور مبہم تعریفیں جائز صحافت کو محدود کرنے اور عوام کو بروقت معلومات تک رسائی سے محروم کرنے کا سبب بن سکتی ہیں۔پاکستان میں میڈیا کی آزادی کے حوالے سے تشویش اس وقت مزید بڑھ گئی جب وزارت اطلاعات و نشریات نے اگست میں نئی رہنما ہدایات جاری کیں۔