پاکستان میں دہشت گردانہ حملوں کی لائیو کوریج پر پابندی۔ صحافتی آزادی خطرے میں

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 17-10-2026
پاکستان میں دہشت گردانہ حملوں کی لائیو کوریج پر پابندی۔ صحافتی آزادی خطرے میں
پاکستان میں دہشت گردانہ حملوں کی لائیو کوریج پر پابندی۔ صحافتی آزادی خطرے میں

 



یویارک: پاکستان میں میڈیا کو کنٹرول کرنے والے اداروں کو ٹیلی ویژن چینلوں پر وسیع پابندیاں عائد کرنے کے معاملے پر تنقید کا سامنا ہے۔ ان پابندیوں کے بعد صحافتی آزادی اور سنسرشپ کے علاوہ خبروں کی کوریج پر حکومت کے بڑھتے ہوئے کنٹرول کے حوالے سے تشویش پیدا ہوگئی ہے۔کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (سی پی جے) نے پاکستانی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ٹیلی ویژن نیٹ ورکس کو دہشت گردانہ حملوں اور دیگر مبینہ طور پر ناخوشگوار واقعات کی براہ راست کوریج سے روکنے والی پابندیاں واپس لیں۔ تنظیم نے کہا کہ صحافیوں کو قانونی کارروائی کے خوف کے بغیر عوامی مفاد میں اہم اور تازہ ترین واقعات کی آزادانہ رپورٹنگ کی اجازت ہونی چاہیے۔13 اکتوبر کو پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے تمام سیٹلائٹ ٹیلی ویژن چینلوں کو ہدایت جاری کی کہ وہ بدقسمت یا ناخوشگوار قرار دیے جانے والے واقعات کی براہ راست فوٹیج نشر کرنے یا دوبارہ نشر کرنے سے گریز کریں۔ سی پی جے کی جانب سے حاصل کردہ حکم نامے کی نقل کے مطابق ان واقعات میں دھماکے اور فائرنگ کے علاوہ دہشت گردانہ حملے بھی شامل ہیں۔

پیمرا نے خبردار کیا کہ ہدایات پر عمل نہ کرنے والے نشریاتی اداروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ حکم نامے کے تحت ٹیلی ویژن چینل صرف وہی معلومات نشر کر سکیں گے جن کی متعلقہ سرکاری محکموں یا قانون نافذ کرنے والے اداروں نے تصدیق کی ہو۔ چینلوں کو نشریات میں تاخیر کا نظام متعارف کرانے اور آزاد ادارتی بورڈ قائم رکھنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے۔کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کے افغانستان اور پاکستان کے نمائندے ولی اللہ رحمانی نے کہا کہ ایسے اقدامات جائز حفاظتی تدابیر کو سنسرشپ اور سرکاری معلومات پر کنٹرول کے ذرائع میں تبدیل کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق آزادانہ رپورٹنگ پر پابندیاں عائد کرنے اور سرکاری طور پر منظور شدہ معلومات پر انحصار لازمی قرار دینے سے نیوز رومز کی ذمہ دارانہ ادارتی فیصلے کرنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔

سی پی جے نے پاکستانی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان پابندیوں کو واپس لیں اور صحافیوں کو خوف و ہراس یا ریگولیٹری کارروائی کے خطرے کے بغیر اہم سکیورٹی واقعات کی رپورٹنگ کرنے کی اجازت دیں۔تازہ حکم نامے میں پیمرا کی جانب سے فروری 2023 میں متعارف کرائی گئی پابندیوں کو بھی دہرایا گیا ہے۔ اس وقت ریگولیٹری ادارے نے الزام لگایا تھا کہ ٹیلی ویژن چینل عسکریت پسندوں کے حملوں کے دوران غیر مصدقہ اور قیاس آرائیوں پر مبنی خبریں نشر کر رہے ہیں۔

تاہم ان پابندیوں کے ناقدین کا کہنا ہے کہ ممنوعہ کوریج کی وسیع اور مبہم تعریفیں جائز صحافت کو محدود کرنے اور عوام کو بروقت معلومات تک رسائی سے محروم کرنے کا سبب بن سکتی ہیں۔پاکستان میں میڈیا کی آزادی کے حوالے سے تشویش اس وقت مزید بڑھ گئی جب وزارت اطلاعات و نشریات نے اگست میں نئی رہنما ہدایات جاری کیں۔