پشاور:پاکستان کے شہر پشاور میں جمعرات کو ایک نجی اسکول کی چھت گرنے سے 27 طلبہ اور ایک خاتون ٹیچر سمیت کم از کم 28 افراد ہلاک جبکہ 19 دیگر زخمی ہوگئے۔ ڈان نے اسپتال حکام کے حوالے سے یہ اطلاع دی ہے۔یہ حادثہ پشاور کے علاقے افریدی آباد میں واقع الخیر اسکول میں پیش آیا۔ حادثے کے وقت طلبہ کلاسوں میں پڑھ رہے تھے کہ اچانک چھت گر گئی اور متعدد بچے ملبے تلے دب گئے۔
لیڈی ریڈنگ اسپتال کے ترجمان محمد عاصم نے ڈان کو بتایا کہ ہلاکتوں کی تعداد پہلے بتائے گئے 21 سے بڑھ کر 28 ہوگئی ہے۔ زخمیوں کو علاج کے لیے مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ان میں سے 5 کی حالت تشویش ناک تھی۔
حادثے کے بعد زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے کے لیے لیڈی ریڈنگ اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔جیو نیوز کے مطابق پشاور کے ڈپٹی کمشنر آفاق وزیر نے تصدیق کی کہ امدادی کارروائی مکمل کرلی گئی ہے اور جائے حادثہ سے ملبہ ہٹا دیا گیا ہے۔
آفاق وزیر نے کہا کہ امدادی ٹیموں نے تمام ملبہ صاف کردیا ہے اور جائے حادثہ پر اب کوئی زخمی بچہ موجود نہیں ہے۔اس سے قبل ریسکیو 1122 کے ترجمان بلال احمد فیضی نے بتایا تھا کہ امدادی کارکن عمارت کے ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے میں مصروف ہیں۔ انہوں نے یہ بھی تصدیق کی تھی کہ طلبہ اور اساتذہ سمیت تقریباً 20 افراد کو اسپتالوں میں منتقل کیا جا چکا ہے۔
بچوں کو تلاش کرنے کے لیے والدین کی دوڑ دھوپ
حادثے کی اطلاع ملتے ہی والدین اپنے بچوں کی خیریت معلوم کرنے کے لیے اسکول پہنچ گئے۔ ملبے تلے دبے بچوں کو نکالنے کے لیے امدادی کارکنوں کے ساتھ والدین نے بھی کوششیں کیں۔ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے سمیع اللہ نامی ایک والد نے بتایا کہ وہ حادثے کی اطلاع ملنے کے کچھ ہی دیر بعد جائے وقوع پر پہنچ گئے اور انہوں نے 8 سال سے کم عمر کی 3 بچیوں کو ملبے سے نکالنے میں مدد کی۔
انہوں نے بتایا کہ صبح تقریباً 8 بج کر 50 منٹ پر انہیں گھر سے فون آیا اور وہ تقریباً 10 منٹ بعد یعنی 9 بجے جائے حادثہ پر پہنچ گئے۔ ان کے 6 بچے اسی اسکول میں زیر تعلیم ہیں۔حادثے کے ابتدائی لمحات کو یاد کرتے ہوئے سمیع اللہ نے کہا کہ انہیں خدشہ تھا کہ ان کا بیٹا بھی ملبے تلے دب کر ہلاک ہوگیا ہوگا۔ ان کا بیٹا پہلی منزل کی چھت گرنے کے وقت اس کے نیچے واقع گراؤنڈ فلور کی کلاس میں موجود تھا۔
تاہم انہوں نے بتایا کہ ان کا بیٹا پانی پینے کے لیے کلاس روم سے باہر نکل گیا تھا اور اسی وجہ سے محفوظ رہا۔
امدادی کارروائیوں کے لیے خصوصی انتظامات
ڈان کے مطابق خیبر پختونخوا کے انسپکٹر جنرل پولیس ذوالفقار حمید نے پشاور کے کیپیٹل سٹی پولیس افسر کو امدادی کارروائیوں کی نگرانی کی ہدایت دی۔ انہوں نے ٹریفک پولیس کو ایمبولینسوں کی بلا رکاوٹ آمد و رفت یقینی بنانے کے لیے گرین کوریڈور قائم کرنے کا بھی حکم دیا۔پولیس اور امدادی ٹیموں کو ہدایت دی گئی کہ ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں۔
پاکستان میں عمارتیں گرنے کے واقعات پر تشویش
پشاور کا یہ حادثہ پاکستان میں اسکولوں اور دیگر عمارتوں کی چھتیں گرنے کے مسلسل پیش آنے والے واقعات کی جانب ایک بار پھر توجہ دلاتا ہے۔ ایسے حادثات کی وجوہات میں عموماً حفاظتی معیار کی خلاف ورزی اور ناقص تعمیراتی سامان کے استعمال کو شمار کیا جاتا ہے۔جولائی میں عمرکوٹ کے قریب ایک سرکاری پرائمری اسکول کی بیرونی دیوار کا ایک حصہ گرنے سے 3 بچیاں ہلاک ہوگئی تھیں۔ ان کی عمریں 3 سے 13 سال کے درمیان تھیں۔
اسی ماہ لاہور کے علاقے باغبان پورہ میں زیر تعمیر ایک نجی اسکول کی چھت گرنے سے ایک بچہ ہلاک اور کم از کم 5 دیگر زخمی ہوگئے تھے۔جون میں لاہور کے علاقے کاہنہ میں ایک نجی ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے سے 14 بچے ہلاک ہوگئے تھے۔ اس واقعے سے 2 ماہ سے بھی کم عرصہ قبل ڈیرہ غازی خان کے ایک نجی اسکول کے کلاس روم کی چھت گرنے سے 4 بچے ہلاک اور 20 افراد زخمی ہوئے تھے۔
ڈان کے مطابق ڈیرہ غازی خان کے واقعے کی تحقیقات میں معلوم ہوا کہ ٹیوشن سینٹر کی عمارت میں توسیع کا کام جاری تھا جب کلاس روم کی چھت گر گئی۔
گزشتہ ہفتے بھی شدید بارش اور آندھی کے دوران پاکپتن میں ایک مکان کی چھت گرنے سے 2 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
جون میں گجرات کے علاقے لالہ موسیٰ کے خواص پور محلے میں زیر تعمیر عمارت کی چھت گرنے سے ایک مزدور ہلاک اور 3 دیگر زخمی ہوگئے تھے۔ اسی ماہ لاہور کے علاقے نشتر میں ایک مکان کی چھت گرنے سے 2 افراد زخمی ہوئے تھے۔اگست میں اسلام آباد کے شہزاد ٹاؤن میں 3 روز تک مسلسل بارش کے بعد ایک مکان کی چھت گرنے سے میاں بیوی ہلاک جبکہ ان کی بیٹیاں زخمی ہوگئی تھیں۔پشاور کے تازہ حادثے نے اسکولوں کی عمارتوں کی حفاظت اور تعمیراتی معیار کی جانچ کے نظام پر بھی سوالات کھڑے کردیے ہیں۔