اسلام آباد: پاکستان میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے پروگرام کے پہلے دو برسوں کے دوران ٹیکس نظام میں عدم مساوات مزید بڑھ گئی ہے۔ تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کا بوجھ مسلسل بڑھ رہا ہے جبکہ تجارت زراعت اور جائیداد جیسے بااثر شعبے اب بھی قومی خزانے میں نسبتاً کم حصہ ڈال رہے ہیں۔ ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق یہ صورت حال ملک میں ٹیکس نظام کی غیر منصفانہ تقسیم کو ظاہر کرتی ہے۔
اخبار کے مطابق دو روزہ ٹیکس کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے آئی ایم ایف کے علاقائی ڈائریکٹر جہاد ازور نے زیادہ منصفانہ اور غیر جانب دار ٹیکس نظام کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس سے ٹیکس کی ادائیگی کے رجحان کو فروغ دینے عوام کا اعتماد مضبوط کرنے اور کاروباری سرگرمیوں کی توسیع میں مدد مل سکتی ہے۔جہاد ازور نے کہا کہ ایک منصفانہ ٹیکس نظام لوگوں کو رضاکارانہ طور پر ٹیکس ادا کرنے کی ترغیب دے سکتا ہے۔ انہوں نے ٹیکس کے دائرے کو وسیع کرنے محصولات کی وصولی کے انتظام کو بہتر بنانے ٹیکس چھوٹ میں کمی لانے اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے ضروری اخراجات کے تحفظ کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
تاہم ان سفارشات اور پاکستان میں ٹیکس وصولی کے موجودہ رجحانات کے درمیان واضح فرق نظر آتا ہے۔ وفاقی بورڈ آف ریونیو کے اعداد و شمار کے مطابق موجودہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں جائیداد کے شعبے سے حاصل ہونے والا انکم ٹیکس 38 فیصد کم ہوکر 35.2 ارب پاکستانی روپے رہ گیا۔یہ کمی اس شعبے کے لیے انکم ٹیکس کی شرح میں 50 فیصد تخفیف کے بعد سامنے آئی ہے۔ اس فیصلے کی حمایت آئی ایم ایف نے بھی کی تھی۔ جائیداد کے شعبے سے انکم ٹیکس کی آمدنی مالی سال 2024 میں 200 ارب روپے تھی جو گزشتہ مالی سال بڑھ کر 236 ارب روپے ہوگئی تھی۔ تاہم ٹیکس کی شرح میں کمی کے بعد اس آمدنی کے 150 ارب روپے سے بھی نیچے آنے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔
زراعت کے شعبے سے ٹیکس وصولی بھی محدود رہی ہے۔ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت متعارف کرائے گئے نئے نظام کے تحت پنجاب اور سندھ نے جون تک زرعی آمدنی پر مجموعی طور پر صرف 5.1 ارب روپے ٹیکس وصول کیا۔اس کے برعکس تنخواہ دار طبقے کی جانب سے ادا کیے جانے والے سالانہ انکم ٹیکس میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق آئی ایم ایف پروگرام سے پہلے یہ رقم 391 ارب روپے تھی جو جون 2026 تک بڑھ کر 629 ارب روپے ہوگئی۔
دوسری جانب تاجروں کو ٹیکس نظام میں شامل کرنے کے لیے حکومت کی اسکیم بھی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں کرسکی۔ اس اسکیم کے تحت ہر سال 10 لاکھ نئے تاجروں کو رجسٹر کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا لیکن 15 اکتوبر تک صرف 137 خوردہ فروشوں نے اس میں شمولیت اختیار کی تھی۔اخبار کے مطابق اس اسکیم میں نقد لین دین کی اجازت بھی دی گئی ہے جس کے باعث خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ ٹیکس نظام کو وسیع کرنے کے بجائے یہ غیر رسمی کاروباری سرگرمیوں کو مزید تقویت دے سکتی ہے۔
مجموعی طور پر پاکستان کے ٹیکس نظام میں یہ فرق ایک بنیادی سوال اٹھاتا ہے کہ جب تنخواہ دار طبقہ بڑھتے ہوئے ٹیکسوں کا بوجھ اٹھا رہا ہے تو زراعت تجارت اور جائیداد جیسے بااثر شعبوں کو ٹیکس کے دائرے میں مؤثر طریقے سے لانے میں حکومت کو مشکلات کیوں پیش آرہی ہیں۔