پاکستان: غذائی قلت کا بحران، غذائی پالیسیوں کی ناکامی بے نقاب

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 07-11-2026
پاکستان: غذائی قلت کا بحران، غذائی پالیسیوں کی ناکامی بے نقاب
پاکستان: غذائی قلت کا بحران، غذائی پالیسیوں کی ناکامی بے نقاب

 



فیصل آباد: پاکستان میں 40 فیصد سے زائد بچے اور خواتین غذائی قلت کا شکار ہیں۔ یہ صورت حال غربت اور غذائی عدم تحفظ کے خاتمے کے لیے حکومتی کوششوں اور غذائی پالیسیوں میں مسلسل خامیوں کو نمایاں کرتی ہے۔ اخبار ’دی ایکسپریس ٹریبیون‘ کی رپورٹ کے مطابق ملک میں غذائی قلت کا مسئلہ بدستور سنگین ہوتا جا رہا ہے۔

پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر اقرار احمد خان نے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے جامعات اور تحقیقی اداروں کے ساتھ بین الاقوامی ترقیاتی شراکت داروں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

وہ یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد (یو اے ایف) کے مرکز برائے اعلیٰ مطالعات میں پاک کوریا نیوٹریشن سینٹر (پی کے این سی) کے زیر اہتمام دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس کے اختتامی اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ کانفرنس کا موضوع ’شراکت داری اور پالیسی کے ذریعے غذائیت کا فروغ‘ تھا۔

پروفیسر اقرار احمد خان نے کہا کہ صرف زرعی پیداوار میں اضافہ پاکستان میں غذائی قلت کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے کافی نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاک کوریا نیوٹریشن سینٹر نے ابتدا میں زرعی پیداوار بڑھانے اور رسد کے نظام کو بہتر بنانے کے ساتھ صحت اور ماحول کے باہمی تعلق پر مبنی نقطۂ نظر کو اپنی توجہ کا مرکز بنایا تھا۔ تاہم غذائی قلت کے وسیع پیمانے نے واضح کر دیا کہ خوراک کی پیداوار کے ساتھ مخصوص غذائی اقدامات بھی ضروری ہیں۔

ان کے مطابق بعد میں مرکز نے اپنے دائرۂ کار کو وسعت دیتے ہوئے غذائیت کے فروغ کو بھی اپنی ترجیحات میں شامل کیا۔ اس کے ساتھ ادارہ جاتی صلاحیت بڑھانے اور خوراک کے ضیاع کو کم کرنے پر توجہ دی گئی تاکہ معاشرتی مسائل کے حل کے لیے قابل عمل اقدامات کیے جا سکیں۔

یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد کے شعبۂ خوراک، غذائیت اور گھریلو علوم کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر عمران پاشا نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں، تعلیمی اداروں، تحقیقی مراکز اور بین الاقوامی شراکت داروں پر مشتمل ایک متحدہ قومی لائحۂ عمل تیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے غذائیت کے شعبے میں تحقیق، پالیسی سازی اور اداروں کے درمیان رابطے کو فروغ دینے کے لیے یونیورسٹی میں مرکزِ امتیاز برائے غذائیت قائم کرنے کی تجویز بھی پیش کی۔

ڈاکٹر عمران پاشا نے کہا کہ صحت مند غذائی پالیسیوں کی تشکیل کے لیے خوراک کے ماحول کی نگرانی ضروری ہے تاکہ مستند معلومات کی بنیاد پر بہتر فیصلے کیے جا سکیں۔ خاص طور پر ان مقامات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے جہاں بچوں کی غذائی عادات تشکیل پاتی ہیں۔

انہوں نے زندگی کے مختلف مراحل کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسا جامع طریقۂ کار اپنانے کی وکالت کی جس میں بچوں اور معاشرے کی غذائیت کے ساتھ غیر متعدی بیماریوں سے بچاؤ کے اقدامات بھی شامل ہوں۔

ڈاکٹر عمران پاشا نے امید ظاہر کی کہ کانفرنس میں پیش کی گئی سفارشات پاک کوریا نیوٹریشن سینٹر کے آئندہ اقدامات کے لیے رہنمائی فراہم کریں گی اور پاکستان و جنوبی کوریا کے درمیان تعاون کو مزید مستحکم بنانے میں مددگار ثابت ہوں گی۔