لاہور۔ پاکستان میں مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی قیمتوں میں زبردست اضافے نے عوام کی مشکلات بڑھا دی ہیں۔ خیبر پختونخوا کے بعض علاقوں میں ایل پی جی کی قیمت 750 پاکستانی روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے جبکہ گیس سلنڈر کی قیمت 10 ہزار روپے سے تجاوز کر گئی ہے۔ اس صورت حال نے حکومت کی نگرانی اور قیمتوں پر قابو پانے کی صلاحیت پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
دی ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ 5 سے 6 دنوں کے دوران ایل پی جی کی سپلائی میں کمی کے باعث بحران مزید سنگین ہوگیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے بعد تفتان سرحد بند ہونے سے گیس کی فراہمی متاثر ہوئی ہے۔پاکستان کے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کے ایک سینئر عہدیدار کے مطابق ملک اپنی ایل پی جی کی تقریباً 70 فیصد ضروریات درآمدات کے ذریعے پوری کرتا ہے جبکہ باقی 30 فیصد گیس مقامی طور پر تیار کی جاتی ہے۔
اوگرا نے رواں ماہ ایل پی جی کی سرکاری قیمت 279.34 پاکستانی روپے فی کلو مقرر کی ہے لیکن کئی بازاروں میں صارفین کو 550 سے 600 روپے فی کلو کی قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے۔ پشاور میں قیمت تقریباً 600 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے جبکہ خیبر پختونخوا کے بعض شمالی علاقوں میں یہی قیمت 750 روپے تک بتائی جا رہی ہے۔رپورٹ کے مطابق زائد قیمتیں وصول کرنے والی کمپنیوں اور فروخت کنندگان کے خلاف کارروائی کا اعلان کیے جانے کے باوجود ریگولیٹری ادارے نے تاحال مجوزہ کریک ڈاؤن شروع نہیں کیا ہے۔ حکام کو خدشہ ہے کہ سخت کارروائی کے نتیجے میں ہڑتالیں ہوسکتی ہیں۔ اس سے گیس کی تقسیم متاثر ہونے اور ملک میں توانائی کی قلت مزید بڑھنے کا اندیشہ ہے۔
اوگرا کے ایک عہدیدار نے خبردار کیا ہے کہ اگر سپلائی میں رکاوٹیں مزید بڑھیں تو متاثرہ بازاروں میں ایل پی جی کی قیمت 700 روپے فی کلو سے بھی تجاوز کر سکتی ہے۔اوگرا کے ترجمان نے تفتان سرحد کی بندش کے باعث سپلائی میں پیدا ہونے والی مشکلات کا اعتراف کیا ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ صورت حال کو مستحکم کرنے کی کوششیں جاری ہیں اور امید ہے کہ بحران پر جلد قابو پالیا جائے گا۔
ایل پی جی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا سب سے زیادہ بوجھ کم آمدنی والے خاندانوں پر پڑ رہا ہے۔ خیبر پختونخوا میں قدرتی گیس کی قلت نے ان کی مشکلات مزید بڑھا دی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پشاور کے نواحی علاقوں اور دیہی آبادیوں میں ایل پی جی مہنگی ہونے اور قدرتی گیس کی عدم دستیابی کے باعث لوگ دوبارہ لکڑی جلا کر کھانا پکانے پر مجبور ہو رہے ہیں۔