پاکستان: صحافیوں کے تحفظ کے قوانین غیر مؤثر، حفاظتی کمیشنوں کو اختیارات اور وسائل کی کمی کا سامنا

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 23-10-2026
پاکستان: صحافیوں کے تحفظ کے قوانین غیر مؤثر، حفاظتی کمیشنوں کو اختیارات اور وسائل کی کمی کا سامنا
پاکستان: صحافیوں کے تحفظ کے قوانین غیر مؤثر، حفاظتی کمیشنوں کو اختیارات اور وسائل کی کمی کا سامنا

 



اسلام آباد: پاکستان میں صحافیوں کے تحفظ کے لیے بنائے گئے قوانین اس وقت تک مؤثر ثابت نہیں ہو سکتے جب تک وفاقی اور صوبائی حفاظتی کمیشنوں کو زیادہ اختیارات، مناسب مالی وسائل اور شکایات درج کرانے کے آسان طریقے فراہم نہیں کیے جاتے۔ یہ انکشاف ذرائع ابلاغ کی نگرانی کرنے والے ادارے فریڈم نیٹ ورک کی ایک نئی رپورٹ میں کیا گیا ہے۔ اخبار ڈان کے مطابق رپورٹ میں صحافیوں کے تحفظ کے لیے قائم کمیشنوں کی کارکردگی اور ان کے سامنے موجود رکاوٹوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔

قانونی تحفظ اور عملی اقدامات کے درمیان فرق

ڈان کے مطابق فرام سیفٹی آن پیپر ٹو سیفٹی اِن پریکٹس کے عنوان سے جاری اس رپورٹ میں وفاقی اور سندھ حکومت کی جانب سے قائم صحافیوں کے تحفظ کے کمیشنوں کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا ہے۔ فریڈم نیٹ ورک نے انٹرنیشنل میڈیا سپورٹ کے تعاون سے یہ تحقیق کی جس میں ادارہ جاتی صلاحیتوں اور عملی مشکلات کے ساتھ صحافیوں کے تجربات کو بھی شامل کیا گیا۔محققین مناہل شہاب اور عدنان رحمت نے متعلقہ فریقوں سے مشاورت اور انٹرویوز کے علاوہ ایک آن لائن ابتدائی سروے کے ذریعے معلومات جمع کیں۔ اس سروے میں سندھ کے تقریباً 40 فعال صحافیوں نے حصہ لیا جن میں دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والے صحافی بھی شامل تھے۔

صحافیوں کو خطرات کا سامنا اور کمیشنوں تک رسائی میں مشکلات

پاکستان کی پارلیمنٹ نے 2022 میں صحافیوں اور ذرائع ابلاغ کے اداروں کے خلاف جرائم پر سزا سے بچ نکلنے کے رجحان کو روکنے کے لیے دو مخصوص قوانین منظور کیے تھے۔ بعد ازاں وفاقی اور سندھ حکومت نے ان قوانین کے تحت صحافیوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے کمیشن قائم کیے۔تاہم سروے میں قانون سازی اور عوامی آگاہی کے درمیان نمایاں فرق سامنے آیا۔ اگرچہ 70 فیصد شرکا سندھ میں صحافیوں کے تحفظ کے قانون سے واقف تھے لیکن 65 فیصد کو یہ معلوم نہیں تھا کہ کمیشن کا دفتر کہاں واقع ہے یا اس کی ویب سائٹ اور معلومات تک کیسے رسائی حاصل کی جائے اور شکایت درج کرانے کا طریقہ کیا ہے۔سروے میں شامل 65 فیصد صحافیوں نے بتایا کہ انہیں 2021 کے بعد سے اپنے پیشہ ورانہ کام کے دوران دھمکیوں یا مداخلت کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم یہ نتائج صرف سروے میں شریک صحافیوں کے تجربات کی عکاسی کرتے ہیں اور ان کی بنیاد پر پورے صوبے میں ایسے واقعات کی شرح متعین نہیں کی جا سکتی۔

وسائل کی کمی اور انتظامی رکاوٹیں

رپورٹ میں پاکستان کے انتظامی نظام کی خامیوں کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ وفاقی کمیشن کے چیئرمین کمال الدین ٹیپو نے عملے کی کمی اور محدود بجٹ سمیت مختلف انتظامی مشکلات کا ذکر کیا۔رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ کمیشنوں کا محض قائم ہو جانا یا ان کا باضابطہ طور پر کام شروع کر دینا صحافیوں کے مؤثر تحفظ کی ضمانت نہیں ہے۔ اس مقصد کے لیے مناسب عملہ اور مالی وسائل فراہم کرنے کے ساتھ شکایات پر کارروائی اور ان کے نتائج کی نگرانی کا مؤثر نظام بھی ضروری ہے۔

سندھ میں کمیشن نے دفتر قائم کیا ہے اور اجلاس منعقد کرنے کے علاوہ شکایات پر کارروائی بھی کی ہے۔ اس نے پولیس اور ذرائع ابلاغ کی تنظیموں کے ساتھ رابطہ کاری کے اقدامات بھی کیے ہیں۔اس کے باوجود صحافی یونینوں کے نمائندوں اور کمیشن کے غیر سرکاری ارکان نے شکایات پر کارروائی میں تاخیر اور کراچی سے باہر محدود رسائی پر تشویش ظاہر کی ہے۔ ڈان کے مطابق پولیس سے موصول ہونے والی معلومات اور جوابات پر ضرورت سے زیادہ انحصار بھی ایک اہم مسئلہ قرار دیا گیا ہے۔رپورٹ کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان میں صحافیوں کے تحفظ کے لیے قانون سازی کے باوجود اس پر مؤثر عمل درآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔ صحافیوں کو حقیقی تحفظ فراہم کرنے کے لیے کمیشنوں کو بااختیار بنانا اور انہیں ضروری وسائل مہیا کرنا ناگزیر ہے۔