اسلام آباد: پاکستان میں غذائی اجناس کی فراہمی قومی غذائی رہنما اصولوں کے مطابق نہیں ہے۔ ملک میں سبزیوں اور پھلوں کے علاوہ جڑوں اور گانٹھوں والی سبزیوں اور دالوں کی مسلسل قلت پائی جاتی ہے جبکہ اناج اور چینی کی فراہمی غذائی ضروریات سے زیادہ ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارۂ خوراک و زراعت (ایف اے او) کی ایک پالیسی رپورٹ میں یہ انکشاف کیا گیا ہے۔ اخبار ڈان کے مطابق رپورٹ میں پاکستان کے غذائی نظام میں موجود اس عدم توازن کی نشاندہی کی گئی ہے۔
صحت بخش غذا 60 فیصد سے زیادہ پاکستانیوں کی پہنچ سے باہر
’’پاکستان میں صحت بخش غذا کے لیے غذائی اجناس کی فراہمی‘‘ کے عنوان سے جاری رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ہر شخص کو متنوع اور غذائیت سے بھرپور محفوظ غذا مناسب قیمت پر اور مساوی بنیادوں پر دستیاب ہونی چاہیے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کی 60 فیصد سے زیادہ آبادی صحت بخش غذا خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتی۔ اس صورت حال کے نتیجے میں ملک میں غذائی قلت کی بلند شرح برقرار ہے جبکہ غیر صحت بخش خوراک سے متعلق غیر متعدی بیماریاں بھی بڑھ رہی ہیں۔
پاکستان نے 2018 میں غذائی اجناس پر مبنی رہنما اصول وضع کیے تھے جن میں صحت مند زندگی کے لیے ضروری غذاؤں کی اقسام اور ان کی مناسب مقدار کے بارے میں سائنسی شواہد کی بنیاد پر سفارشات پیش کی گئی تھیں۔ تاہم ایف اے او کی رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ صحت بخش غذا اختیار کرنے کی ترغیب دینے کی کوششیں اس وقت تک ناکافی رہیں گی جب تک غذائیت سے بھرپور غذائیں عام لوگوں کے لیے دستیاب اور قابل رسائی نہیں بنائی جاتیں۔
سبزیوں اور پھلوں کی قلت میں مسلسل اضافہ
ڈان کے مطابق ایف اے او کی تحقیق میں 2010 سے 2023 کے درمیان پاکستان میں سالانہ غذائی رسد کا قومی غذائی رہنما اصولوں کے تحت مقرر کردہ ضروریات سے موازنہ کیا گیا۔ اس جائزے میں غذائی اجناس کی 10 اقسام کو شامل کیا گیا تاکہ مختلف غذاؤں کی فراہمی میں کمی اور اضافے کا اندازہ لگایا جا سکے۔
رپورٹ میں سبزیوں اور پھلوں کے علاوہ جڑوں اور گانٹھوں والی سبزیوں اور دالوں کی مسلسل قلت کو نمایاں کیا گیا ہے۔ ڈان کے مطابق پاکستان میں سبزیوں کی تخمینی سالانہ کمی 2010 میں 1 کروڑ 9 لاکھ سے 1 کروڑ 78 لاکھ ٹن کے درمیان تھی جو 2023 میں بڑھ کر 1 کروڑ 30 لاکھ سے 2 کروڑ 16 لاکھ ٹن کے درمیان پہنچ گئی۔
اسی عرصے میں پھلوں کی قلت میں بھی نمایاں اضافہ ہوا۔ 2010 میں پھلوں کی تخمینی کمی 19 لاکھ سے 1 کروڑ 3 لاکھ ٹن کے درمیان تھی جبکہ 2023 میں یہ بڑھ کر 39 لاکھ سے 1 کروڑ 43 لاکھ ٹن کے درمیان پہنچ گئی۔
اس کے برعکس دودھ اور دودھ سے تیار ہونے والی اشیا کے علاوہ گوشت اور انڈوں کی فراہمی میں بہتری دیکھی گئی۔ رپورٹ کے مطابق چکنائی اور تیل کی فراہمی میں بھی بہتری آئی اور ابتدائی برسوں میں موجود معمولی کمی کے بعد یہ بعد کے برسوں میں تخمینی ضروریات کی حد میں آ گئی۔ تاہم اناج اور چینی کی فراہمی اب بھی تجویز کردہ مقدار سے زیادہ ہے۔
آبادی میں اضافہ غذائی نظام کے لیے بڑا چیلنج
ایف اے او کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی آبادی 2010 میں 18 کروڑ 93 لاکھ تھی جو 2023 میں بڑھ کر 23 کروڑ 52 لاکھ ہو گئی۔ اندازہ ہے کہ 2050 تک ملک کی آبادی تقریباً 33 کروڑ تک پہنچ جائے گی۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ آبادی میں اضافے کے ساتھ موسمیاتی تبدیلی اور دیگر چیلنجز ملک کے زرعی اور غذائی نظام پر مزید دباؤ ڈالیں گے۔ اس صورت حال میں غذائی اجناس کی پیداوار بڑھانے کے ساتھ ان کی بہتر تقسیم اور عوام تک رسائی کو یقینی بنانا بھی ناگزیر ہو جائے گا۔
غذائی عدم توازن دور کرنے کے لیے ایف اے او کی سفارشات
ایف اے او نے اس عدم توازن کو دور کرنے کے لیے مربوط مالیاتی اور ضابطہ جاتی اقدامات کی سفارش کی ہے تاکہ زرعی پیداوار اور تجارت سے متعلق ترجیحات کو ملک کی غذائی ضروریات کے مطابق بنایا جا سکے۔ رپورٹ میں غذائی اجناس کی تقسیم کے نظام کو بہتر بنانے اور فصل کی کٹائی کے بعد ہونے والے نقصان اور خوراک کے ضیاع کو کم کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ صحت بخش غذاؤں کی طلب بڑھانے کی ضرورت اجاگر کی گئی ہے۔
رپورٹ میں پاکستان کے غذائی رہنما اصولوں پر نظرثانی کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے تاکہ ان میں غذائیت کے علاوہ عوامی صحت اور ماحولیاتی ترجیحات کو بھی شامل کیا جا سکے۔ صحت مند خوراک کے انتخاب کو فروغ دینے کے لیے غذائی تعلیم اور عوام کے رویوں میں مثبت تبدیلی لانے والی مہمات کو وسعت دینے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
ایف اے او نے چینی اور نمک کی زیادہ مقدار رکھنے والی غذاؤں اور مضر صحت چکنائی سے بھرپور اشیا پر شواہد کی بنیاد پر ٹیکس عائد کرنے کی سفارش کی ہے۔ اس کے علاوہ غذائی مصنوعات کی پیکنگ کے اگلے حصے پر غذائی اجزا سے متعلق واضح معلومات درج کرنے پر زور دیا گیا ہے تاکہ صارفین خریداری کے وقت بہتر فیصلہ کر سکیں۔
رپورٹ میں سبزیوں اور پھلوں کے علاوہ دالوں اور جڑوں و گانٹھوں والی سبزیوں کی پیداوار میں زرعی سرمایہ کاری بڑھانے کی ضرورت بھی اجاگر کی گئی ہے۔ بعض علاقوں میں دودھ کی پیداوار کو فروغ دینے کی سفارش کی گئی ہے۔ ڈان کے مطابق ایف اے او نے غذائی مصنوعات تیار کرنے والے اداروں کو معیار کے مقررہ اصولوں پر عمل کرنے کی ترغیب دینے اور ان کی مصنوعات میں نمک اور چینی کے علاوہ مضر صحت چکنائی کی مقدار کم کرنے کے لیے مراعات فراہم کرنے کی تجویز بھی دی ہے۔