پاکستان کی کسان مخالف پالیسیوں کے خلاف ملک گیر احتجاج کا اعلان

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 07-10-2026
پاکستان کی کسان مخالف پالیسیوں کے خلاف ملک گیر احتجاج کا اعلان
پاکستان کی کسان مخالف پالیسیوں کے خلاف ملک گیر احتجاج کا اعلان

 



لاہور: پاکستان کے زرعی شعبے میں حکومت کی پالیسیوں کے خلاف بے چینی بڑھتی جارہی ہے۔ کسانوں کی 36 تنظیموں کے اتحاد پاکستان کسان رابطہ کمیٹی نے حکومت کی مبینہ ’’کسان مخالف‘‘ پالیسیوں کے خلاف 18 اکتوبر کو ملک گیر احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق کسان تنظیموں نے حکومت سے مطالبات تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ڈان کے مطابق کسان اتحاد کا مطالبہ ہے کہ حکومت فوری طور پر گندم کی امدادی قیمت 5 ہزار پاکستانی روپے فی من اور گنے کی قیمت 700 پاکستانی روپے فی 40 کلو مقرر کرے۔ یہ فیصلہ کسان تنظیموں کے نمائندوں کے ایک اجلاس میں کیا گیا جس میں انجمن مزارعین پنجاب۔ کسان کارواں خیبر پختونخوا۔ پاکستان کسان اتحاد۔ سندھ ہاری کمیٹی۔ ہاری جدوجہد کمیٹی۔ ہاری پریات کمیٹی اور عوامی تحریک سمیت کئی تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

پاکستان کسان رابطہ کمیٹی نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بڑھتے ہوئے پیداواری اخراجات کے باوجود کسانوں کو غیر یقینی منڈی کی صورتحال کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ کمیٹی کے صدر طارق محمود نے کہا کہ کاشت کار بیج۔ کھاد۔ کیڑے مار ادویات اور ڈیزل پر بھاری رقم خرچ کرتے ہیں لیکن فصل منڈی تک پہنچنے کے بعد مناسب معاوضہ حاصل کرنے کے لیے انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

کمیٹی کے جنرل سیکریٹری رفعت مقصود نے بھی موجودہ پالیسی کے تحت پاکستان کی زراعت کے مستقبل پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ زرعی شعبہ پہلے ہی بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت اور فصلوں کی سرکاری خریداری کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کا سامنا کررہا ہے۔کمیٹی کے مرکزی رہنما فاروق طارق نے کہا کہ کسانوں سے مشاورت کے بغیر کیے جانے والے زرعی فیصلے ملک کی غذائی سلامتی کو متاثر کرسکتے ہیں۔

انہوں نے حکام سے مطالبہ کیا کہ فصلوں کی بوائی شروع ہونے سے پہلے ہی امدادی قیمتوں کا اعلان کیا جائے تاکہ کاشت کار یہ فیصلہ کرسکیں کہ فصل کی کاشت ان کے لیے معاشی طور پر فائدہ مند رہے گی یا نہیں۔کمیٹی کے اطلاعاتی سیکریٹری حسنین جمیل فریدی نے مطالبات کی تفصیلی فہرست پیش کرتے ہوئے حکومت پر زور دیا کہ 18 اکتوبر کو ہونے والے احتجاج سے قبل کسان تنظیموں کے ساتھ مذاکرات شروع کیے جائیں۔

کسان اتحاد نے گندم اور گنے کی امدادی قیمتیں بالترتیب 5 ہزار پاکستانی روپے فی من اور 700 پاکستانی روپے فی 40 کلو مقرر کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔کسان تنظیموں نے نجی شعبے کی جانب سے گندم کی خریداری ختم کرنے اور پاسکو اور صوبائی محکمہ خوراک کے ذریعے سرکاری خریداری کا نظام دوبارہ بحال کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ ڈان کے مطابق کسان اتحاد چاہتا ہے کہ حکومت پوری فصل کی خریداری یقینی بنائے۔