پاکستان۔ راولپنڈی کے دیہاڑی دار مزدور فٹ پاتھوں پر رات گزارنے پر مجبور

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 05-10-2026
پاکستان۔ راولپنڈی کے دیہاڑی دار مزدور فٹ پاتھوں پر رات گزارنے پر مجبور
پاکستان۔ راولپنڈی کے دیہاڑی دار مزدور فٹ پاتھوں پر رات گزارنے پر مجبور

 



راولپنڈی۔ پاکستان کے شہر راولپنڈی میں مہنگائی میں اضافے۔ بڑھتی غربت اور قوت خرید میں کمی کے باعث فٹ پاتھوں۔ سڑکوں کے کنارے اور عوامی بنیادی ڈھانچے کے نیچے رات گزارنے والے مزدوروں اور دیہاڑی داروں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون نے یہ رپورٹ پیش کی ہے۔ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق متعدد مزدور اب میٹرو بس ٹریک کے نیچے اور دکانوں کے چھجوں کے نیچے پناہ لینے پر مجبور ہیں۔ خاص طور پر بارش کی راتوں اور صبح کے ابتدائی اوقات میں ان کی مشکلات مزید بڑھ جاتی ہیں۔ بنیادی ضروریات پوری کرنے کے بعد بہت کم رقم بچنے کی وجہ سے ان میں سے بہت سے افراد کے لیے سستا مکان کرائے پر لینا بھی مشکل ہو گیا ہے۔

مری روڈ پر میرر چوک سے فیض آباد تک بڑی تعداد میں مزدور نظر آتے ہیں۔ ان میں چاندنی چوک۔ رحمان آباد اور لیاقت باغ چوک کے علاقے بھی شامل ہیں۔ بعض مزدور لیاقت باغ کے اندر موجود بینچوں پر بھی رات گزارتے ہیں۔جنرل بس اسٹینڈ پیرودھائی۔ تینوں الائیڈ اسپتالوں کے لان۔ گنج منڈی بازار۔ جامع مسجد روڈ۔ بنی چوک۔ اقبال روڈ۔ موتی بازار۔ بوہر بازار۔ نرنکاری بازار۔ ہیملٹن روڈ۔ ٹائر بازار۔ نیا محلہ اور کئی دیگر تجارتی علاقوں سے بھی اسی طرح کے حالات کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

ان مزدوروں میں سے بیشتر روزگار کی تلاش میں خیبر پختونخوا اور پنجاب کے دور دراز علاقوں سے راولپنڈی پہنچے ہیں۔دن کے وقت یہ مزدور سامان لادنے اور اتارنے۔ ٹرانسپورٹرز کے ساتھ کام کرنے اور دیگر دیہاڑی کے کاموں سے روزی کماتے ہیں۔ رات کو انہیں فٹ پاتھوں۔ سڑک کے کنارے بنے پلیٹ فارموں۔ ریڑھیوں اور بعض اوقات کھڑی گاڑیوں میں سونا پڑتا ہے۔

ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق راجہ بازار۔ جامع مسجد روڈ اور بڑا بازار میں بعض ہوٹل مالکان ضرورت مندوں کو مخصوص مقامات پر مفت کھانا فراہم کرتے ہیں۔مزدور کھانے کے مقررہ وقت سے کافی پہلے ان مقامات پر پہنچ جاتے ہیں اور قطاروں میں انتظار کرتے ہیں۔ غریب خواتین بھی اپنے بچوں کے ساتھ مفت کھانا حاصل کرنے کے لیے ان مقامات کا رخ کرتی ہیں۔میٹرو بس ٹریک کے نیچے رات گزارنے والے مزدوروں نے بتایا کہ وہ عام طور پر روزانہ 700 سے 1000 پاکستانی روپے تک کما لیتے ہیں۔ مشکل دنوں میں آمدنی اس سے بھی کم ہو جاتی ہے۔ کبھی کبھار انہیں تقریباً 1500 پاکستانی روپے تک کمانے کا موقع مل جاتا ہے۔