پاکستان میں پولیو کا نواں معاملہ سامنے آگیا، خیبر پختونخوا سب سے زیادہ متاثر

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 07-11-2026
پاکستان میں پولیو کا نواں معاملہ سامنے آگیا، خیبر پختونخوا سب سے زیادہ متاثر
پاکستان میں پولیو کا نواں معاملہ سامنے آگیا، خیبر پختونخوا سب سے زیادہ متاثر

 



اسلام آباد: پاکستان میں رواں سال پولیو کا نواں معاملہ سامنے آیا ہے۔ نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر (این ای او سی) نے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر میں ایک سات ماہ کے بچے میں پولیو وائرس کی تصدیق کی ہے۔ مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ رواں سال ضلع خیبر میں پولیو کا تیسرا اور خیبر پختونخوا میں مجموعی طور پر ساتواں معاملہ ہے۔

این ای او سی کے مطابق متاثرہ بچہ ضلع خیبر کی تحصیل باڑہ کا رہنے والا ہے۔ اس تازہ معاملے کے ساتھ پاکستان میں رواں سال پولیو سے متاثرہ بچوں کی تعداد 9 ہوگئی ہے۔

پاکستانی اخبار ’ڈان‘ کی رپورٹ کے مطابق ضلع خیبر میں سامنے آنے والے تین الگ الگ معاملات میں پائے جانے والے پولیو وائرس کے جینیاتی تجزیے سے معلوم ہوا ہے کہ ان کا براہ راست تعلق پڑوسی ملک افغانستان میں گردش کرنے والے وائرس سے ہے۔ افغانستان بھی پولیو کی سنگین وبا کا سامنا کر رہا ہے جہاں 2026 میں اب تک 50 معاملات سامنے آ چکے ہیں۔

پاکستان اور افغانستان دنیا کے وہ واحد دو ممالک ہیں جہاں جنگلی پولیو وائرس اب بھی مقامی طور پر موجود ہے۔ اس سنگین صورت حال کے باوجود پاکستان میں پولیو سے بچاؤ کی مہم میں مصروف کارکنوں کو شدید حفاظتی خطرات اور حملوں کا سامنا ہے۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ایسے واقعات زیادہ پیش آ رہے ہیں۔

صحت کارکنوں کو درپیش خطرات کی ایک تازہ مثال بدھ کے روز سامنے آئی جب خیبر پختونخوا کے علاقے جمرود میں پولیو مہم کے دوران نامعلوم مسلح افراد نے مہم کے ایک نگران کو اغوا کر لیا۔

ضلعی پولیس افسر وقار احمد کے مطابق اغوا کیے گئے نگران کی شناخت جلیل خان کے طور پر ہوئی ہے۔ مسلح افراد نے انہیں زبردستی اپنے ساتھ لے جا کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔ پاکستانی اخبار ’دی ایکسپریس ٹریبیون‘ کے مطابق واقعے کے بعد مقامی انتظامیہ نے پولیس کی بھاری نفری تعینات کی اور اغوا کاروں کا سراغ لگانے کے لیے علاقے میں سخت ناکہ بندی کر دی۔

پولیو مہم کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکار بھی حملوں کا نشانہ بن رہے ہیں۔ منگل کے روز ضلع مہمند میں نامعلوم حملہ آوروں نے پولیس اہلکاروں پر اس وقت فائرنگ کر دی جب وہ پولیو مہم کی حفاظت کے لیے اضافی نفری کے طور پر جا رہے تھے۔ اس حملے میں دو پولیس اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا۔

ڈان کے مطابق پولیس ہیڈکوارٹر کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ لیاقت علی نے بتایا کہ حملہ تحصیل پنڈیالی میں ہاشم کور پولیس چوکی کے قریب پیش آیا۔

اس سے قبل پیر کے روز ضلع ٹانک میں بھی نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کے بعد پولیو مہم کے چار کارکنوں کو اغوا کر لیا تھا۔ ’دی ایکسپریس ٹریبیون‘ کے مطابق واقعے کے بعد مقامی پولیس نے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

ایک دوسرے واقعے میں ضلع لوئر جنوبی وزیرستان کے علاقے اعظم ورسک سے دو پولیو کارکنوں کو مسلح افراد نے اغوا کر لیا تھا تاہم بعد میں انہیں رہا کر دیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے وابستہ حملہ آوروں پر اس اغوا میں ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے۔

مسلسل حملوں اور اغوا کے واقعات نے پاکستان میں پولیو کے خاتمے کی مہم کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔ ایک طرف وائرس کے پھیلاؤ کا خطرہ بڑھ رہا ہے تو دوسری طرف پولیو کارکنوں اور ان کی حفاظت پر مامور اہلکاروں کو درپیش عدم تحفظ بھی ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔