نئی دہلی:ہندوستان نے کہا ہے کہ عالمی برادری پاکستان کے دعووں پر اعتماد کرنے سے پہلے یہ دیکھنا چاہتی ہے کہ اسلام آباد سرحد پار دہشت گردی کے خلاف قابل اعتماد اور عملی اقدامات کرتا ہے یا نہیں۔ وزارت خارجہ نے سندھ طاس معاہدے سے متعلق مستقل ثالثی عدالت کے حالیہ فیصلے کے حوالے سے پاکستان پر حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کا بھی الزام عائد کیا ہے۔وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے پاکستان پر جان بوجھ کر حقائق کو مسخ کرنے اور اپنی مبینہ پروپیگنڈا مہم کو آگے بڑھانے کے لیے جھوٹی معلومات پھیلانے کا الزام لگایا۔
جیسوال نے کہا کہ پاکستان کو اپنے مفاد کے لیے حقائق کو غلط انداز میں پیش کرنے اور جھوٹ پھیلانے کی عادت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے یہ واضح ہونا چاہیے کہ جسے پاکستانی وزیر مستقل ثالثی عدالت کا فیصلہ قرار دے رہے ہیں وہ مستقل ثالثی عدالت کا فیصلہ نہیں ہے۔ ان کے مطابق یہ ایک غیر قانونی طور پر تشکیل دی گئی عدالت کا فیصلہ ہے اور ہندوستان اسے پاکستان کی جانب سے حقیقت کو مسخ کرنے کی ایک اور کوشش سمجھتا ہے۔
جیسوال کا یہ بیان ان سوالات کے جواب میں آیا جن میں پاکستان کی جانب سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے صدر کو مستقل ثالثی عدالت سے متعلق حالیہ تعینات کے حوالے سے خط و کتابت بھیجے جانے کا معاملہ شامل تھا۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پاکستان نے کالعدم جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر کی گرفتاری یا سزا تک پہنچانے والی اطلاعات کے لیے مالی انعام میں اضافہ کیا ہے۔ نئی دہلی اس سے قبل مسعود اظہر کے بارے میں پاکستان کی جانب سے 70 لاکھ پاکستانی روپے کے انعام کے اعلان کو غیر سنجیدہ قرار دے چکا ہے اور دہشت گرد رہنما کے خلاف ٹھوس کارروائی کا مطالبہ کر چکا ہے۔
پاکستان میں قائم جیش محمد ہندوستان میں متعدد بڑے دہشت گرد حملوں میں ملوث رہا ہے۔ ان میں 2001 کا پارلیمنٹ حملہ اور پٹھان کوٹ اور پلوامہ سے متعلق دہشت گردانہ کارروائیاں شامل ہیں۔ اس تنظیم کی بنیاد عالمی سطح پر نامزد دہشت گرد مسعود اظہر نے رکھی تھی۔نئی دہلی مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ سرحد پار دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اسلام آباد کی عملی آمادگی ہی اس کی ساکھ جانچنے کا بنیادی معیار ہے۔
اپریل 2025 میں جموں و کشمیر کے پہلگام میں ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد ہندوستان اور پاکستان کے تعلقات میں شدید کشیدگی پیدا ہوئی تھی۔ اس حملے میں مذہب کے نام پر 26 افراد مارے گئے تھے۔ ہندوستان نے پاکستان کی حمایت یافتہ دہشت گردی کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے ذمہ دار عناصر اور ان کی حمایت کرنے والوں کے خلاف قابل اعتماد اور قابل تصدیق کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
پہلگام حملے کے بعد ہندوستان نے فوجی کارروائی کرتے ہوئے آپریشن سندور شروع کیا تھا اور دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا تھا۔ اس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان فوجی جھڑپیں جاری رہیں اور 10 مئی 2025 کو جنگ بندی پر اتفاق ہوا۔یہ مؤقف ہندوستان کی جانب سے گزشتہ ماہ سندھ طاس معاہدے کے تحت عبوری اقدامات سے متعلق ایک غیر مجاز ’ایوارڈ‘ کو مسترد کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔31 اگست کو وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ نام نہاد ثالثی عدالت کو عالمی بینک نے معاہدے کی شرائط کی واضح خلاف ورزی کرتے ہوئے تشکیل دیا تھا۔ ہندوستان نے اس نام نہاد ایوارڈ کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اس غیر قانونی طور پر تشکیل دیے گئے ادارے کے سابقہ تمام اعلانات کو بھی مسترد کرتا ہے۔
وزارت خارجہ نے اپنے قانونی مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ ہندوستان نے کبھی بھی اس نام نہاد اور غیر قانونی طور پر تشکیل دی گئی ثالثی عدالت کے قانونی وجود کو تسلیم نہیں کیا۔ ہندوستان کا مسلسل مؤقف رہا ہے کہ اس ثالثی ادارے کی تشکیل سندھ طاس معاہدے کی سنگین خلاف ورزی ہے۔وزارت خارجہ کے مطابق ہندوستان نے نہ تو اس ادارے کے سامنے پیش ہو کر کارروائی میں حصہ لیا ہے اور نہ ہی اس کے سابقہ اعلانات کو تسلیم کیا ہے۔ ہندوستان کا کہنا ہے کہ اس نام نہاد ثالثی عدالت کو ہندوستان کے خودمختار فیصلوں کے بارے میں فیصلہ دینے کا کوئی اختیار نہیں ہے اور اس کے موجودہ یا مستقبل کے اعلانات کا ہندوستان کی جانب سے جاری منصوبوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
نئی دہلی نے ایک بار پھر واضح کیا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی برقرار ہے۔ یہ تاریخی آبی معاہدہ 19 ستمبر 1960 کو ہندوستان اور پاکستان کے درمیان سندھ طاس کے دریاؤں کے پانی کے استعمال سے متعلق طے پایا تھا۔وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے جون میں بھی ہندوستان کا یہی مؤقف دہرایا تھا کہ سندھ طاس معاہدے کو اس وقت تک معطل رکھا جائے گا جب تک پاکستان سرحد پار دہشت گردی کو مکمل طور پر ختم نہیں کرتا۔بنگلہ دیش کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کے بارے میں جیسوال نے کہا کہ نئی دہلی ڈھاکہ کے ساتھ تعمیری اور تعاون پر مبنی تعلقات کا خواہاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان بنگلہ دیش کے ساتھ مثبت۔ تعمیری اور مستقبل پر مبنی تعلقات چاہتا ہے۔
نیپال میں شدید سیلاب کے بعد لاپتہ ہندوستانی شہریوں کے حوالے سے جیسوال نے بتایا کہ ہندوستانی فرانزک ماہرین کی ایک خصوصی ٹیم نیپالی حکام کے ساتھ مل کر لاپتہ افراد کی شناخت کے عمل میں تعاون کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ بریفنگ میں ہندوستان نے 275 لاپتہ ہندوستانی شہریوں کی تعداد بتائی تھی۔ اس کے علاوہ ہندوستانی تارکین وطن اور ہندوستانی نژاد کئی دیگر افراد بھی لاپتہ ہیں۔جیسوال کے مطابق ہندوستانی فرانزک ٹیم نیپال میں موجود ہے اور کھٹمنڈو کی مختلف لیبارٹریوں میں اپنے نیپالی ساتھیوں کے ساتھ کام کر رہی ہے۔ ماہرین تقریباً 3,000 حیاتیاتی نمونوں کا تجزیہ کر رہے ہیں اور اب تک 1,200 سے زیادہ حتمی ڈی این اے پروفائل تیار کیے جا چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کام جاری ہے اور لاپتہ ہندوستانی شہریوں اور دیگر افراد کے بارے میں ہندوستانی حکام نیپالی حکام سے مزید معلومات کا انتظار کر رہے ہیں۔یوکرین میں جاری جنگ کے حوالے سے جیسوال نے تصدیق کی کہ وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے پیر کو یوکرین کے وزیر خارجہ آندری سیبیہا سے ملاقات کی اور جنگ کی بدلتی ہوئی صورتحال کا جائزہ لیا۔جیسوال نے کہا کہ وزیر خارجہ نے ملاقات کے دوران تنازع سے متعلق حالیہ پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔ ایس جے شنکر نے ایک بار پھر ہندوستان کے اس مؤقف کو پیش کیا کہ پائیدار امن کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری ہی آگے بڑھنے کا راستہ ہیں۔جیسوال نے کہا کہ ہندوستان یوکرین اور روس دونوں کے ساتھ رابطے میں ہے اور دونوں فریقوں کو بتا چکا ہے کہ اگر ہندوستان کسی بھی طرح امن کے عمل میں تعاون کر سکتا ہے تو وہ اس کے لیے تیار ہے۔