بلوچستان میں 26 افراد مبینہ طور پر لاپتہ، چار کی لاشیں برآمد

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 07-11-2026
بلوچستان میں 26 افراد مبینہ طور پر لاپتہ، چار کی لاشیں برآمد
بلوچستان میں 26 افراد مبینہ طور پر لاپتہ، چار کی لاشیں برآمد

 



بلوچستان: پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع کیچ میں کم از کم 26 افراد مبینہ طور پر جبری گمشدگی کا شکار ہوگئے ہیں۔ ان میں ایک ہی خاندان کے پانچ نوجوان بھی شامل ہیں۔ دوسری جانب خضدار، خاران اور پسنی کے مختلف علاقوں سے پہلے سے لاپتہ چار افراد کی لاشیں برآمد ہونے کے بعد پاکستان میں انسانی حقوق کی صورت حال پر تنقید میں اضافہ ہوگیا ہے۔ یہ اطلاع ’دی بلوچستان پوسٹ‘ نے دی ہے۔

اخبار کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی فوجی اہلکاروں اور خفیہ اداروں کے عہدیداروں نے ضلع کیچ کے علاقے بٹ، بلیدہ میں متعدد گھروں پر چھاپے مارے۔ اس دوران مبینہ طور پر اہل خانہ کے ساتھ مارپیٹ کی گئی اور ایک ہی خاندان کے پانچ نوجوانوں کو حراست میں لے لیا گیا۔ ان کی شناخت یونس خالق، محبوب بلوچ، مجاہد بلوچ، عبدالرحیم اور بالاچ خان کے طور پر ہوئی ہے۔ ان نوجوانوں کے اہل خانہ کو اب تک ان کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں مل سکی ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ یہ گرفتاریاں گزشتہ ہفتے کولواہ میں ہونے والی فوجی کارروائی کے بعد عمل میں آئیں جس کے دوران درجنوں افراد کو حراست میں لیا گیا تھا۔ اب تک 21 لاپتہ افراد کی شناخت ہو چکی ہے جبکہ دیگر زیر حراست افراد کی شناخت کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔دریں اثنا بلوچستان کے مختلف علاقوں سے مبینہ طور پر لاپتہ کیے گئے چار افراد کی لاشیں بھی برآمد ہوئی ہیں۔

خضدار میں نال کے رہائشی مکینک الٰہی بخش اور 32 سالہ ڈرائیور منیر احمد کی لاشیں ملی ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق الٰہی بخش کو 30 اکتوبر کو حراست میں لیا گیا تھا جبکہ منیر احمد 2 اکتوبر سے لاپتہ تھے۔ دونوں لاشوں پر تشدد کے نشانات اور گولیوں کے زخم پائے گئے ہیں۔خاران میں سبزی فروش صلاح الدین کی لاش 31 اکتوبر کو برآمد ہوئی۔ اطلاعات کے مطابق انہیں 7 اگست کو ان کے بھائی آذر کے ساتھ مبینہ طور پر اٹھایا گیا تھا۔ بعد ازاں آذر کو رہا کر دیا گیا تھا۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) اور انسانی حقوق کی تنظیم پانک نے الزام عائد کیا ہے کہ صلاح الدین کو ایک فرضی مقابلے میں قتل کیا گیا۔چوتھا معاملہ پسنی کے ایک 17 سالہ طالب علم کا ہے جسے مبینہ طور پر 14 اکتوبر کو اس کے گھر سے اغوا کیا گیا تھا۔ ’دی بلوچستان پوسٹ‘ کے مطابق آٹھ روز بعد اس کی لاش کُلّانچ کے علاقے سے برآمد ہوئی۔

ان واقعات کی مذمت کرتے ہوئے بلوچ یکجہتی کمیٹی نے پاکستانی حکام پر الزام لگایا ہے کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے بعد ماورائے عدالت قتل کا سلسلہ جاری ہے۔ تنظیم نے ان واقعات کی آزادانہ تحقیقات کرانے اور ذمہ داروں کا احتساب کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔