لاہور۔پاکستان کے شہر لاہور میں رواں سال ریپ اور گینگ ریپ کے رپورٹ ہونے والے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق 2026 کے پہلے 8 ماہ کے دوران ایسے واقعات کی تعداد گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں بڑھ گئی ہے۔ سما ٹی وی نے یہ رپورٹ پیش کی ہے۔سما ٹی وی کے مطابق لاہور میں جنوری سے اگست 2026 کے دوران ریپ کے 498 مقدمات درج کیے گئے جبکہ 2025 کے اسی عرصے میں 413 مقدمات درج ہوئے تھے۔ اس طرح رپورٹ شدہ واقعات میں تقریباً 20 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
گینگ ریپ کے مقدمات میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ رواں سال کے پہلے 8 ماہ میں گینگ ریپ کے 36 مقدمات درج ہوئے جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں 26 مقدمات درج کیے گئے تھے۔ اس طرح گینگ ریپ کے رپورٹ شدہ مقدمات میں تقریباً 38 فیصد اضافہ ہوا۔لاہور کے کئی پولیس ڈویژنوں میں ریپ کے مقدمات میں اضافہ دیکھا گیا۔ سٹی ڈویژن میں گزشتہ سال کے پہلے 8 ماہ کے دوران 36 مقدمات درج ہوئے تھے جو رواں سال بڑھ کر 56 ہو گئے۔
صدر ڈویژن میں بھی نمایاں اضافہ ہوا جہاں ریپ کے مقدمات کی تعداد 2025 کے اسی عرصے کے 98 سے بڑھ کر رواں سال 132 ہو گئی۔اقبال ٹاؤن میں رپورٹ شدہ مقدمات 46 سے بڑھ کر 80 ہو گئے۔ تاہم ماڈل ٹاؤن ڈویژن میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ پولیس کے مطابق دونوں ادوار میں ریپ کے 98 مقدمات درج کیے گئے۔
گینگ ریپ کے مقدمات میں بھی کئی ڈویژنوں میں اضافہ ہوا۔ کینٹ ڈویژن میں رواں سال 9 مقدمات درج ہوئے جبکہ گزشتہ سال یہ تعداد 5 تھی۔ ماڈل ٹاؤن میں گینگ ریپ کے مقدمات 5 سے بڑھ کر 10 ہو گئے۔سول لائنز میں گزشتہ سال کے 2 مقدمات کے مقابلے میں رواں سال 3 مقدمات درج ہوئے جبکہ اقبال ٹاؤن میں یہ تعداد 4 سے بڑھ کر 6 ہو گئی۔
سٹی ڈویژن میں بھی گینگ ریپ کا ایک مقدمہ گزشتہ سال درج ہوا تھا جبکہ رواں سال یہ تعداد بڑھ کر 2 ہو گئی۔پولیس کے یہ اعداد و شمار صرف ان واقعات کی عکاسی کرتے ہیں جن کے مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ اس لیے یہ لاہور میں جنسی حملوں کے مجموعی واقعات کی مکمل تعداد نہیں بتاتے بلکہ صرف پولیس کو رپورٹ کیے گئے واقعات کی تعداد ظاہر کرتے ہیں۔