یروشلم: اسرائیل کے وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ امریکہ کا مستقبل کا صدر اسرائیل کے خلاف معاندانہ رویہ اپنا سکتا ہے۔ اس امکان کے پیش نظر انہوں نے اپنے ملک کی پوزیشن مضبوط بنانے کے لیے بھارت اور لاطینی امریکی ممالک سمیت دیگر ملکوں کے ساتھ نئے اتحاد قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ نیتن یاہو نے یہ بیان اتوار کو اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے انتخابات سے نو دن قبل ایک تقریب میں اپنی سکیورٹی پالیسی پیش کرتے ہوئے دیا۔
ان کا یہ بیان امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے کھل کر حمایت کا اعلان کیے جانے سے چند گھنٹے پہلے سامنے آیا۔ ٹرمپ نے اسرائیل میں ووٹنگ سے چند روز قبل نیتن یاہو کی دوبارہ وزیر اعظم بننے کی کوشش کی عوامی طور پر حمایت کی۔ نیتن یاہو نے کہا، ’’دو سال میں امریکہ میں کوئی ایسا صدر اقتدار میں آ سکتا ہے، چاہے وہ مرد ہو یا خاتون، جو اسرائیل کے خلاف انتہائی معاندانہ رویہ رکھتا ہو۔‘‘ انہوں نے سوال کیا، ’’آپ ایسی صورت حال سے کیسے نمٹیں گے؟ امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو کس طرح سنبھالیں گے؟ اور اس کے علاوہ کن حلوں کی ضرورت ہوگی؟‘
‘ اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا کہ ڈونالڈ ٹرمپ کی صدارت کی باقی مدت کو اسرائیل کی پوزیشن مضبوط بنانے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔ اس کے ساتھ ہی امریکہ کی پالیسی میں ممکنہ بڑی تبدیلیوں کے لیے بھی تیار رہنے کی ضرورت ہے۔ نیتن یاہو نے کہا، ’’پہلی بات یہ ہے کہ ہمیں اگلے دو سال اور اس کے بعد کے دو سالوں کے دوران بھی امریکہ کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’دوسری بات یہ ہے کہ ہمیں دوسرے اتحاد قائم کرنے چاہئیں۔ میں اس وقت اپنے خطے اور اس سے باہر کئی ممالک کے ساتھ اسی سمت میں کام کر رہا ہوں۔ بھارت کوئی چھوٹا ملک نہیں ہے، اور بھی کئی ممالک ہیں۔‘‘
نیتن یاہو نے لاطینی امریکہ میں سیاسی تبدیلیوں کو اسرائیل کے اتحادی ممالک کا دائرہ وسیع کرنے کا ایک اور موقع قرار دیا۔ انہوں نے کہا، ’’لاطینی امریکہ میں بڑی تبدیلیاں ہو رہی ہیں اور چند ہی دنوں میں برازیل میں بھی بہت بڑی تبدیلی آ سکتی ہے۔ ہمیں اپنے اتحادوں کا دائرہ بڑھانا چاہیے اور ایسی صلاحیتیں پیدا کرنی چاہئیں جن کے ذریعے ہم اسرائیل کو سب کے لیے مفید بنا سکیں۔‘‘ نیتن یاہو اکثر بھارت اور وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ اپنے تعلقات کا ذکر کرتے رہے ہیں۔ ان کے ذریعے وہ یہ ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اسرائیل عالمی سطح پر الگ تھلگ نہیں ہے اور ان کی حکومت نے سفارتی محاذ پر کامیابیاں حاصل کی ہیں۔
طویل عرصے سے جاری جنگ کے دوران اسرائیل کی عالمی قبولیت پر اٹھنے والے سوالات اور اتحادیوں کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنے کی ضرورت کے تناظر میں نیتن یاہو نے رواں سال مئی میں بھی ایک اہم بیان دیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ بھارت جیسی ’’بڑی طاقت‘‘ کے ساتھ اسرائیل کے ’’خصوصی تعلقات‘‘ ہیں اور بھارت میں اسرائیل کے لیے ’’زبردست محبت‘‘ پائی جاتی ہے۔ اسرائیل کے متعدد تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ امریکی ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنماؤں اور حامیوں میں اسرائیل کے تئیں بڑھتی ہوئی بے رخی کی ایک وجہ نیتن یاہو کے کئی فیصلے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، ڈیموکریٹک پارٹی کے سابق صدور براک اوباما اور جو بائیڈن کے ساتھ نیتن یاہو کے تعلقات اکثر کشیدہ رہے۔ تاہم، نیتن یاہو نے ان اختلافات کو اپنے حامیوں کے سامنے ایک مضبوط رہنما کی جرأت کے طور پر پیش کیا، جو اسرائیل کے مفادات کے تحفظ کے لیے امریکی صدور کے سامنے بھی اپنی بات رکھنے سے گریز نہیں کرتا۔ ان کے مطابق، یہ حکمت عملی نیتن یاہو کی انتخابی مہمات کا ایک اہم حصہ رہی ہے اور انہیں انتخابی کامیابی حاصل کرنے میں بھی مدد دیتی رہی ہے۔ نیتن یاہو اسرائیل کی تاریخ میں سب سے طویل عرصے تک وزیر اعظم رہنے والے رہنما ہیں۔
دوسری جانب، آئندہ انتخابات میں نیتن یاہو کے اہم حریف گادی آئزن کوٹ نے ان کی سکیورٹی پالیسی پر سخت تنقید کی ہے۔ انہوں نے اسے ایک سنجیدہ قومی سلامتی کی حکمت عملی کے بجائے کھوکھلی سیاسی مشق قرار دیا۔ آئزن کوٹ نے کہا، ’’انتخابات سے نو دن پہلے، اسرائیل کی تاریخ کی سب سے سنگین ناکامی اور سانحے کے تین سال بعد، جب جنگ کے تمام محاذ اب بھی کھلے ہیں، نیتن یاہو نے عوام کے سامنے اپنی ’سکیورٹی پالیسی‘ پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’نعروں سے بھرے دو کھوکھلے صفحات، جن کا سکیورٹی پالیسی سے کوئی تعلق نہیں، یہ ظاہر کرتے ہیں کہ نیتن یاہو نے اسرائیل کو کس تزویراتی خلا میں چھوڑ دیا ہے اور انہیں اسرائیلی شہریوں کی سلامتی کی کتنی کم فکر ہے۔