یروشلم، 29 اکتوبر (رائٹرز): اسرائیل کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے جمعرات کو بغیر کوئی ثبوت پیش کیے الزام عائد کیا کہ اس ہفتے ہونے والے انتخابات میں عرب جماعتوں کو حاصل ہونے والی غیر معمولی کامیابی کی ایک وجہ ووٹوں میں دھاندلی ہے۔ عرب رہنماؤں نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے وزیر اعظم پر اشتعال انگیزی کا الزام لگایا ہے۔
نیتن یاہو اور ان کے انتہائی دائیں بازو کے اتحادیوں کی جانب سے عرب جماعتوں کے خلاف بیان بازی میں یہ شدت منگل کو ہونے والے قومی انتخابات میں عرب ووٹروں کی ریکارڈ شرکت کے بعد آئی ہے۔ عرب ووٹروں کی بڑی تعداد میں شرکت نے نیتن یاہو اور ان کے اہم سیاسی حریفوں، دونوں کے لیے اقتدار تک پہنچنے کی راہ مشکل بنا دی ہے۔
اسرائیلی حکام نے جمعرات کو کہا کہ انتخابی دھاندلی کے الزامات کی تحقیقات کی جا رہی ہیں، تاہم انتخابات کی شفافیت کو منظم طور پر متاثر کیے جانے کے شواہد نہیں ملے ہیں۔
تجزیہ کاروں اور ناقدین کا کہنا ہے کہ عرب جماعتوں کے خلاف حملوں میں شدت پیدا کرکے نیتن یاہو شاید اپنے اہم حریف گادی آئزن کوٹ کو اس امکان پر غور کرنے سے بھی روکنا چاہتے ہیں کہ وہ عرب جماعتوں کی حمایت سے اقلیتی حکومت تشکیل دے کر انہیں اقتدار سے بے دخل کر سکتے ہیں۔
رائخ مین یونیورسٹی کے شعبۂ سیاسیات کے پروفیسر ایتان گل بوا نے کہا، ’’نیتن یاہو کا مقصد عربوں اور یہودیوں کے درمیان کسی بھی طرح کے تعاون کو ناجائز قرار دینا ہے۔‘‘
انتخابات میں کسی بھی اتحاد کو واضح اکثریت حاصل نہیں
منگل کو ہونے والے سخت مقابلے کے بعد انتخابی نتائج میں کوئی واضح فاتح سامنے نہیں آیا ہے۔ امکان ہے کہ نئی حکومت کی تشکیل کے لیے کئی ہفتوں تک طویل مذاکرات جاری رہیں گے۔
تقریباً 99 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد نیتن یاہو کے قوم پرست اور مذہبی جماعتوں پر مشتمل اتحاد کو گادی آئزن کوٹ کی قیادت والے دائیں بازو اور مرکزِ بائیں بازو کی جماعتوں کے اتحاد پر معمولی برتری حاصل تھی۔ تاہم دونوں اتحاد پارلیمنٹ میں اکثریت کے لیے درکار 61 نشستوں سے پیچھے ہیں۔
اسرائیل کی 21 فیصد عرب اقلیت کی نمائندگی کرنے والی جماعتوں کو ریکارڈ 19 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ اس صورت حال میں آئزن کوٹ کے اتحاد کے لیے، جس کے پاس 48 نشستیں ہیں، عرب جماعتوں کی وسیع حمایت کے بغیر حکومت بنانا ممکن نہیں ہوگا۔ اس کے مقابلے میں نیتن یاہو کے اتحاد کو 53 نشستیں حاصل ہیں۔
آئزن کوٹ اب تک عرب جماعتوں کو اپنی حکومت میں شامل کرنے کے امکان کو مسترد کرتے رہے ہیں، تاہم ان کا اتحاد عرب جماعتوں کی بیرونی حمایت سے اقلیتی حکومت تشکیل دینے کی کوشش کر سکتا ہے۔
حکام کے مطابق انتخابی شفافیت کو منظم طور پر نقصان نہیں پہنچا
عرب جوائنٹ لسٹ پارٹی کے رہنماؤں میں شامل احمد طیبی نے کہا کہ نیتن یاہو نے عرب جماعتوں کے خلاف ایک ’’زہریلی مہم‘‘ شروع کر رکھی ہے۔انہوں نے کہا، ’’یہ پوری مہم آئزن کوٹ کے خلاف ہے، تاکہ انہیں ڈرایا دھمکایا جائے اور اس حکومت کی تشکیل سے روکا جائے جسے جوائنٹ لسٹ یا رعام پارٹی کی بیرونی حمایت حاصل ہو سکتی ہے۔‘‘
منگل کے انتخابات کے دوران اور اس کے بعد نیتن یاہو اور ان کے اتحادیوں نے عرب ووٹروں کی بڑھتی ہوئی تعداد پر تشویش ظاہر کی تھی۔ ان کی دائیں بازو کی جماعت لیکوڈ نے بھی بیانات جاری کرتے ہوئے عرب جماعتوں پر ’’ووٹ چرانے‘‘ کا الزام لگایا تھا۔
لیکوڈ نے پولیس اور داخلی خفیہ ایجنسی شن بیت سے مطالبہ کیا تھا کہ عرب قصبوں کے پولنگ مراکز پر ووٹروں کو رشوت دینے اور دھمکانے کے مبینہ واقعات کی تحقیقات کی جائیں۔ پارٹی کا کہنا تھا کہ اس کے پاس ایسی سرگرمیوں کے ثبوت موجود ہیں، تاہم انہیں اب تک عوام کے سامنے پیش نہیں کیا گیا۔
پولیس کے مطابق منگل کے بعد سے اسرائیل کے جنوبی علاقوں میں کم از کم سات افراد کو انتخابی دھاندلی کے شبہے میں گرفتار کیا گیا ہے۔ ان علاقوں میں عرب آبادی کی بڑی تعداد رہتی ہے۔
جمعرات کو اسرائیل کی مرکزی انتخابی کمیٹی کے سربراہ اور سپریم کورٹ کے جج نوم سولبرگ نے کہا کہ انہوں نے شن بیت سے ان شبہات کی تحقیقات کرنے کی درخواست کی ہے کہ نامعلوم غیر ملکی عناصر نے انتخابات میں مداخلت کی کوشش کی تھی۔
لیکوڈ نے سولبرگ کی درخواست کو بنیاد بناتے ہوئے اسے اسرائیلی جمہوریت پر حملہ قرار دیا۔ پارٹی نے الزام لگایا کہ اس کے پیچھے ’’اسرائیل کو اسلامائز کرنے اور دائیں بازو کو اقتدار سے ہٹانے کی کوشش‘‘ کارفرما ہے، جس کا مقصد اسرائیلی فوج کی واپسی اور تمام محاذوں، بالخصوص ایران کے خلاف شکست کی راہ ہموار کرنا ہے۔
لیکوڈ نے دعویٰ کیا کہ قطر انتخابی عمل میں مبینہ مداخلت کے پیچھے ہے، تاہم قطر نے اس الزام کی تردید کی ہے۔
رعام پارٹی کے سربراہ منصور عباس نے کہا کہ ان کی جماعت کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں ہے اور انہوں نے مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
عباس نے ایک بیان میں کہا، ’’عرب شہریوں کے خلاف اشتعال انگیزی اور انہیں غیر معتبر قرار دینے کی نیتن یاہو کی مہم کے جواب میں ہمارا صرف ایک پیغام ہے کہ اس سے کچھ حاصل نہیں ہوگا، کیونکہ ان الزامات میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔‘‘
مرکزی انتخابی کمیٹی نے ایک رکن پارلیمنٹ کو بھیجے گئے خط میں، جسے بعد میں عام کیا گیا، واضح کیا کہ اس دعوے کی کوئی بنیاد نہیں ہے کہ انتخابات کی شفافیت کو منظم طور پر نقصان پہنچایا گیا۔
شن بیت نے کہا کہ اس کی تحقیقات صرف مبینہ طور پر ملوث افراد تک محدود ہیں اور اس کا مقصد اس پوری برادری کو شک کے دائرے میں لانا نہیں ہے جس نے جمہوری اور قانونی طریقے سے اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کیا۔
اسرائیلی صدر: پوری برادری کو بدنام نہیں کرنا چاہیے
2021 میں نیتن یاہو کو اقتدار سے ہٹانے والے اتحاد نے اسرائیل کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک عرب جماعت رعام کی حمایت حاصل کی تھی، جس کی جڑیں اسلام پسند سیاست میں ہیں۔ تاہم، اس بار آئزن کوٹ کے اتحاد کو عرب اکثریتی جوائنٹ لسٹ کی حمایت درکار ہوگی، جس میں ایک واضح طور پر صہیونیت مخالف جماعت بھی شامل ہے۔
آئزن کوٹ نے ایک بیان میں کہا کہ انتخابات میں ممکنہ بیرونی مداخلت کی تحقیقات سیاست دانوں کی مداخلت کے بغیر ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا، ’’لیکوڈ اور نیتن یاہو نے انتخابی نتائج کو غیر معتبر قرار دینے کے لیے ایک منظم مہم شروع کر دی ہے۔‘‘
ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد صدر اسحاق ہرزوگ سیاسی جماعتوں کے سربراہوں سے مشاورت کریں گے اور اس امیدوار کو حکومت بنانے کی دعوت دیں گے جس کے بارے میں ان کا خیال ہوگا کہ وہ اس کام میں کامیاب ہو سکتا ہے۔
صدر ہرزوگ نے جمعرات کو کہا کہ انتخابی مداخلت سے متعلق الزامات کی تحقیقات ہونی چاہیے۔ تاہم انہوں نے ساتھ ہی خبردار کیا کہ کسی ایک پوری برادری کو نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا، ’’لیکن اس طرح کے وقت میں بھی ہمیں کسی پوری برادری کو بدنام نہیں کرنا چاہیے، جس نے اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کرنے اور جمہوریت میں فعال کردار ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔‘‘
رپورٹ میں سنان ابو مایزر، اسٹیون شیر، پیشا میگڈ اور للی بائر کی اضافی معلومات شامل ہیں۔ تدوین: رامی ایوب، ایڈن لیوس اور ہیو لاسن۔