کٹھمنڈو: نیپال کے وزیر اعظم بالیندر شاہ نے بدھ کے روز عوام سے اپیل کی کہ وہ بدعنوانی، بدانتظامی، سرکاری کاموں میں تاخیر، عدم مساوات اور سیاسی انتشار کے خلاف متحد ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں حقیقی اور بامعنی تبدیلی لانے کے لیے اجتماعی کوششوں کے ساتھ ساتھ سوچ اور طرزِ عمل میں تبدیلی بھی ضروری ہے۔ نیپال کے اہم ترین تہوار بَڑا دشیں یا وجے دشمی کے موقع پر عوام کو مبارک باد دیتے ہوئے وزیر اعظم نے ایسا ماحول بنانے پر زور دیا، جس میں ہر شہری کو یہ احساس ہو کہ حکومت اس کی خدمت کے لیے ہے۔
شاہ نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ برائی پر اچھائی کی جیت کی علامت وجے دشمی سے سبق لیتے ہوئے بدعنوانی، بدانتظامی، سرکاری کاموں میں تاخیر، عدم مساوات اور سیاسی خرابیوں کے خلاف جدوجہد کریں۔ انہوں نے کہا، ’’ہمیں ان برائیوں کو ختم کرنے کے لیے متحد ہونا چاہیے اور یہ یقینی بنانا چاہیے کہ ہر شہری کو محسوس ہو کہ حکومت اس کے لیے کام کر رہی ہے۔ ہم ایماندارانہ کوششوں، پختہ عزم اور مشترکہ محنت کے ذریعے ان مسائل پر قابو پاسکتے ہیں۔ تبدیلی لانے کے لیے ہمیں نہ صرف اپنی سوچ بلکہ اپنے طرزِ عمل کو بھی بدلنا ہوگا۔‘‘
وزیر اعظم نے لوگوں سے تشدد اور امتیازی سلوک سے دور رہنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے خیر سگالی، باہمی احترام اور اجتماعی کوششیں ضروری ہیں۔ شاہ نے کہا کہ دشیں کا تہوار مختلف طبقوں، برادریوں اور علاقوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو ایک ساتھ لاتا ہے۔ جغرافیائی، ثقافتی اور لسانی تنوع کے حامل نیپال میں یہ تہوار اتحاد اور ہم آہنگی کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تہوار برسوں سے بچھڑے دوستوں اور رشتہ داروں سے دوبارہ ملنے اور آپسی محبت و تعلقات کو مضبوط کرنے کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔
وزیر اعظم نے نیپال اور بیرون ملک رہنے والے نیپالی شہریوں کے لیے خوشی، امن اور خوش حالی کی دعا کی۔ دریں اثنا، نیپال میں بدھ کے روز بَڑا دشیں تہوار کا دسواں دن منایا جا رہا ہے۔ اس موقع پر لوگ اپنے بزرگوں سے آشیرواد لیتے ہیں، ماتھے پر تلک لگواتے ہیں اور ’جمرا‘ حاصل کرتے ہیں۔ جمرا سے مراد جَو کے اگائے گئے کونپل ہیں، جنہیں اس تہوار میں خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ سرخ تلک کو خوش بختی اور فتح کی علامت سمجھا جاتا ہے، جبکہ جمرا خوش حالی کی علامت ہے۔ دونوں کو دیوی نو درگا کے آشیرواد کی مبارک نشانیوں کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ کٹھمنڈو کے ہنومان ڈھوکَا اولڈ پیلس میں واقع دشیں گھر اور ملک بھر کے ہندو خاندانوں میں گزشتہ نو دن سے جاری شری درگا بھوانی کی پوجا وجے دشمی کے دن مقررہ مذہبی رسومات کے ساتھ باضابطہ طور پر مکمل ہوتی ہے۔