ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین کی پاکستان کے سیاسی اور فوجی نظام پر تنقید

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 04-11-2026
ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین کی پاکستان کے سیاسی اور فوجی نظام پر تنقید
ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین کی پاکستان کے سیاسی اور فوجی نظام پر تنقید

 



لندن: متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے بانی الطاف حسین نے پاکستان کے سیاسی اور فوجی نظام پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ ملک میں آنے والی مختلف منتخب حکومتیں اور جمہوری ادارے فوجی جرنیلوں کے اثر و رسوخ اور دباؤ میں کام کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے پاکستان کی جمہوری خودمختاری اور سیاسی نظام کی آزادی پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ الطاف حسین نے یہ باتیں سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے متعدد بیانات میں کہی ہیں۔

اپنے ایک بیان میں الطاف حسین نے سیاسی جماعتوں کے منشور اور انقلابی تحریکوں کے نظریات کے درمیان فرق واضح کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی جماعتوں کے منشور عموماً اپنے اپنے ملکوں تک محدود ہوتے ہیں جبکہ حقیقی نظریاتی تحریکیں جغرافیائی سرحدوں کی پابند نہیں ہوتیں۔ان کے مطابق سیاسی جماعتیں اپنے ملک کی ترقی اور عوامی فلاح و بہبود کو سامنے رکھتے ہوئے منشور تیار کرتی ہیں اور انتخابی مہم کے دوران اپنے ایجنڈے کو عوام کے سامنے پیش کرتی ہیں۔ اس کے برعکس ایسی نظریاتی تحریکیں جو نظام میں بنیادی تبدیلی لانا چاہتی ہیں ان کا دائرہ کار قومی سرحدوں تک محدود نہیں رہتا۔

الطاف حسین کا کہنا تھا کہ نظریاتی تحریکوں کا مقصد جابرانہ سیاسی نظام اور طرز حکمرانی کو چیلنج کرکے بنیادی ڈھانچے میں تبدیلی لانا ہوتا ہے اور یہ مقصد جغرافیائی حدود سے بالاتر ہوتا ہے۔

پاکستان کے جاگیردارانہ اور موروثی نظام پر اعتراض

پاکستان کے سیاسی ڈھانچے پر تنقید کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے بانی نے الزام لگایا کہ ملک کے قیام سے اب تک فرسودہ جاگیردارانہ اور موروثی نظام برقرار ہے جس پر چند بااثر خاندانوں کا غلبہ ہے۔انہوں نے قائداعظم محمد علی جناح سے لے کر موجودہ دور تک پاکستان کی سیاسی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ مختلف سیاسی جماعتیں اور اتحاد نیز صدور وزرائے اعظم اور سویلین حکومتیں فوجی جرنیلوں کے اثر و رسوخ دباؤ اور ترجیحات کے تحت کام کرتے رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والی قانون ساز اسمبلی کو اس وقت تک آزاد اور خودمختار پارلیمنٹ قرار نہیں دیا جاسکتا جب تک وہ اپنے اجتماعی فیصلے خود کرنے کی صلاحیت نہ رکھتی ہو۔الطاف حسین نے اپنے بیان میں کہا کہ اگر کسی منتخب قانون ساز ادارے کے اجتماعی فیصلے فوجی جرنیلوں کی ہدایات یا دباؤ کے زیر اثر ہوں تو اسے آزاد اور خودمختار پارلیمنٹ نہیں کہا جاسکتا۔انہوں نے اس مسئلے کو صرف پاکستان تک محدود نہیں رکھا بلکہ الزام لگایا کہ کئی دیگر ملکوں میں بھی منتخب حکومتیں فوجی اداروں کے تابع رہتی ہیں اور وہاں خارجہ پالیسی سے متعلق فیصلے منتخب پارلیمان کے بجائے فوجی قیادت کرتی ہے۔

عمران خان کی بہنوں اور خیبر پختونخوا کی صورت حال کا حوالہ

اپنے بیان میں الطاف حسین نے عمران خان کی بہنوں کی مبینہ قید اور خیبر پختونخوا کی سیاسی صورت حال کا بھی ذکر کیا جہاں ان کے مطابق پاکستان تحریک انصاف نے دو تہائی اکثریت سے حکومت قائم کی تھی۔انہوں نے الزام لگایا کہ صوبے کے منتخب وزیر اعلیٰ کو اغوا کیا گیا اور اس کے بعد وہاں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین آصف علی زرداری اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے وزیر اعظم شہباز شریف کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الطاف حسین نے دعویٰ کیا کہ گورنر راج کے نفاذ کے حکم نامے پر زرداری نے دستخط کیے تھے جبکہ اس اقدام کی تجویز شہباز شریف نے پیش کی تھی۔

انہوں نے مزید الزام لگایا کہ شہباز شریف کی حکومت فارم 47 کے ذریعے اقتدار میں آئی ہے۔ ان کے بقول پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) دونوں نے پاکستان اور اس کے عوام کے مفادات کے مقابلے میں اپنے خاندانی اور جماعتی مفادات کو ترجیح دی ہے۔الطاف حسین نے پاکستان تحریک انصاف کی قیادت پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ جماعت کے بیشتر رہنما اپنے اصولی موقف سے سمجھوتہ کرچکے ہیں۔

اپنے بیان کے اختتام پر ایم کیو ایم کے بانی نے ایک بار پھر پاکستان کے سیاسی نظام کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ حقیقی سیاسی اور نظریاتی تحریکوں کا کام روایتی جماعتی سیاست تک محدود رہنا نہیں بلکہ اقتدار کے مستحکم اور فرسودہ ڈھانچوں کو چیلنج کرکے بنیادی تبدیلی کی راہ ہموار کرنا ہے۔نوٹ: پاکستان کی سیاسی قیادت اور اداروں سے متعلق تمام الزامات الطاف حسین کے بیان سے منسوب ہیں۔ انہیں آزادانہ طور پر ثابت شدہ حقائق کے طور پر پیش نہیں کیا گیا ہے۔