اسرائیلی انتخابات میں مبینہ غیر ملکی مداخلت کی تحقیقات میں موساد بھی شامل

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 31-10-2026
اسرائیلی انتخابات میں مبینہ غیر ملکی مداخلت کی تحقیقات میں موساد بھی شامل
اسرائیلی انتخابات میں مبینہ غیر ملکی مداخلت کی تحقیقات میں موساد بھی شامل

 



یروشلم: اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد مبینہ طور پر حالیہ قومی انتخابات میں غیر ملکی مداخلت کے الزامات کی تحقیقات میں داخلی سلامتی کی ایجنسی شن بیت کی معاونت کر رہی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق تحقیقات کا دائرہ قطر تک محدود نہیں بلکہ اس میں دیگر غیر ملکی ممالک کے ممکنہ کردار کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔دی ٹائمز آف اسرائیل نے چینل 12 کی ایک غیر مصدقہ رپورٹ کے حوالے سے بتایا ہے کہ تحقیقات میں عرب ووٹروں کو پولنگ مراکز تک لانے اور ووٹنگ میں ان کی شرکت بڑھانے کے لیے مبینہ طور پر رقم کی ادائیگی کے الزامات شامل ہیں۔

تاہم اسرائیل کے مرکزی انتخابی کمیشن نے واضح کیا ہے کہ تحقیقات کا دائرہ محدود ہے اور اس سے انتخابات کے مجموعی نتائج پر کوئی سوال نہیں اٹھتا۔شن بیت نے جمعرات کو جاری بیان میں کہا کہ حالیہ انتخابات میں مبینہ ووٹوں کی خرید و فروخت سے متعلق معلومات کا تعلق غیر ملکی اثر و رسوخ کی مہمات کے بارے میں داخلی انٹیلی جنس سے ہے۔ اس کا کسی سیاسی جماعت یا سیاسی دھڑے سے تعلق نہیں ہے۔

ایجنسی کے مطابق انتخابی عمل مکمل ہونے تک انٹیلی جنس معلومات تک رسائی صرف داخلی سلامتی کے اہلکاروں اور مرکزی انتخابی کمیشن کے سربراہ جسٹس نوعم سولبرگ تک محدود تھی۔شن بیت نے کہا کہ وہ اپنے قانونی دائرہ اختیار کے اندر رہتے ہوئے کام کر رہی ہے اور تمام اقدامات پیشہ ور عملہ اور داخلی قانونی مشیر انجام دے رہے ہیں۔عرب ووٹروں کی شرکت بڑھانے کے لیے قطر سے مبینہ طور پر بڑی مالی رقوم فراہم کیے جانے کے الزامات پر ایجنسی نے کہا کہ تحقیقات محدود اور مخصوص نوعیت کی ہیں۔ اس کا مقصد جمہوری اور قانونی طریقے سے ووٹ ڈالنے والے کسی پورے طبقے کو مشتبہ قرار دینا نہیں ہے۔ ایجنسی کے مطابق صرف قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

شن بیت نے مزید بتایا کہ اس کے سربراہ ڈیوڈ زینی نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو۔ یاشار پارٹی کے سربراہ گادی آئزن کوٹ اور اپوزیشن لیڈر یائر لاپید کو تحقیقات کے بنیادی شبہات سے آگاہ کیا۔ یہ بریفنگ مرکزی انتخابی کمیشن کے سربراہ سولبرگ کی اجازت اور درخواست پر دی گئی۔

ایجنسی نے واضح کیا کہ تحقیقات ابھی جاری ہیں اور شبہات کی نوعیت سے متعلق کسی بھی بیان کو اس کا حتمی موقف نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد حتمی رپورٹ براہ راست سولبرگ کو پیش کی جائے گی جو اس معاملے میں مجاز فیصلہ ساز ہیں۔یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب انتخابات میں مبینہ بے ضابطگیوں اور غیر ملکی مداخلت کے الزامات پر سیاسی حلقوں میں بحث جاری ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے اس تنازع کو ’’زلزلہ‘‘ قرار دیتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ غیر ملکی عناصر نے عرب جماعتوں کے حق میں انتخابی عمل کو متاثر کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے صہیونی جماعتوں سے اپیل کی تھی کہ وہ رعم اور جوائنٹ لسٹ کے ساتھ تعاون نہ کریں۔قومی سلامتی کے وزیر اور اوتزما یہودیت پارٹی کے سربراہ ایتامار بن گویر نے بھی عرب جماعتوں کے رہنماؤں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا تھا اور مبینہ قطری رقم کے استعمال کا الزام لگایا تھا۔

دوسری جانب قطر نے اسرائیلی انتخابات میں مداخلت کے الزامات کو سختی سے مسترد کیا ہے۔ قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ بعض اسرائیلی سیاست دان اپنے داخلی سیاسی مفادات کے لیے قطر کا نام استعمال کر رہے ہیں اور اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے ووٹنگ پر اثر انداز ہونے کے لیے مالی معاونت کے الزامات کو بھی بے بنیاد قرار دیا۔

اسرائیل کی عرب سیاسی جماعتوں نے بھی انتخابات میں غیر ملکی مالی معاونت اور مداخلت سے متعلق الزامات مسترد کر دیے ہیں۔ادھر اسرائیل کے مرکزی انتخابی کمیشن نے قومی انتخابات کے حتمی نتائج جاری کر دیے ہیں۔ ان نتائج کے مطابق 26ویں کنیسٹ میں نشستوں کی تقسیم مکمل ہو گئی ہے۔ نئی کنیسٹ کا حلف برداری اجلاس 10 نومبر کو ہونا ہے۔دی ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ 27 نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری ہے جبکہ یاشار پارٹی نے 21 نشستیں حاصل کی ہیں۔ بی یاخاد کو 12 اور جوائنٹ لسٹ کو 11 نشستیں ملی ہیں۔

ڈیموکریٹس اور رعم نے 8۔8 نشستیں حاصل کیں۔ یسرائیل بیتینو۔ یونائیٹڈ تورہ جوڈازم اور اوتزما یہودیت کو 7۔7 نشستیں ملیں جبکہ شاس اور ریلیجس صہیونزم نے 6۔6 نشستیں حاصل کیں۔حتمی نتائج کے مطابق نیتن یاہو کے حامی اتحاد کو 53 نشستیں ملی ہیں جبکہ ان کے مخالف اتحاد کے حصے میں 48 نشستیں آئی ہیں۔ عرب جماعتوں نے مجموعی طور پر 19 نشستیں حاصل کی ہیں۔ حکومت بنانے کے لیے 120 رکنی کنیسٹ میں 61 نشستوں کی ضرورت ہے۔

انتخابات میں ووٹروں کی مجموعی شرح شرکت 77.9 فیصد رہی اور 57 لاکھ 16 ہزار 665 ووٹ ڈالے گئے۔ ریزروسٹس پارٹی کو 2.7 فیصد۔ پیپل آف اسرائیل کو 1.7 فیصد اور حریدی پبلک کو 0.2 فیصد ووٹ ملے۔ یہ جماعتیں 3.25 فیصد کی انتخابی حد عبور کرنے میں ناکام رہیں۔حتمی سرکاری نتائج 4 نومبر کو اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ کے حوالے کیے جائیں گے۔ اس سے قبل ممکنہ غلطیوں اور شکایات کا جائزہ لیا جائے گا۔ نومنتخب کنیسٹ کا حلف برداری اجلاس 10 نومبر کو مقرر ہے۔